Tuesday , November 13 2018
ہوم > سائنس > ہیلی کاپٹر کا خرچہ صرف پچاس روپے۔۔۔۔ لیکن اب عام آدمی بھی ہیلی کاپٹر کی سیر کر سکے گا۔۔ ٹائیگرز کو خوش کر دینے والی خبر آگئی

ہیلی کاپٹر کا خرچہ صرف پچاس روپے۔۔۔۔ لیکن اب عام آدمی بھی ہیلی کاپٹر کی سیر کر سکے گا۔۔ ٹائیگرز کو خوش کر دینے والی خبر آگئی

نئی دہلی(ویب ڈیسک) آن لائن ٹیکسی سروس اوبر نے بھارت میں فضائی ٹیکسیاں چلانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ جس کے تحت مسافروں کو سستی اور معیاری اور بروقت ٹیکسی دستیاب ہوگی۔ کمپنی کے مطابق یہ مواصلاتی تاریخ کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا جو دنیا بدل کر رکھ دے گا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اوبر2027 سے امریکا میں فضائی ٹیکسی سروس شروع کر رہی ہے اور دنیا بھر میں ابتدائی طور پر 5 ممالک میں یہ سروس متعارف کرائی جائے گی۔بھارتی وزیر جے انت سنہا کا کہنا تھا کہ اوبر نے انہیں بتایا کہ بھارت ان 5 ممالک میں سے ایک ہے جس میں فضائی سروس فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔فضائی سروس کے لیے اوبر مسافر ڈرونز استعمال کرے گی، اوبر کے مسافر ڈرونز 350سو کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے پرواز کریں گے، یہ الیکڑک سے چلیں گے اور ان سے فضا میں شور بھی نہیں ہوگا۔ اس سے قبل گذشتہ سال متحدہ عرب امارات میں دنیا کی پہلی خود کار فضائی ٹیکسی سروس کا افتتاح کیا گیا۔ جمیرا بیچ پارک میں منعقد ہونے والی تقریب میں دبئی کے ولی عہد شیخ ہمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے بھی شرکت کی تھی۔ آٹونومس ایئر ٹیکسی ( اے اے ٹی ) نامی یہ سروس جلد ہی عوام کے لیے پوری طرح فعال کردی جائے گی‘ یہ دنیا کی پہلی ایئرٹیکسی سروس ہے جو دبئی کی روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دبئی سول ایوی ایشن کے اشتراک سے چلائی جائے گی۔واضح رہے کہ دو نشستوں والی اس فضائی ٹیکسی میں بیک وقت دو مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہ بغیر کسی پائلٹ کے آپریٹ کرے گی‘ اسے جرمنی کی ڈرون بنانے والی کمپنی ’وولوکاپٹر ‘نے تیار کیا تھا۔
گذشتہ سال ٹیکسی سروس کی آزمائشی پرواز کے وقت روڈ اینڈ ٹریفک اتھارٹی کے چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل مطار التائر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فضائی ٹیکسی میں مسافروں کی حفاظت کے لیے انتہائی اعلیٰ درجے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ’ اس میں نو بیٹریوں پر مشتمل سسٹم نصب ہے جو کہ بہت جلد چارج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی ایمرجنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں پیرا شوٹ بھی رکھا گیا ہے‘ آزمائی ورژن کے لیے تیار کیے جانے والی فضائی ٹیکسی کی بیٹری دو گھنٹے میں چار ج ہوجاتی تھی اور جسے کمرشل پیمانے پرتیار کیا گیا۔ جس سے اس کا چارجنگ ٹائم اور کم ہوگیا۔ یاد رہے کہ یہ فضائی ٹیکسی صاف ستھری انرجی سے چلیں گی اور ان کی آواز بھی انتہائی کم ہوگی جس کے سبب یہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ ہوگی۔ اوبر انتظامیہ کے مطابق فضائی ٹیکسی 2027ء تک مسافروں کو ایک موبائل ایپ کے ذریعے دستیاب ہوگی جس کے ذریعے کسٹمر فلائٹ بک کرسکیں گے اور روٹ بھی ٹریک کرسکیں گے۔ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس انقلاب سے ہیلی کاپٹر پر سواری کا خواب بھی پورا ہوگا اور وزیر اطلاعات کے سابقہ بیان پر تنقید کرنیوالوں کے منہ بھی بند ہوجائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک بورڈ ہوگا نہ ہی کتابیں ، حکومت نے بچوں کو بڑی خبر سنادی، والدین کی تو موجیں لگ گئیں

لاہور(ویب ڈیسک ) پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور اسکولز ایجوکیشن نے ابتدائی طور پر چھٹی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *