Wednesday , December 19 2018
ہوم > کالم > بھارت کامکروہ چہرہ ایک بارپھربے نقاب۔۔۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

بھارت کامکروہ چہرہ ایک بارپھربے نقاب۔۔۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

ہمسایہ ملک کوپاکستان کاوجودشروع دن سے ہی کھٹکتاآرہاہے حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے ہمسائے کاثبوت دیتے ہوئے متعددباردوستی کاہاتھ بھی بڑھایااورتعلقات کوبہتررکھنے میں ہرممکن کوشش بھی کی،بھارت کامکروہ چہرہ اوراس کے مزموم عزائم ہرموقع پر اورہرآنے والے دن کیساتھ سامنے آتے رہتے ہیں مگراسے شرم تک نہیں آتی کہ وہ پھراُسی منہ سے دوبارہ زہراگلنا شروع ہوجاتاہے۔جنگ کامیدان ہویاپھرمذاکرات کی میز،بھارت کو کوئی بھی غیرجانبدار شخص ذی شعورنہیں کہہ سکتاکہ اس نے کبھی عقل وشعور سے کام لیا ہی نہیں۔حال ہی میں فیصل آباد کے ایک مدرسے کے طلباء کودہشتگرد قراردینے کی بھونڈی حرکت کو ہی دیکھ لیں۔ جن معصوموں کی فیس بک سے تصویراٹھاکرانہیں نہ صرف دہشتگرد قراردیابلکہ ان بے چاروں کی تصویر والے پوسٹربناکربھی انڈیا کے گلی محلوں میں آویزاں کرکے اپنے ہی دیس باسیوں کی ںظروں میں گرگئے اورکتنے ہی بھارتی شہریوں نے انڈین سکیورٹی ادارے کی اس حرکت پرتھو،تھوکرتے ہوئے اس حرکت کوانتہائی شرمناک اورعقل سے عاری قراردیا مگرشرم کسے آنی ہے،،انڈیاکو؟؟وہ توشایددنیا پرموجودہی ایسی حرکتوں کے لیے ہے۔
بھارتی سیکیورٹی اداروں نے پاکستانی طالبعلموں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ دو “دہشت گرد” دارالحکومت نئی دلی میں داخل ہو گئے ہیں بھارتی اداروں بھارتی اداروں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں پاکستانی طالبعلموں کی تصاویر نئی دلی کی سڑکوں پر آویزاں بھی کرا دیں اور پھر بھارتی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف خوب پراپیگنڈا کروایا۔بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کے بعد فیصل آباد میں قائم مدرسہ امدادیہ کے مہتمم نے دونوں طالب علموں کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔انہوں نے کہا ہمیں بتایا گیا کہ آپ کے طلبا کی تصاویر بھارتی میڈیا کسی اور تناظر میں چلا رہا ہے، جن طلبا کی تصویریں بھارتی میڈیا دکھا رہا ہے وہ نئی دلی میں نہیں، فیصل آباد کی جامعہ امدادیہ میں موجود ہیں۔مدرسہ مہتمم کے مطابق دونوں طالب علم رائے ونڈ کے اجتماع میں شرکت کے لیے گئے تھے، وہاں سے قصور بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے چلے گئے، جہاں انہوں نے سنگ میل کے پاس کھڑے ہو کر تصویر بنائی جو وائرل ہو گئی۔انہوں نے بتایا کہ ایک طالب علم طیب درس نظامی کے پانچویں سال میں ہے جب کہ دوسرا طالب علم درس نظامی کے ساتویں سال میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مدرسے کے حاضری رجسٹر میں ان بچوں کی یہاں موجودگی کا تمام ریکارڈ دستیاب ہے، یہ بچے کبھی بھارت گئے ہی نہیں۔
پاکستانی میڈیاپرمدرسے کےمہتمم اور طلباء کی پریس کانفرنس کے بعدانڈین میڈیااورسکیورٹی اداروں کوتوجیسے سانپ ہی سونگھ گیا،خود بھارتی عوام ایک طرف پاکستانی میڈیا پرسچ دیکھ کراوردوسری طرف اپنے ہی اداروں کی بوکھلاہٹ دیکھ کرحیران رہ گئے کہ ان کے ادارے اوران کابے وقوف میڈیاآخر کرنا کیاچاہتاہے؟بھارتی اداروں اورمیڈیاکی اپنی ہی جنتا کی نظروں میں اتنی زیادہ بے عزتی کے بعدوہ شایدکسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اوران کے پاس اس بھونڈے الزام کااب جواب نہیں رہا،ان کی زبان میں کہیں توشاید اُن کا بھگوان بھی اب انہیں معاف نہیں کرے گا۔۔
لگتایوں ہے کہ بھارت کے اندرہی کچھ طاقتیں بھارت کابھلا نہیں چاہتیں اوروہ خودکے ہاتھوں ہی اپنے ملک کی بے عزتی کرانے پرتُلی ہوئی ہیں،بھارتی اداروں اوران کے میڈیاکوتوشرم آئے نہ آئے ان کی عوام کو یہ سمجھ ضرورآگئی ہوگی کہ انڈین میڈیااورسکیورٹی ادارے پاکستان دشمنی میں کس قدراحمقانہ حرکتوں میں ملوث ہیں اوروہ پوری دنیامیں بھارتی جنتاکوبھی شرمسارکررہے ہیں کہ اُن کادیس اپنے اچھے ہمسایہ ملک کیساتھ اچھے برتاؤ کی بجائے بے شرمی کی انتہاکوچھورہاہے۔کہیں وہ نہتے کشمیریوں پرگولیاں برساکرانہیں شہیدکررہاہے توکہیں اسے پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہورہی،کہیں وہ مذاکرات سے بھاگتاہے توکہیں میڈیاپرپاکستان کیخلاف زہراگلتاہے۔اب وقت آگیاہے کہ دنیا سچ اورجھوٹ کافرق جان کرکشمیرمیں کئی سالوں سے دہشتگردی کرنے والے بھارت کوشرم دلائے اوراسے اپنی اوقات میں رہنے کیلئے زورڈالے تاکہ جموں کشمیرمیں خون کی ہولی ختم ہواوریہ خطہ امن کاگہوارہ بن سکے۔۔

یہ بھی دیکھیں

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *