Wednesday , March 20 2019
ہوم > کالم > غربت سے دنیا کی مشہور ترین عورت بننے تک کا سفر – اسماء طارق

غربت سے دنیا کی مشہور ترین عورت بننے تک کا سفر – اسماء طارق

مانیہ سکوڈوسکا ایک شرمیلی لڑکی جسے دنیا مادام کیوری کے نام سے جانتی ہے، کی کہانی جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔ دنیا کی نامور ترین خاتون سائنس دان جس کو کسی زمانے میں سردی سے بچنے کے لیے رات کو اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھنا پڑتا۔ میں کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک دھیان کاغذ پر لکھے ایک نام پرگیا جو میرے ذہن کو اپنے حصار میں لے کر تخیل کی دنیا میں کئی سال پیچھے لے گیا۔ مادام کیوری جس کا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئیں، پہلی مرتبہ جسے سائنس میں خدمات کے عوض دو مرتبہ نوبل پرائز دیا گیا، ایک مرتبہ 1903ء میں فزکس میں نمایاں کام سرانجام دینے پر اور پھر 1911ء میں کیمسٹری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر۔
اگر جوانی میں پولینڈ کا خوشحال گھرانا اس کی بےعزتی نہ کرتا تو وہ نہ سائنس دان بنتی اور نہ ہی ریڈیم دریافت کر سکتی۔ واقعہ دراصل یہ ہے کہ وہ جب انیس سال کی تھی تو ایک امیر گھرانے میں ملازمت کرتی تھی، اس گھر کے لڑکے کو وہ پسند آ جاتی ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے گھر والے کیوری کو انتہائی بےعزت کرکےگھر سے نکال دیتے ہیں کہ جس لڑکی کا کوئی مقام نہ ہو، وہ اس سے کیسے اپنے بیٹے کی شادی کر سکتے ہیں۔

بےعزتی کا تھپڑ کھا کر مادام کیوری حیرانگی کے عالم میں ایسے غرق ہوئی کہ وہ ہر چیز بھول گئی، اب اس پر صرف کچھ کرگزرنے کی دھن سوار تھی۔ وہ 1891ء میں پیرس چلی گئی اور وہاں یونیورسٹی میں سائنس میں داخلہ لے لیا۔ وہ تعلیم میں اتنی غرق تھی کہ کسی کو اپنا دوست نہ بناسکی، جن دنوں وہ فزکس اور ریاضی کے مطالعے میں مصروف تھی تو وہ افلاس کا شدید طور پر شکار تھی، وہ اکثر بھوک کے مارے بےہوش ہوجایا کرتی تھی اور سردی سے بچاؤ کے لیے وہ اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھتی تھی، وہ تین شلنگ روزانہ کے حساب سے خرچ کرتی تھی، لیکن ہمیں اس طالبہ کے حالات پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی طالبہ جسے دس سال بعد دنیا کی مشہور ترین عورت کہلوانا تھا، اپنے مطالعہ میں مستغرق رہنے کے باعث وہ بھوک کے خیال سے آزاد رہتی تھی، کیونکہ بھوک اس کی داخلی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں یکسر ناکام تھی اور نہ ہی اسے ارادے و عزم سے متزلزل کر سکتی تھی۔

تین سال بعد اس نے پیرس میں ایک شخص سے شادی کرلی جو اس کی طرح سائنس کا دیوانہ تھا، اس کا نا م پاٹری کیوری تھا جو پینتیس سال کا ہونے کے باوجود سائنس کی دنیا میں بےحد مشہور تھا۔ جس روز انہوں نے شادی کی تھی، ان پاس صرف دو بائیسکل تھے جس پر وہ دیہات کی طرف ہنی مون منانے چلے گئے۔ وہ ڈبل روٹی پنیر اور پھل کھاتے اور رات کو ایسی سراؤں پر سوتے جہاں موم بتیوں کی روشنی سے دیواروں پر عجیب و غریب سائے رینگتے معلوم ہوتے۔

تین سال بعد مادام کیوری ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کی تیاری کر رہی تھی تو اس نے اس راز کو پرکھنے کا فیصلہ کر لیا کہ یورینیم دھات سے روشنی کیوں نکلتی ہے؟ یہ کیمیا کے سربستہ عظیم رازوں میں سے ایک سربستہ راز کا سفر عظیم تھا۔ سینکڑوں دھاتوں پر تجربات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ شعاعیں کوئی بےنام عنصر فضا میں بکھیرتی ہیں اور اس نئے عنصر کو دریافت کرنے کے لیے اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ تجربات میں شامل ہو گیا۔ کئی ماہ کے تجربات کے بعد انہوں نے ایک ایسا عنصر دریافت کیا جس کی روشنی یورینیم سے بیس گنا زیادہ تھی، ایک دھات جس کی شعاعوں کو صرف سکہ ہی روک سکتا تھا، انہوں نے اسے “ریڈیم” کا نام دیا۔ سائنسدان اس سے پہلے ایسی دھات کی موجودگی کو نہیں مانتے تھے، چنانچہ انہوں نے پختہ ثبوت مانگے۔ اگلے چار سال 1898ء سے 1902ء تک وہ اس کی موجودگی کے ثبوت تلاش کرتے رہے، انہوں نے آٹھ ٹن لوہے کو ابال کر اسے عمل تقطیر کے ذریعے سے حاصل کیا، وہ انتہائی بوسیدہ احاطہ میں انتہائی خستہ حالی میں کام کرتے تھے، اور یہی بھٹی سے نکلنے والا دھواں مادام کیوری کی آنکھوں اور حلق کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اس دریافت کے بعد وہ وہ روئے زمین کی نامور خاتون بن گئی.۔
1902ء میں مادام کیوری اور اس کے شوہر نے دولت ترک کر کے سائنس کی بےلوث خدمت کا فیصلہ کیا۔ اس وقت یہ بات دریافت ہوچکی تھی کہ ریڈیم کینسر کے علاج میں مفید ثابت ہوئی ہے اور وہ کسی بھی تجارتی کمپنی کو اس کا فارمولہ بھیج کر مالامال ہوسکتے تھے، مگر اس کے عوض ایک پائی بھی وصول نہ کی، اور کہا کہ ریڈیم ایک مہلک بیماری کے علاج کے لیے بہترین ثابت ہوئی ہے، مجھے اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ سائنس کے اصولوں کے خلاف ہے۔

مادام کیوری کی خدمات نے انھیں ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات پر امر کر دیا۔ صدیاں بیت جائیں، زمانے گزر جائیں مگر ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں موجود رہےگا۔ یہی لوگ ہیں جنھیں زندگی نے جو مقصد دیا، وہ اسے حاصل کرگئے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سنہرے حروف میں لپٹی داستان چھوڑ گئے۔

یہ بھی دیکھیں

’’ بھارتی جاسوسہ ‘‘ ریحام خان نے اپنے بھارتی ’ بوائے فرینڈ‘ کے ذریعے کتاب کیوں لکھی اور اس کے پیچھے کیا عزائم چھپےہیں؟ نامور خاتون کالم نگار نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

لاہور( ویب ڈیسک) ہم نے ریحام کے بارے میں بہت پہلے لکھ دیا تھا کہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *