Tuesday , November 13 2018
ہوم > سائنس > اب ہوگا محبوب راضی۔۔۔ چاند توڑنے کی باتیں صرف غزلوں میں نہیں بلکہ حقیقت بن جائیں گی۔۔ ٹیکنالوجی کی دنیا سے عاشق مزاج لوگوں کے کام کی خبر آگئی

اب ہوگا محبوب راضی۔۔۔ چاند توڑنے کی باتیں صرف غزلوں میں نہیں بلکہ حقیقت بن جائیں گی۔۔ ٹیکنالوجی کی دنیا سے عاشق مزاج لوگوں کے کام کی خبر آگئی

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین میں اگلے دو سال میں ایسا مصنوعی چاند بنانے کا اعلان کیا ہے جو راتوں میں چاند کی طرح دھیمی روشنی فراہم کرے گا۔ چین کے جنوب مغربی شہر چینگ دو کی انتظامیہ نے سائنس فکشن جیسی فلموں کی طرح ایک اعلان کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے جس کے تحت وہ مصنوعی چاند یا چمکنے والا سیٹلائٹ بنائے گی۔
محبوب کو چاند تارے توڑ کر دکھانے والے خواب پرانے ہوگئے ۔ ہیر رانجھے کی کچے گھڑے پر دریا پار کرنے کی کہانیوں کی جگہ اب ہیلی کاپٹر ز اور فیزیز آگئی ہیں ، اب عشق کو بھی دولت کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے ۔ دنیا اس تیز رفتاری کے ساتھ بدل رہی ہے کہ انسان کے لئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا ۔ چین نے دنیا کو حیران کرتے ہوئے فضا میں چاند اتارنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ سیٹلائٹ عام چاند کے مقابلے میں 8 گنا زائد روشنی خارج کرے گا جس کے بعد سڑکوں کی روشنیوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ابتدائی اندازوں کے مطابق انسانی چاند 10 سے 80 کلومیٹر قطر کے علاقے کو روشن کرسکے گا۔ اسے چینگ دو ایئرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مائیکروالیکٹرانکس سسٹم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ چینی سائنسدانوں کے مطابق دمکنے والا سیٹلائٹ کئی برس قبل تیار ہوا تھا اور اب وہ آزمائشی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے سولر پینل جیسے آئینوں پر خاص قسم کی کوٹنگ کی ہے جو سورج کی روشنی کو انتہائی درجے تک منعکس کرکے چینگ دو شہر کی جانب بھیجے گی۔ یہ سیٹلائٹ چین کے قریب رہتے ہوئے مدار میں گردش کرے گا اور خود چین کی سرزمین سے بھی آسمان پر دمکتا دکھائی دے گا۔ لیکن اس کے راکٹ اور خلائی منصوبے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینگ دو شہر کے لوگ اس سیٹلائٹ کے منتظر ہیں جس سے شہر میں سیاحوں کی آمد بھی شروع ہوسکے گی۔ لیکن کچھ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ رات کے وقت سیٹلائٹ سے مسلسل روشنی شہریوں کی قدرتی جسمانی گھڑی اور معمولات کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس طرح ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔تاہم سیٹلائٹ کے آئینوں پر کام کرنے والے ادارے کے سربراہ کینگ وائماں نے کہا ہے کہ یہ روشنی بہت مدھم ہوگی اور رات کو دن میں نہیں بدلے گی۔ البتہ ماہرین نے یہ ضرور کہا ہے کہ روشنی چودھویں کے چاند سے کئی گنا زائد ہوسکتی ہے۔اس سے قبل چیننے بھی خلائی اسٹیشن میر پر 25 میٹر قطر کا خلائی آئینہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سائبیریا کے تاریک اور سرد علاقوں کو منور کیا جاسکے لیکن بعض تکنیکی وجوہ کی بنا پر ایسا نہ ہوسکا۔ اس سے قبل فرانسیسی ماہر نے بھی زمین کے اوپر آئینوں سے بھرپور ایک ہار کا خیال پیش کیا تھا جس سے پیرس کو پورے سال تک روشنی دینے کی بات کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سورج کی روشنی کو آئینوں کے ذریعے مختلف جگہوں پر منعکس کیا جاتا تھا ۔ تاہم چین اب دو قدم آگے بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک بورڈ ہوگا نہ ہی کتابیں ، حکومت نے بچوں کو بڑی خبر سنادی، والدین کی تو موجیں لگ گئیں

لاہور(ویب ڈیسک ) پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور اسکولز ایجوکیشن نے ابتدائی طور پر چھٹی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *