Tuesday , November 13 2018
ہوم > صحت > پنجاب میں پولیو کب تک ختم ہوجائے گا؟ حکومت نے ایسا دعویٰ کردیا کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔

پنجاب میں پولیو کب تک ختم ہوجائے گا؟ حکومت نے ایسا دعویٰ کردیا کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے، عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔

لاہور (ویب ڈیسک) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے سے پولیو کے خاتمے کا ہدف اگلے سال تک حاصل کر لیا جائے گا ۔ انہوں نے حساس اضلاع میں معمول سے ہٹ کر مہم چلانے کا اعلان بھی کیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر نے پولیو کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے غیر سرکاری تنظیموں اور رضاکاروں کو بھی متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا،
صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ جنوری 2017 کے بعد پنجاب میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ 2019 تک زیرو کیس کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی، سیکرٹری ہوم، سیکرٹری ہیلتھ اور دیگر نے نے شرکت کی جبکہ پنجاب بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔ وزیر صحت نے حالیہ برسوں میں چلائی گئی انسداد پولیو مہم کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو فری پاکستان کی منزل زیادہ دور کی بات نہیں۔ کسی بھی علاقے سے پولیو وائرس کا کوئی کیس رپورٹ ہونے سے دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ پاکستان کو پولیو زدہ ممالک کی فہرست سے نکالنے کیلئے ہم سب کو مشنری جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ ضرور اس امر کی ہے کہ حساس قرار دیے گئے اضلاع میں معمول سے ہٹ کر بھی مہم چلائی جائے۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر منیر احمد کی بریفنگ کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد نے زور دیا کہ مظفر گڑھ، ڈی جی خان اور راجن پور کے اضلاع پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ موسم بدلنے کے ساتھ کئی علاقوں میں نقل مکانی ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ایسے خاندانوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے نسبتا نیم خواندہ اور شرح خواندگی سے محروم علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ وزیر صحت نے خانہ بدوش قبائل میں انسداد پولیو مہم کو تیز کرنے کےا حکامات بھی صادر کئے۔۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی کمشنرز انسداد پولیو کی ہر مہم میں محکمہ صحت سے قریبی رابطہ رکھیں اور اپنے اضلاع میں پولیو سے آگاہی کے پروگراموں کا بھی مسلسل انعقاد کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیو کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے غیر سرکاری تنظیموں اور رضاکاروں کو بھی متحرک رکھنا ہوگا۔ چیف سیکرٹری نے سختی سے ہدایت کی کہ 27 اکتوبر تک جاری انسداد خسرہ مہم پر بھی خصوصی توجہ دی جائے اور فیلڈ ٹیموں کی سپاٹ چیکنگ اور یومیہ جائزہ اجلاس کے انعقاد میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے۔ سیکرٹری ہیلتھ ثاقب ظفر نے اجلاس کو انسداد پولیو پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ نومبر میں ایک بار پھر انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی۔ جس کے بعد اگلے سال تک ہم اپنے اہداف پورے کرلیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

انرجی ڈرنکس بچوں کے لیے کس قدر خطرناک اور نقصان دہ ہیں ؟ ماہرین نے خبردار کر دیا

برطانیہ (ویب ڈٰیسک)برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں 18 سال سے کم عمر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *