Thursday , December 13 2018
ہوم > پاکستان > ایک دہائی سے جاری تنازعہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ،سام سنگ کمپنی نے اپنے ملازمین سے معافی کیوں مانگی؟ جانیئے

ایک دہائی سے جاری تنازعہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ،سام سنگ کمپنی نے اپنے ملازمین سے معافی کیوں مانگی؟ جانیئے

سیول ( ویب ڈیسک ) سام سنگ الیکٹرونکس نے اپنی فیکٹریوں میں کام کرنے والے کچھ ملازمین کے کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد معافی مانگ لی جس سے ایک دہائی سے جاری تنازع کا بالآخر اختتام ہوگیا۔ واضح رہے کہ سام سنگ الیکٹرونکس دنیا کی سب سے بڑی موبائل فونز اور چپ بنانے والی کمپنی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے سابق ملازمین کی موجودگی میں ایک 22 سالہ ملازم، جو انتقال کرگیا تھا، کے والد اور کمپنی نے شریک صدر کم کی نیم نے باضابطہ طور پر ایک سمجھوتے پر دستخط کیے۔اس موقع پر کم کی نیم کا کہنا تھا کہ ہم دل سے ان تمام ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ سے معافی مانگتے ہیں جنہیں بیماری کا سامنا کرنا پڑا ، ہم اپنی سیمی کنڈکٹر اور ایل سی ڈی فیکٹریز میں صحت کو لاحق خطرات کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کرنے میں ناکام ہوگئے۔واضح رہے کہ سام سنگ الیکٹرونکس دنیا کی سب سے بڑی موبائل فونز اور چپ بنانے والی کمپنی ہے اور سام سنگ گروپ کی فلیگ شپ ذیلی کمپنی ہے جو ساؤتھ کوریا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔کمپنی کے خلاف مہم چلانے والے افراد کا کہنا تھا کہ سام سنگ سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیکٹری میں کام کرنے والے 240 افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئےتھے جس میں سے 80 افراد ،زیادہ تر خواتین، اپنی زندگی کی بازی ہار گئیں تھی۔رواں ماہ اس حوالے سے ہونے والے ایک سمجھوتے میں اعلان کیا گیا تھا کہ سام سنگ الیکٹرونکس متاثرہ ملازمین کو معاوضہ ادا کرے گی اور ایک ملازم کو پاکستانی رقم 17 لاکھ 80 ہزار سے زائد ادا کیے جائیں گے۔
متاثر ہونے والے افراد میں 16 اقسام کے کینسر، کچھ غیر معمولی بیماریاں ، اسقاطِ حمل اور ملازمین کے بچوں میں ہونے والی پیدائشی بیماریاں شامل ہیں، ان میں کچھ ایسے دعویدار بھی شامل ہیں جنہوں نے 1984 میں فیکٹریوں میں کام کیا تھا۔خیال رہے کہ معاملہ 2007 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے فیکٹریوں کے سابق ملازمین یا ان کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ ملازمین مختلف اقسام کے کینسر میں مبتلا ہوئے جن میں سے کچھ انتقال کر گئے۔جس کے بعد سیول کی حکومتی لیبر ایجنسی اور ایک ثالثی کمیٹی نے ا س کیس کو ایک دہائی تک جاری رکھا جس کے بعد بالآخر معافی کا اعلان سامنے آگیا۔اس مقدمے میں اہم بات یہ ہے کہ سام سنگ نے مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والے مخصوص کیمیکل کے بارے میں بتانے سے انکار کردیا تھا جو ان بیماریوں کا سبب بن رہا ہے اور اسےایک ’تجارتی راز‘ قرار دیا۔سام سنگ الیکٹرونکس نے اپنی فیکٹریوں میں کام کرنے والے کچھ ملازمین کے کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد معافی مانگ لی جس سے ایک دہائی سے جاری تنازع کا بالآخر اختتام ہوگیا۔ واضح رہے کہ سام سنگ الیکٹرونکس دنیا کی سب سے بڑی موبائل فونز اور چپ بنانے والی کمپنی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

معاشی بحران ختم ہونے کا وقت آن پہنچا : وزیراعظم عمران خان نے شاندار فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت تیل و …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *