Friday , May 24 2019
ہوم > پاکستان > منصور علی خان کو ’’ میرے کپتان، میرے کپتان ‘‘ کہہ کر عمران خان پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا، لائیو پروگرام میں ایسا کام ہوگیا کہ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے

منصور علی خان کو ’’ میرے کپتان، میرے کپتان ‘‘ کہہ کر عمران خان پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا، لائیو پروگرام میں ایسا کام ہوگیا کہ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے

لاہور (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی منصور علی خان کو کون نہیں جانتا؟ ایکسپریس نیوز پر جب پروگرام کا آغاز کرتے ہیں تو حکومت پر انکا تنقیدی اسٹائل ’’ میرے کپتان، میرے کپتان ‘‘ عوام میں کافی پذیرائی حاصل کرتا ہے لیکن تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل نے انکے ساتھ ایسا کام کر دیا کہ آئندہ وہ حکومت پر تنقید کرنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچیں گے۔
تفصیات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماء شہباز گل نے جب سینئر صحافی منصور علی خان کے پروگرام میں شرکت کی جواب بھی ایسے انداز میں دیئے کہ منصور علی خان بھی سوال نہ کر پائے۔
پی ٹی آئی رہنماء شہباز گل نے بھی وہی طریقہ اپنا جو منصور علی خان اپناتے تھے اور دوران پروگرام وہ اینکر کو ’’ میرے میزبان ، میرے میزبان‘‘ کہہ کر پکارتے رہے۔ شہباز گل نے منصور علی خان کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے میزبان‘‘ مجھے بات کرنے کا موقع دیں، اآپ کے ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان یہ بتائیں کہ پنجاب میں حکومت کیسے کرنی ہے تو وہ جواب دیں گے کیونکہ وہ تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں۔
منصور علی خان نے جبکہ ان سے کراس کوسچن کرنے کی کوش کی تو شہباز گل نے پھر کہا کہ کہ ’’ میرے میزبان‘‘ مجھے بات تو کرنے دیں ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور جہانگیر ترین کی لیک ویڈیو ایک معمولی بات ہے کہ اس حکومت میں گورنر ،وزراء سمیت تمام لوگ آزاد ہیں اور خود مختار بھی اور کسی کو کبھی حکومت میں موجود شخص یا عہدیدار سے اختلاف ہوسکتا ہے۔
شہباز گُل کی یہ بات سنتے ہی منصور علی خان حیرانگی سے منہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے جس پر شہباز گُل نے انہیں کہا کہ میرے میزبان اس وقت آپ اور بھی پیارے لگ رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بریکنگ نیوز:چیئرمین نیب کو بلیک میل کرنیوالی خاتون دراصل کون ہے اور اس کی جسٹس (ر)جاوید اقبال سے کب ،کہاں اور کسیے ملاقات ہوئی،کہانی منظر عام پر آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) گزشتہ دن چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کے خلاف ایک ویڈیو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *