2

آخر نوجوان موت کی وادی میں کیوں اتر رہے ہیں۔۔ تحریر:ناصر علی

دور حاضر میں جہاں بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں۔۔خط و خطابت کی جگہ ای میل۔واٹس ایپ میسجز اور بہت سارے دوسرے سوشل میڈیا کے ایسے ذرائع بھی آ گئے ہیں جن کے ذریعے بات چیت کرنا بہت تیز اور آسان ہو گیا ہے۔۔۔۔ایسے میں نئے نئے رجحانات دوسری چیزوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔کوئی دور تھا جب صرف حقہ ہی من پسند نشہ تصور کیا جاتا تھا اور یہ صرف بڑی عمر کے افراد ہی پسند کرتے تھے۔

آہستہ آہستہ سگریٹ نے بھی اپنے قدم جمانا شروع کر دئے اور یہ بھی لوگوں کے ہاتھوں میں سلگتی ہوئی عام نظر آنے لگی۔۔اس کے بعد شراب،ہیروئین،چرس،افیون اور شیشہ نوجوان نسل کا من پسند نشہ بن گیا۔۔اب تو آئس نام کا خطرناک نشہ بھی مارکیٹ میں آ چکا ہے جو انسانی دماغ کو اپنے کنڑول میں جکڑ لیتا ہے اور انسان کی سدھ بدھ ختم ہو جاتی ہے۔وہ جانوروں کی طرح چلانے اور چیخنے لگتا ہے۔۔۔ان نشہ آور ادویات کے نقصانات اتنے زیادہ اور خطرناک ہیں کہ کچھ تو انسان کو فی الفور ہی موت کے منہ میں لے جاتی ہیں۔ تو کچھ آہستہ آہستہ انسان کی خوبصورت شکل و صورت کو پہلے خوفناک کرتی ہیں پھر اسکو کسی مردے کی طرح قبر میں اتار دیتی ہیں۔۔اگر ایک دفعہ ان نشہ آور ادویات کی لت لگ جائے تو پھر واپسی کا شاید ہی کوئی راستہ بچتا ہو۔ورنہ کچھ ہی عرصہ بعد انسان کو کسی سڑک پر مردہ حالت میں ملتا ہے اور گھر والوں کو ایک فون کال آتی ہے کہ آپ کے لخت جگر کی لاش فلاں فلاں ہسپتال کےمردہ خانے میں پڑی ہے۔۔اور یہ بھی اس صورت میں ہوتا ہے اگر مرنے والے سے کوئی شناختی کارڈ یا کوئی فون نمبر نکل آئے تو ۔ورنہ جب لاش ڈیڈ ہاوس میں بھی گلنے سڑنے لگتی ہے تو اسکو کسی قبرستان میں نامعلوم قرار دے کر دفنا دیا جاتا ہے اور لاوارث ہو کر مرنے والے کی قبر کی پہچان صرف ایک نمبر ہوتا ہے۔۔آخر نوجوان لڑکے لڑکیاں موت کی وادی میں اترتے کیسے ہیں۔کئی دفعہ رات کو کسی اچھی خبر کی تلاش میں لیٹ نائٹ چلنے پارٹیز اور محفلوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔۔مجھے جس چیز نے حیران کیا کہ ہماری نوجوان نسل کو زبردستی ماڈرن بننے کا شوق ہے۔۔وہ ماڈرن اسکو سمجھتے ہیں جس کے پاس ایک نئی برانڈڈ گاڑی ہو۔وہ سلم سمارٹ خوبصورت وجیح نوجوان ہو اور بغل میں ایک خوبرو لڑکی لئےبلند آواز میوزکپر ڈانس کر رہا ہو۔۔ساتھ کسی خطرناک ڈرگ کااستعمال بھی کر رہا ہو اور اسکی صحت پر اس ڈرگ کا زرا بھی کوئی سائیڈ افیکٹ نہ ہوتا ہو۔۔میں اپنےا نوجوانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا صرف فلموں کی حد تک ہوتا ہے جہاں سلمان خان شراب پیتا ہے۔اپنے سے ڈبل سائز کے غنڈوں کو کاغذ کی طرح ہوا میں اڑاتا ہے اور آخر میں کاپڑ یا کسی سپورٹس کار

میں سب سے فٹ نظر آنے والی بچی بھی لے کر نکل جاتا ہے۔۔مجھے بھی پتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں