Wednesday , November 14 2018
ہوم > کالم > دل کے ارماں اورلاہورمیں دل کاہسپتال۔۔۔محمدمناظرعلی

دل کے ارماں اورلاہورمیں دل کاہسپتال۔۔۔محمدمناظرعلی

ہمارے ہاں احساس ذمہ داری کی بہت کمی ہے،چاہے کسی کی بھی مثال لے لیں،کسی محکمے،کسی شعبے اورکسی بھی طبقے کودیکھ لیں،شایدیہی وجہ ہے کہ ہم ترقی کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں،سرکاری نوکری حاصل کرنے والے بہت سے ایسے افرادبھی ہیں جو یہ سوچ کرجاتے ہیں کہ یہ پکی نوکری ہے اورکام بھی کم کرناپڑتاہے،غلطیاں کرتے بھی رہیں توزیادہ سے زیادہ تبادلہ ہوجائے گا،نوکری توپکی رہ جائے گی،،نوکری سے نکالے جانے پربھی آپ کے پاس بہت مواقع ہوتے ہیں،انکوائری میں جھوٹ کوسچ بنالویاپھربات عدالت چلی جائے گی،کچھ عرصہ کیس چلے گا،اچھا وکیل ہوگاتوعدالت کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنا کون سا مشکل کام ہے؟
کچھ دن پہلے مجھے دل میں تکلیف ہوئی تومیں چونک گیااورفورا لاہورکے پی آئی سی میں پہنچ گیا،نیاایمرجنسی بلاک بننے سے اس کی حالت پہلے سے بہترنظرآئی کیوں کہ نئی نویلی عمارت توظاہرہے آنے والے بندے پراچھاہی تاثرڈالتی ہے،ریسیپشن پرپہنچا جہاں دو نوجوان تشریف فرماتھے،میں چونکہ خودہی مریض تھااس لیے تکلیف کے باوجودخودہی پرچی لینامجبوری تھی حالانکہ ایمرجنسی میں ایساہونانہیں چاہیے،بحرحال یہ الگ موضوع ہے کہ پرچی کاطریقہ کارکیاہوناچاہیے۔خیرایک صاحب اپنے رجسٹرکے اوراق اُلٹ پلٹ رہے تھے تودوسرے موصوف ہسپتال کی ہی ایک نرس کے بچے سے پیارفرمارہے تھے،میں نے اخلاقاتھوڑا سا انتظارکیاکہ ہوسکتاہے کہ اس کی فیملی کسی مجبوری میں آئی ہواوریہ کوئی ضروری بات کررہے ہوں ،مگران کی گفتگوختم نہیں ہوئی ،پانچ منٹ گزرگئے تومیں نے ڈرتے ڈرتے موصوف کواحترام کیساتھ اپنی طرف توجہ دینے کی عرض کی مگرمجھے جواب کچھ مناسب نہیں ملا،ان کی گفتگو جاری رہی ،پاس کھڑی خاتون نے بھی اسے پرچی دینے کاکہاکہ پیشنٹ کوپرچی تودوپہلے، مگروہ گپ شپ ختم کرنے کا نام نہیں لے رہاتھااورمجھے تکلیف تیزہونے لگی،پھرمیں نے قدرے زورسے کہاکہ بھائی پہلے پرچی بنادوتاکہ میں اس قطارکے بعداگلی قطارمیں لگ سکوں،خیراس نے گپ شپ ختم کرکے پہلے واٹس ایپ کے دوتین میسج دیکھے،ان پر رپلائی کیا،پھرواٹس ایپ کاسٹیٹس دیکھا،پھرمسکرایا،پھرفیس بک پرکلک کیا،تین چار لائیکس کیے،پھرموبائل پرآنے والا ایک میسج پڑھااورپھرایک کال ملائی،فون کان پرلگایااورمیری طرف منہ کرکے میرانام،پتہ،عمرایک کاغذپرلکھ کرمجھے اگلی قطارمیں لگنے کااشارہ کردیا۔۔۔یہ ہے ہمارے دل کے ہسپتال کی ایمرجنسی کانیابلاک جس کی ریسیپشن پربیٹھے ملازم کی ذمہ داری کااپ خود ہی اندازہ لگالیں۔

اب اس کے بعداگلامرحلہ شروع ہوگیاجہاں پرای سی جی کرانے والوں کی لمبی قطارلگی تھی جس میں میری عمرکے کم لوگ تھے،زیادہ ترعمررسیدہ خواتین وحضرات تکلیف سے نڈھال تھے مگرای سی جی کی لمبی قطارمیں لگنے پرمجبورتھے،ای سی جی کرانابھی ضروری ہے تاکہ آپ کے دل کی ابتدائی کیفیت سے ڈاکٹرآگاہ ہوسکے،اس دوران مجھے بہت سی نرسیں اوردیگرسٹاف ادھراُدھرجاتے نظرآرہاتھا مگرکسی کوبھی موبائل فون کے بغیرنہیں دیکھا،ہربندے کے ہاتھ میں موبائل تھا،کوئی فیس بک استعمال کررہاتھا توکوئی واٹس ایپ،کسی کاپیکج ختم ہوگیاہوتووہ میسج کررہاہو یاپھرکینڈی کرش کھیلتے کھیلتے آگے بڑھ رہاتھا۔۔اللہ اللہ کرکے پچیس تیس لوگوں کے بعدمیری باری آئی مجھے ایک بسترپرلٹادیاگیا جہاں پرای سی جی کامرحلہ مکمل ہوا،میں نے پرچی لے کرایک ملازم سے پوچھا کہ بھائی اب کس قطارمیں کھڑاہوناہے،انہوں نے کہاکہ اب دوسرے کمرے کیلئے ایک الگ قطارلگی ہے اس کے آخرمیں تشریف لے جائیں،میں نے جب خود سے زیادہ پریشان حال ضعیف العمرافرادقطارمیں دیکھے تومیں چپ کرکے قطارمیں کھڑاہوگیا کیوں کہ میں اپناتعارف کراکران کاحق نہیں چھیننا چاہتاتھا،خیریہ قطاربھی ختم ہوئی جس کے آخرمیں ایک ڈاکٹرصاحب نے مجھے میری کیفیت کے حساب سے دوائی لکھ کردی ،یہاں خلاف توقع ڈاکٹرصاحب کے ہاتھ میں موبائل نہیں دیکھااوروہ خاصا خوش اخلاق اورتسلی سے چیک اپ کرتادکھائی دیا۔۔

یہاں سے پرچی لے کرپھرپوچھاتوپتہ چلاکہ اب ایک اورقطارمیں کھڑے ہوجائیں جودوائی لینے کے لیے ہے،ایک بارخیال آیاکہ پرائیویٹ سٹورسے لے لوں مگریہ سوچ کرلائن میں لگ گیاکہ کہیں یہ دوائی باہرسے نہ ملی توپھراسی لائن میں لگناپڑے گا،عزت اسی میں ہے کہ چھپ کرکے کھڑاہوجاؤں ۔۔مختصریہ کہ یہاں بھی ایک کمرے تک پہنچ کردونرسوں سے سامنے ہوا،ایک نرس تو ویسے ہی بیٹھی تھی جسے شاید کوئی ذمہ داری نہیں ملی ہوئی تھی یاپھروہ مہمان تھی،وہ اپنے آئی فون پرکچھ کررہی تھی،دوسری نرس کے ایک ہاتھ میں اینڈرائیڈموبائل تھا جس سے وہ کبھی سوشل میڈیاپراپنی انٹری ڈالتی توکبھی مریض کوانجکشن لگاتی،مجھے توایسالگ رہاتھا جیسے وہ پورے دھیان سے موبائل استعمال کررہی ہے اورپوری بے دھیانی سے مریض اٹینڈکررہی ہے۔خیرمیں نے اس سے کوئی بات نہیں کی،اپنی پرچی آگے کی جس پراس نے ڈاکٹرکی ہدایت کےمطابق عملدرآمدکیا،یاپھر بے ساختہ ہی سب کچھ ہوگیا،یہ وہ جانے یا اس کا خدا،،،ہسپتال نماموبائل کی اس دنیامیں جاکرمجھے اپنی تکلیف بھول گئی اور روزانہ ہزاروں ان کامریضوں کی فکر لگ گئی جو پنجاب کے دور درازعلاقوں سے یہاں دوا لینے آتے ہیں جنہیں شفاکی بجائے دغامل رہاہے۔۔موجودہ حکومت کے حامی میرے دوست مجھے کہتے ہیں کہ نظام اتناخراب ہے کہ بدلنے میں وقت لگے گا مگردل کے ہسپتال میں جاکرمیرے دل میں یہی خیال آرہاہے کہ نظام بدلنے میں توواقعی وقت لگے گامگرایک حکم جاری کرنے میں کتنا وقت لگا؟؟؟ کہ دوران ڈیوٹی موبائل فون کااستعمال قطعاممنوع ہے،ہرادارے میں اب مانیٹرنگ سسٹم ہے جوبھی دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرے اسے فورا قانون کے مطابق سبق سکھائیں اورہسپتال جیسی انتہائی حساس جگہ پرجہاں لوگوں کی جانیں عملے کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں،ذرا سی لاپرواہی پرکسی کی جان بھی جاسکتی ہے توپھرابھی تک ایساکیوں ہے؟ حالانکہ پنجاب کی وزیرصحت خود ایک تجربہ کاراورذمہ دارمعالج ہیں،ان سے بہترہسپتالوں کے مسائل کون سمجھ سکتاہے ،ڈاکٹریاسمین راشد سے لوگوں کواچھی توقعات ہیں مگروہ بھی اگرسب اچھا کی رپورٹ سے آگے نہ بڑھ سکیں توعوام انہیں دعانہیں دے گی بلکہ ان کاحشربھی وہی ہوگاجووقت نے پچھلوں کاکیاہے۔۔
وزیراعظم عمران خان اوروفاقی وصوبائی صحت کے محکمے یقینااپنے طورپرحکمت عملی بنارہے ہوں گے مگرملازمین کی غیرذمہ داری ختم کرنے کیلئے بھی کچھ سخت قواعد وضوابط بناناہوں گے تاکہ عوام کوصحیح معنوں میں ریلیف مل سکے اوران کے دل کے ارماں پورے ہوں،کہیں آنسوؤں میں نہ بہہ جائیں۔۔

یہ بھی دیکھیں

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *