Monday , December 10 2018
ہوم > پاکستان > تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈائون اور علامہ خادم رضوی کو گرفتار کرنا کیوں ضروری ہوگیا تھا؟ سینئر صحافی ایاز میر نے بڑا دعویٰ کردیا

تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈائون اور علامہ خادم رضوی کو گرفتار کرنا کیوں ضروری ہوگیا تھا؟ سینئر صحافی ایاز میر نے بڑا دعویٰ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا ہے تحریک لبیک اور علامہ خادم رضوی کے خلاف آپریشن ناگزیر ہوچکا تھا کیونکہ یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکے تھے۔ تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن اور علامہ خادم رضوی کی گرفتاری کی بڑی وجہ احتجاج کی وہ کال تھی

جو انہوں نے لیاقت باغ کیلئے دے رکھی تھی ۔ امریکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے علامہ خادم رضوی اور ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو حکومت اور ریاست کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک ملکی سلامتی اور حکومت دونوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئی تھی کیونکہ ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا تھا ۔1985 کے بعد سے اب تک یہ پہلی بار ہے کہ سول اور عسکری ادارے ایک جگہ کھڑے ہیں اور ان میں کوئی نفاق نہیں ہے۔ عمران خان کے آنے پر اس وقت عدلیہ ،فوج اور منتخب حکومت سب ایک جگہ کھڑے ہیں اور اس سے عمران خان کو ایک نفسیاتی اعتماد مل رہا ہے انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن اور علامہ خادم رضوی کی گرفتاری کی بڑی وجہ احتجاج کی وہ کال تھی جو آج اس تنظیم نے ملک بھر میں دے رکھی تھی،وہ فیض آباد دھرنے کی سالانہ تقریب اور احتجاج کے لیے لیاقت باغ راولپنڈی میں جمع ہونا چاہتے تھے،لیاقت باغ میں جمع ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اس کے لیے راولپنڈی شہر اور دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنا پڑتا جس کی متحمل حکومت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے فیصلے کے بعد حکومت دیکھ چکی تھی کہ ان لوگوں نے پورے ملک میں بے چینی پھیلا دی تھی اورخصوصاً پنجاب بہت زیادہ متاثر ہوا تھا جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا رہا، اس لیے اب حکومت کو امن و امان کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑا ۔

یہ بھی دیکھیں

تلور اور مور کے شکا ر اور گوشت کا جنون : بھارتی صوبہ راجھستان کے اکثر خاندان لاولد کیوں رہ جاتے ہیں ؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق پر مبنی ایک انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کسی زمانہ میں افغانستان بھی تَلَور کے غیر ملکی شکاریوں کا پسندیدہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *