Wednesday , January 16 2019
ہوم > کالم > حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

حضرتِ حسین اور ہم۔۔۔مجاہدبخاری

تاریخ کی ایک خوبی ہے کہ وہ انسان کو اسکا اصل یاد دلائے رکھتی ہے اور کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو اپنے اصل سے منہ نہ پھیرے ۔ جو اپنے اصل کو بھول بیٹھا سمجھو اس نے اپنی شناخت گنوا دی۔ خیر تو میں بات کر رہا تھا تاریخ کی ۔ تاریخ کی کتاب کے ورق الٹتے ہوۓ میں اچانک ایک صفحے پر لکھی تحریر کے سحر میں کھو گیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ بابا گرونانک اپنے ہجرے سے باہر دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے اور پسینے سے شرابور تھے اور مکمل طور پر بھیگ چکے تھے کہ اتنی دیر میں انکا چیلا(مریدِ خاص) ان سے ملنے آیا تو انہیں ہجرے میں نہ پا کر باہر دیکھا تو انہیں دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھ کر پریشانی سے بھاگا بھاگا ان کے پاس اور کہا کہ گرو جی آپ اندر آجائیں باہر تو بہت گرمی ہے تو گرونانک جی کہنے لگے میں اپنی مرضی سے یہاں دھوپ میں بیٹھا ہوں کیونکہ میں حضرت حسین کی سنت کو پورا کررہا ہوں انہوں نے بھی اپنے دین کی حفاظت کیلیے شدید دھوپ اور گرمی برداشت کی مگر جھوٹ کا ساتھ نہ دیا ۔ تو انکا چیلا پوچھنے لگا حضور یہ حضرت حسین کون ہیں ؟ بابا جی نے کہا تمہیں میں بعد میں بتاتا ہوں لیکن اس سے پہلے تو میری ایک بات مان تو چیلا پرجوش ہو کہ بولا حضور آپ حکم کریں ۔ بابا جی نے کہا تمہارے گھر میں بیٹی ہے نہ تو وہ کہنے لگا کہ جی ہے تو آپ نے کہا کہ جاؤ اور اس سے شادی کر لو تو وہ چیلا ایک دم سنجیدہ ہوگیا اور کہا کہ بےشک آپ میرے گرو ہیں لیکن میں آپکی یہ بات نہیں مان سکتا اس بات کو تو سوچ کہ ہی مجھے شرم آرہی ہے۔۔۔

میرا ضمیر اس چیز کی کبھی اجازت نہیں دے گا بلکہ وہ تو ایسا سوچنے پر ہی مجھے ملامت کر رہا ہے ۔ تو بابا گرونانک کہنے لگے یہ جو ضمیر تمہیں ملامت کر رہا ہے وہی دراصل حسین (علیہ السلام) ہے ۔ یہ کہنا تھا ایک شخص کو جو اسلام کے دائرہ کار میں شامل نہیں تھا ۔ کیا ہم نے کبھی اپنے ضمیر کو سناہے ؟ کیا ہم نے کبھی خود کو اپنے کسی غلط قدم پر ملامت کیاہے ؟ تو بیشتر جواب ملتا ہے نہیں ۔ عرب کی سر زمین حجازِ مقدس اور آقا حضرت محمد صل اللٰہُ علیہ وسلم کی وجہ اے پوری دنیا کے مسلمانوں کیلیے بہت مقدس ہے لیکن عرب اپنی تباہی کو شروع کر چکے ہیں کیونکہ آپ صل اللٰہُ علیہ وسلم نے عرب کی بربادی کی کچھ علامتیں بتائی تھیں کہ یہ لوگ مکہ سے زیادہ بلندوبالا عمارتیں تعمیر کریں گے ، عرب کی سر زمین پر سبزہ اُگے گا تو آج عرب کے ریتلے پہاڑوں پر بھی جڑی بوٹیاں اگ رہی ہیں اور تیسری نشانی کے متعلق آپ صل اللٰہُ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عرب کے لوگوں کی دوستیاں غیرمسلم سے بہت بڑھ جائیں گی تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کچھ ماہ قبل دبئی کے شہزادے ایک بہت بڑا اور قیمتی مندر تعمیر کروایا ہے

جو کہ صرف ہندوؤں کی خوشنودی کو حاصل کرنے کیلیے ۔ حضرت امام حسین نے دینِ اسلام کیلیے کوفہ کی سرزمین پر اپنے خاندان کی عظیم الشان قربانی دی اور صبروتحمل کی اعلیٰ مثال قائم کی اور یہ حسین ہیں کون یہ وہ ہیں جنہوں نے زمین پر کم اور سرورِکائنات صل اللٰہُ علیہ وسلم کے جسمِ مبارک پر زیادہ کھیلا ہے۔ کربلا کا واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دینِ اسلام کے بقا اور شریعتِ مصطفیٰ کے تحفظ کیلیے جان بھی دینی پڑے تو ہمیں اپنے ایمان کو آزمانا چاہیے اور سنتِ حسین کی تقلید کرنی چاہیے!

یہ بھی دیکھیں

بے جان بت، جاندار بت ۔۔۔۔۔موجودہ حکومت کی کاردکردگی کے حوالے سے حسن نثار کا تازہ ترین کالم ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) شاید نہیں یقیناً ہم دنیا کی دلچسپ اور عجیب ترین قوم ہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *