Monday , December 10 2018
ہوم > پاکستان > بریکنگ نیوز: بالاخر عدالت سے ملک ریاض کے لیے خوشی کی خبر آگئی

بریکنگ نیوز: بالاخر عدالت سے ملک ریاض کے لیے خوشی کی خبر آگئی

راولپنڈی ( ویب ڈیسک ) انسدادِ بدعنوانی عدالت (اے سی سی) نے بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو ملک ریاض اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 8 دسمبر تک توسیع کردی۔اے سی سی کے اسپیشل جج مشتاق احمد تارڑ نے محکمہ جنگلات کی 1170کنال اراضی پر قبضہ کیس میں ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی،

ملک ریاض کی جانب سے ان کے وکیل زاہد بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عبوری ضمانت کے لیے انسدادِ بدعنوانی عدالت میں پیش ہوئے لیکن بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو ملزم ملک ریاض عدالت پیش نہ ہوئے۔سماعت میں ملک ریاض کے وکیل اور جج مشتاق احمد تارڑ کا مکالمہ ہوا جس میں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ ڈائریکٹر جنرل( ڈی جی) قموی احتساب بیورو( نیب) اور ڈی جی اینٹی کرپشن آپس میں بیٹھ کر کیس کے ٹرائل کا فیصلہ کر لیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ ون سائیڈڈ بتا رہے ہیں۔اس حوالے سے اے ڈی لیگل اینٹی کرپشن نے بتایا کہ دونوں ڈی جی کی ملاقات ہو چکی ہے لیکن ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ کیا فیصلہ ہوا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تاریخ دے دیں تاکہ اس وقت تک کلئیر ہو جائے گا کہ ٹرائل کس نے کروانا ہے۔اس پر عدالت نے ملک ریاض کی عدم حاضری کے بارے میں استفسار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان عدالت میں حاضر ہیں۔جس پر ان کے وکیل زاہد بخاری .

نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم ملک ریاض کو سیکورٹی خدشات پر پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت ہے ملزم کو پیش ہونا پڑے گا جس پر ملک ریاض کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ حکم دیتے ہیں تو ملزم پیش ہو جائے گا، جس پر عدالت نے ملک ریاض کو ساڑھے دس بجے تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ملک ریاض خود عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت نے ان کی اور دیگر ملزمان کی عبوری ضامنت میں 8 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ تھانہ اینٹی کرپشن سرکل راولپنڈی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی سفارشات پر ملک ریاض اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس مقدمے میں دھوکا دہی، سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، مجرمانہ غفلت اور جعل سازی کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔مقدمے میں محکمہ جنگلات کے حکام، ریونیو افسران سمیت سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے چیف سیکریٹری جی ایم سکندر کو بھی نامزد کیا گیا تھا،جن پر دھوکا دہی کے ذریعے زمین فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔خیال رہے کہ بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف اس سے قبل بھی ’زمین پر قبضے‘ سے

متعلق مقدمات درج ہوچکے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کی اراضی دینے پر عدالت عظمیٰ فیصلہ بھی دے چکی ہے۔رواں سال مئی میں عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا تھا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد درج ہونے کے بعد راولپنڈی کی عدالت نے 23 اکتوبر کو ان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔جس لے بعد وہ ضمانت میں توسیع کے لیے 10 نومبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں ان کی ضمانت میں توسیع کردی گئی تھی تاہم جج مشتاق تارڑ کی رخصت کے باعث سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔جس لے بعد وہ ضمانت میں توسیع کے لیے 10 نومبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں ان کی ضمانت میں توسیع کردی گئی تھی

یہ بھی دیکھیں

تلور اور مور کے شکا ر اور گوشت کا جنون : بھارتی صوبہ راجھستان کے اکثر خاندان لاولد کیوں رہ جاتے ہیں ؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق پر مبنی ایک انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کسی زمانہ میں افغانستان بھی تَلَور کے غیر ملکی شکاریوں کا پسندیدہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *