Wednesday , January 16 2019
ہوم > کالم > میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

میلاد البنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:۔عثمان خالد

اس بار گھر سے واپس آتے ہوئے جب میں سڑک پر تیز گام کی طرح آ رہا تھا، میں اکیلا گھر سے نکلا تھا ۔جب قصور روڈ پر آیا تو بائیک کی اسپیڈ 100 کر دی ۔ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہ تھی تمام گزرے دنوں کی باتیں میرے سینے میں چھید کر رہی تھیں ، بار بار مجھ پر تنقید کرنے والوں کے چہرے میری آنکھوں کے سامنے آنے لگے، میں سوچ رہا تھا کہ ان گزرے دنوں میں کیا کچھ اچھا کیا ، کچھ خاص نہ کر سکا۔۔۔۔اسی طرح ریس اور زیادہ کر دی مگر سپیڈ پہلے ہی حد سے زیادہ تھی مزید تجاوزنہ کر سکی،محض ایک خیال تھا کہ میں نے ایک کام اچھا ضرورکیا ہےتمام عمراسی خیال کے سہارے ہی سکون مل سکے گا؂شاید اسی سے میری بخشش کا سامان ہو جائے گا۔۔۔۔ “میلاد النبی” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرےذہن میں ایک خیال کوندااور میں نے بے اختیار پڑھنا شروع کر دیا یا نبی سلامُ علیکَ یا رسول ﷺسلامُ علیکَ۔۔۔۔۔۔۔سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی۔۔

سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اُس پر کہ اسرار محبت جس نے سمجھائے
سلام اُس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اُس پر کہ فضا جس نے زمانے کی بدل ڈالی
سلام اس پر کہ جس نے کفر کی قوت کچل ڈالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں حتیٰ المقدور کوشش کر رہا تھا کہ بلند آواز سلام پڑھوں مگرسپیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے آواز ہوا کی لہروں میں مدغم ہوتی گئی،،تمام رابطے منقطع تھےموبائل “آف” کر چکا تھا۔سلام ۔۔۔سلام کے الفاظ ہی کانوں میں پڑتے تھے۔۔مجھے وہ بینرزیاد آگئے جو میں نےاپنےہاتھوں سےلکھےتھے۔۔اُن پرحضور اقدس ﷺصاحب لولاک تمام خصائل و مناقب حسنہ محمد مصطفیﷺ کانامہ نام لکھاتھا۔۔۔ وہ تمام اولیٰ و اعلیٰ الفاظ جوحضورﷺ کی خدمت میں دنیا کےسب سےبڑے مصنف وشاعر شیخ سعدی نے لکھے تھے ۔۔
بلغ العلے بکمالہ کشف الدجے بجمالہ
حسنت جمیعُ خصالہ
صلو علیہ وآلہ
میری آنکھوں سےآنسوں نکل رہے تھے۔۔ جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔۔ کاش !میں یہ کلام روضہ رسولﷺ کےسامنےکھڑاہو کرپڑھتا۔۔۔۔۔۔۔پھرمجھےجامع مسجد کےمیناریاد آگئے جن پرمیں نےاپنےہاتھوں سےآیات اور سلام کندہ کئےتھے۔۔۔وہ بھی میرے ہاتھوں کو بچا سکتے تھے۔۔۔ اب یہ ہاتھ آلودہ نہیں رہے تھے،میں جانتا تھا،میں اچھا نہیں مگر یہ ہاتھ سلامت رہیں گے کہ جس دن مجھ سےسوال کیاجائےگا ۔ ماَفعلتا فی الدنیا؟تو میرے ہاتھ جواب دیں گے ، اے خدامیں نے تیرے نبیﷺ کا نامہ نام خوبصورتی سےلکھاتھا۔۔۔میں نےمیلاد النبیﷺ کیلئے آپﷺ کا نامہ نام خوبصورت انداز میں لکھا تھا۔

میں اعتماد اور یقین کی بلندی پرپہنچ گیا راستہ طویل تھا چہرہ تر ہو چکا تھااورموت کاخوف ختم ہو رہاتھاشام کاوقت ہو رہا تھا۔سورج اپنی تمام آب و تاب سمیٹ کرمغربی آفاق پر گہرےزرد رنگ کا لبادہ اوڑھے فناکاثبوت پیش کررہاتھا پرندے اپنے آشیانوں کو جا رہے تھے جبکہ میں اپنے گھر سے دور جا رہا تھا۔۔ اب میری نجات صاحبِ لوک حضور پرُ نور نانائے حسین حضرت محمدﷺ کی کی ذات باری کی وساطت سے ہی ہو سکتی ہے،۔۔۔۔۔ میں گرمی کے موسم میں بھی جسم میں سردی کی لہرمحسوس کر رہا تھا منزل قریب آرہی تھی۔میں زندگی میں پہلی مرتبہ سکون اور آسودگی محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

بے جان بت، جاندار بت ۔۔۔۔۔موجودہ حکومت کی کاردکردگی کے حوالے سے حسن نثار کا تازہ ترین کالم ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) شاید نہیں یقیناً ہم دنیا کی دلچسپ اور عجیب ترین قوم ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *