Wednesday , November 14 2018
ہوم > کالم > مینڈک۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔پیرعثمان خالد

مینڈک۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔پیرعثمان خالد

آج شام جب میں نہانے کی غرض سے واش روم گیا تو کیا دیکھا کہ ایک ٹونٹی کھلی ہوئی تھی ،پانی چونکہ ایک نعمت ہے لہذا سوچا کہ اسے بند کردوں ، نہ جانے کون کمبخت ہر روز نل کھلا چھوڑ جاتا ہے ، کل بھی میں نل بند کرنے آیا تھا تو ادھر پھسل کر میرا منہ بیسن میں لگا تھا، اور پرسوں تو میں شیمپو سمجھ کر جام شیریں بالوں میں ملتا رہا تھا۔ شاید نیند میں تھا، یا مجھے شیمپو اور شیریں کی بوتل میں فرق سمجھ نہ آیا تھا، خیر میں نے ہر جتن کیا مگر وہ ٹونٹی بند نہ ہوئی، پھر میں نے سوچا کہ کوئی اینٹ اُٹھا لاتا ہوں وہ اس پر رکھوں گا تو شاید افاقہ ہو؟ لہذا اینٹ کی تلاش میں نکل پڑا، راستے میں “ٹُھڈا ” آیا پینٹ چونکہ لمبی تھی تو اس لئے پاؤں کا انگوٹھا اس میں اُلجھا پائنچہ “چرر ” کی آواز سے پھٹ گیا، میں پھر بھی بضد رہا کہ ٹونٹی تو اب بند ہو کر رہے گی ، آگے بڑھا نیچے فسٹ فلور پر آیا تو ادھر بھی کیچڑ والا پانی تھا ادھر سے بچنے کی لاکھ کوشش کی مگر اس مرتبہ ایسا پھسلا کہ تشریف سیدھی نیچے لگی اور دونوں ٹانگیں آگے کو جلدی سے نکل گئیں ، ہاۓ شومئی قسمت ، ایک تو قد چھوٹا اوپر سے یہ زلُال، ہوش کیا تو پتہ چلا کہ ہاتھ میں جو موبائل تھا وہ بھی کھسک کر پانی میں جا گرا ہے ۔ لو کر لو ٹوٹی بند، ادھر لوٹے والابھی پانی گیا ۔ خیر میں نے دیکھا کہ میرا دوست یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔ وہ ایک طرف کھڑا دانت نکال رہا تھا ۔ مجھے کہنے لگا کہ اسی طرح پڑے رہو ، مجھے ایک سیلفی لینی ہے ۔ تمُ نے بلکل مینڈک کی طرح چھلانگ لگائی ہے، ایک منٹ کے لے صرف ۔۔۔۔میں یہ فوٹو وٹس ایپ سٹیٹس پر لگاؤں گا۔ ‘
ہیں ۔۔۔!میں نے حیرت کا اظہار کیا ، یہ کیسا دوست ہے میرا دوست بجائے میرا حال پوچھنے کے سیلفیاں بنا رہا ہے ، میں نے چلاتے ہوئے کہا ! اوہ کمود کچھوے ! بے سرے فوٹو گرافرکہیں کے کسی مینڈک کے ساتھ جا کر فوٹو سیشن کروا لے،ٹھیٹھ انسان اپنی مونچھیں دیکھ ذرا ایسی ہیں کہ گویا گھونسلا ہو،اور کان تو بلا خیز ہیں،،بالکل چوہے جیسے لمبے ۔۔۔۔۔ میں نے نیچے پڑے پڑے ہی کھری کھری سنا دیں۔ بس جی خدا کا شکرہے کہ اس نے مجھے اس قدر حاضر دماغ اور زیرک بنا دیا ، بس کبھی غور نہیں کیا ،غرور نہیں کیا جی۔۔۔۔ پھر میں نے علامہ اقبال کا ایک بر محل شعر داغا،، تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں ۔۔۔۔
موصوف نے ہٹ دھرمی سےدُھرلاکھ مبارک دی اور کہا جناب آپ اب اٹھ بھی جاؤ یا ادھر ہی رات گزارنے کا ارادہ ہے ،؟ میں نے کہا جی میٰں تشریف لاتا وہوں بس ۔پھر ہمت باندھ کر اٹھا۔۔۔۔
میں نے اُسے بتایا کہ میں تو ٹونٹی بند کرنے نکلا تھا ، ٹونٹی تو بند نہ ہوئی اور نہ ہی میں اینٹ لانے میں کامیاب ہوا،لیکن تجھے وٹس ایپ کی لیے ایک فوٹو تو مل گیا،،،
بقول نطشےکہ” سانپ بھی نہیں مرا اور لاٹھی بھی ٹوٹ گئی۔”
میرا دوست بہت چالاک تھا لہذا اوپر گیا آور جلدی سے جا کر اس ٹونٹی کو ہاتھ سے مروڑا
خیر وہ بھی ضد کی پکی تھی بند نہ ہوئی اور ٹوٹ کر اُس کے ہاتھ میں آگئی،
وہ مکمل طور پر بھیگ چکا تھا
اور اب خود بھیگی بلی کی طرح ناکام کھڑا تھا۔۔
میں منتقم مزاج تو نہ تھا لیکن آج قدرت نے خود ہی میری عزت کی لاج رکھ لی تھی اور میں خنداں تھا کہ کم از کم ایک اور مہرہ تو گرا۔۔۔۔۔۔ اب پیادے بھی بادشاہ کو گرایا کریں گے، بس آپ کسی سےمذاق تو کیجئےتو آپ کی باری آئی ۔۔۔۔۔۔ یہ مکافات عمل ہے بھئی۔۔۔۔۔ مکافات عمل۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *