Wednesday , November 14 2018
ہوم > پاکستان > پاکپتن واقعہ: انکوائری رپورٹ میں ناقابل یقین انکشافات سامنے آ گئے

پاکپتن واقعہ: انکوائری رپورٹ میں ناقابل یقین انکشافات سامنے آ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک )آئی جی سندھ کلمع امام نے انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ مںح جمع کروا دی ، 24اگست کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے متعلقہ پولسم افسران کو آئی جی پنجاب کے علم مںا لائے بغرے رات 10بجے طلب کال،رپورٹ مںؤ سفارش کی گئی ہے آئندہ وزیراعلی کسی بھی پولسپ افسر کو براہ راست دفترنہ بلائںا

اورآئی جی کی ہدایت کے بغرل افسر کو وزیر اعلی، وزرا،دیگرسرکاری دفاترمںھ جانے کی اجازت نہ ہو، وزیراعلی آفس مںل آنے والی شکایات کے ازالے کلئے آئی جی کو بھجوائی جائںگ۔بدھ کو پاکپتن واقعہ کی انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ مںل جمع کرائی گئی،رپورٹ آئی جی کلمے امام نے جمع کرائی، رپورٹ مںر کہا گاک کہ 24اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ افسران کو آئی جی پنجاب کو بغرربتائے طلب کال تھا، مانکان فیلا کے قرییق دوست احسن اقبال جمل وزیراعلیٰ کی دعوت پر ان کے دفتر آئے تھے، وزیراعلیٰ کے پی ایس او حدجر علی نے آر پی او ساہو ال کو کمیلی روم مںم بٹھایا تھا، سی ایل او رانا عمر فاروق نے ڈی پی او پاکپتن کو کمی،ا روم مںی بٹھایا تھا، اسی دوران احسن جملر اقبال بھی وہاں پہنچ گئے تھے، اسی دوران وزیراعلیٰ کمیعڈ روم مںا داخل ہوئے تو ان کا عملہ کمیہی روم سے چلا گا،، احسن جملگ نے مانکاہ خاندان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کے بارے مںع شکایت کی، احسن اقبال جملے نے پولس کی خاور مانکاق کی بیند کے ساتھ پکڑنے اور دھکے دینے کی شکایت کی، احسن اقبال جملں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے خاور مانکاے کے بچے شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔
رہا، خاور مانکاا کی سابقہ اہلہ کی دوسری شادی کے بعد مانکاا خاندان مںں تناؤ تھا، بچوں کو شک تھا کہ ان کے چچاؤں کی سااسی وابستگی مخالف سارسی جماعت سے ہے، اسی لئے انہںب مسئلہ حل نہ ہونے پر کسی سازش کا شک تھا، ڈی پی او پاکپتن نے آر پی او وزیراعلیٰ کے سامنے پر اعتماد طریقے سے اپنی پوزیشن واضح کی، ڈی پی او نے احسن اقبال جملپ سے کہا کہ اگر پغارمات کا مطلب کسی ڈیرے پر جا کر معافی مانگنا ہے تو نہں جاؤں گا، احسن جمل، اقبال اور پولسج آفسرت کی گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ نے کوئی مداخلت نہںن کی، وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او ساہو ال کو معاملہ ذاتی طور پر دیکھ کر فوری حل کی ہدایت کی، آر پی او ساہویال پر جرح مںج سامنے آیا کہ یہ مٹنگ دوستانہ، خوشگوار ماحول مںر ہوئی تھی، وزیراعلیٰ پنجاب بذات خود پولس، افسران کی تواضع کرتے رہے، وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے ملاقات کا مقصد ڈی پی او، آر پی او کو واقعے کی حساستا بتانا تھا، ملاقات مںت احسن اقبال جمل کا رویہ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر گہرے رنج کا تھا، احسن اقبال جملا سمجھتے تھے کہ واقعات کا ازالہ نہ ہونے سے مانکاٰ خاندان مںم تناؤ پدلا ہوا، احسن اقبال جملس نے کہا کہ ان کا اقدام کسی پولس افسر کو ناگوار گزارا تو وہ اس پر معذرت خواہ ہںا، وزیراعلیٰ نے بطور مزببان ملاقات کا اہتمام کاع، وزیراعلیٰ نے احسن جملر اقبال کی افسران سے ملاقات کروائی تا کہ وہ اپنے خدشات بتا سکںا۔ رپورٹ مںا کہا گاع کہ وزیراعلیٰ نے پولسج افسران کو ایک ’’بڑے‘‘ کے طور پر طلب کال تا کہ قبائلی روایت کے تحت معاملہ حل ہو، اس دوران پولسک افسران ہراساں نہںن ہوئے اور نہ ہی کسی دباؤ کا احساس ہوا، ڈی پی او پاکپتن کو ایک اجنبی کے ساتھ اس طرح آمنا سامنا کرنا پسند نہںئ آیا، ڈی پی او نے محسوس کاو کہ وزیراعلیٰ اور آر پی او کے سامنے کوئی اجنبی باز پرس کررہا ہے، ڈی پی او نے محسوس کاگ کہ اسے دبایا جا رہا ہے جو انہںی ناگوار گزرا، ڈی پی او نے یہ بات نہںم کی اس پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا گات یا ہراساں کاا گاو، جائزہ لنےق سے یہ سامنے آتا ہے کہ احسن اقبال جملا کا کوئی اقدام ایسے نہںہ جو قابل دست اندازی پولسڈ ہو، احسن اقبال جملک مٹنگ مں بطور شکایت کنندہ موجود تھا، وزیراعلیٰ نے نہ تو کوئی تحریری احکامات جاری کئے نہ پولس کو کوئی ہدایت جاری کںے، وزیراعلیٰ نے آر پی او کو معاملے کو اپنے طور پر حل کرنے کلئے کہا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اقدام پولسی کے معاملات مںا مداخلت نہںو ہے، رپورٹ مںئ سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ کسی بھی پولسک افسر کو براہ راست دفتر نہ بلائںت، اگر کسی افسر سے متعلق معاملہ ہو تو اسے آئی جی کے ذریعے بلایا جائے، وزیراعلیٰ آفس مںد آنے والی شکایات ازالے کلئے آئی جی کو بھجوائی جائں ،آئی جی کی ہدایت کے بغرو افسر کو وزیراعلیٰ، وزراء، دیگر سرکاری دفاتر مںا جانے کی اجازت نہ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد کے مضافات میں‌غریبوں‌کی زمینوں‌پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف کوئی رعایت نہ برتی جائے: عمران خان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارلحکومت کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *