Sunday , December 16 2018
ہوم > پاکستان > برطانیہ کے مختلف شہریوں میں جسٹس ثاقب نثار کا اوورسیز پاکستانیوں کے جذبے کو سلام : مگر چیف صاحب آپ شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی نے قوم کے محسن کے سامنے شکایات کا انبار لگا دیا

برطانیہ کے مختلف شہریوں میں جسٹس ثاقب نثار کا اوورسیز پاکستانیوں کے جذبے کو سلام : مگر چیف صاحب آپ شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ میں مقیم پاکستانی خاتون صحافی نے قوم کے محسن کے سامنے شکایات کا انبار لگا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) سفید پوش پاکستانی کسی طرح باہر چلا گیا۔ ماں باپ بہن بھائی گھر دوست محبتیں یادیں وطن سب پیچھے چھوڑا اور جوانی دیار غیر محنت مزدوری کرتے گزار دی۔تھوڑی کھائی زیادہ وطن بھیج دی۔ بال بچہ دار ہوا تو نصف انہیں کھلا دی آدھی وطن بھیج دی۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اولاد جوان ہوئی تو انہیں ڈاکٹر انجنئیر بنانے کا خواب دیکھ لیا۔ تعلیم مہنگی ہونے کے سبب بیرون ممالک یہ خواب پورا نہ ہو سکنے کے اندیشہ سے بچوں کو وطن عزیز بھیجنے کا سوچا لیکن پتہ چلا کہ یہ وہ پاکستان نہیں جس کو تم اپنا ملک کہتے تھے، تھوڑی کھاتے اور زیادہ اس ملک کو بھیجتے تھے۔ تم تارکین وطن کہلانے لگے ہو۔اس ملک کا نظام تمہارے بچوں کے ساتھ بھی سوتیلا پن کرے گا۔ تیرے بچے کے ساتھ اوورسیز یا فارن سٹوڈنٹ کا لفظ لگا دیا جائے گا۔ سرکاری کالجوں میں بطور فارن سٹوڈنٹ داخلے کے لئے بہت ھائی میرٹ رکھا گیا ہے اور مقامی سٹوڈنٹ کا میرٹ اور فیس کم رکھی گئی ہے۔ فارن سٹوڈنٹس کوٹہ بھی پندرہ فیصد ہے۔ تم جیسے مزدور مڈل کلاس تارک وطن بچوں کا خواب پورا کرنا افورڈ کر سکو گے ؟اے تارک وطن مزدور تیرے اخراجات بڑھ گئے ہیں لیکن تیرے نام کے ساتھ چونکہ اوورسیز یا فارن لگ چکاہے لئذا وطن عزیز کو تیرے فنڈز تیرے زرمبادلہ کی ضرورت ہے تیرے بچوں کی نہیں۔ اگر ڈالروں میں مہنگی فیسیں بھر سکتا ہے تو نجی ادارے منہ کھولے تیرے منتظر ہیں۔تیرے زرمبادلہ اور فنڈز سے ملک اور تیرے بچوں کی ڈالروں میں فیسوں سے تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔

،اوورسیز پاکستانی دن رات محنت کر تے ہیں اور جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کی حکومتوں کو اپنا ٹیکس بھی اداکرتے ہیں اور خالص رزقِ حلال کما کر اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے ہیں اْس کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ اپنے عزیزواقارب کو پاکستان ارسال کر دیتے ہیں اس طرح کچھ اوورسیز پاکستانی اگر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے پاکستان میں کوئی جائیداد خریدلیتے ہیں تو اْس پر لینڈ مافیا کا قبضہ ہو جاتا ہے۔یہ لینڈ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ اس کے آگے حکومت، عدلیہ اور انتظامیہ سبھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی کسی حکومت کو یہ توفیق حاصل ہوئی کہ وہ اس لاقانونیت کو روک سکے اور نہ ہی پاکستان کی عدلیہ ہی کوئی قابلِ ذکر کردار ادا کر سکی ہے۔ مشرف دور، زرداری دور، نواز دور اور اب عمران دور ؟ اوورسیز پاکستانیوں سے فنڈز مانگے جاتے ہیں، زرمبادلہ وصول کیا جاتا ہے لیکن اس یکطرفہ محبت کا کھیل کا آخر کب تک چلے گا؟ عملی طور پر وطن عزیز میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں سا سلوک کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار برطانیہ کے مختلف شہروں میں ڈیم فنڈز تقریبات میں اوورسیز پاکستانیوں کے جذبات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شاید بھول گئے

کہ ملک کی کوئی عدلیہ اوورسیز پاکستانی کو وطن عزیز میں برابری کا حق نہ دلا سکی ؟ بس خالی تعریفیں اور تسلیاں ان کا مقدر ہیں۔ حتی کہ ان کے بچے بھی پاکستان میں بطور فارن سٹوڈنٹس غیر مساوی اور غیر منصفانہ سلوک سے دوچار ہیں۔ فارن سٹوڈنٹس کوٹہ ، اوورسیز سٹوڈنٹس کوٹہ ، تارکین وطن پاکستانیوں کو لوٹنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے فارن سٹوڈنٹس کے میرٹ اور فیس اور مقامی سٹوڈنٹس کے لئے میرٹ اور فیس میں تضاد کو کیا سمجھا جائے؟ فارن سٹوڈنٹس کی فیس ڈالروں میں اور مقامی سٹوڈنٹس کی روپوں میں؟ اوورسیز پاکستانیوں کو صاف پانی مل رہا اور ان کی نسلیں بھی بنیادی ضروریات کی محتاج نہیں لیکن ڈیم فنڈز پاکستان میں بسنے والوں ہم وطنوں کے لئے دے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرکار کو بھی چاہیے کہ اوورسیز ہم وطنوں کی پاکستان میں جان مال اولاد کے تحفظ اور مسائل کو اولین درجہ دیں۔ بلا شبہ امریکہ جیسے امیر ترین ملک میں بھی بیروزگاری کی تشویشناک شرح پائی جاتی ہے اور اس کی سڑکوں پر بے گھر افراد میں پاکستانی عابد بھی بے سدھ پڑا رہتا ہے۔ہر طرف دردناک آپ بیتی ہے۔ کوئی ان بے گھر بے وطن اوورسیز پاکستانیوں کو بھی خوش خبری سنا آئے کہ وطن لوٹ آئو خیمے لگ گئے ہیں۔

کوئی تو حاکم ایسا آیا جس نے بے گھروں کو ٹینٹ اور دو وقت کی روٹی کا عارضی ٹھکانہ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پچاس لاکھ گھروں میں اوورسیز کے بے گھر اور جاب لیس پاکستانیوں کا بھی کوٹہ ہو گا ؟ ان غریب بے گھر تارکین وطن کے لئے کیا میرٹ ہوگا ؟ نہیں جناب یہ تارکین وطن یہ اوور سیز یہ فارن سٹیزن سب امیر تصور کئے جاتے ہیں جیسے ان کے درختوں پر پتے نہیں ڈالر ریال پائونڈ اگتے ہیں۔حکومت مقننہ اور سکیورٹی ادارے پاکستان میں غریبوں بے روزگاروں اور بے گھروں کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے بے گھر افراد کے لئے لاہور میں خیمے نصب کرا دئے ہیں۔ بے گھروں اور غریبوں کے لئے پچاس لاکھ گھر وں کی تعمیر کی ذمہ داری برطانوی امیر ترین دوست انیل مسرت کے ذمہ لگا دی ہے۔امریکا نے افغانستان میں جو محاذ کھول رکھا ہے اس کے متاثرین و مہاجرین نے بھی پاکستان ڈیرے لگا رکھے ہیں۔ خود امریکہ میں بے گھر افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لندن آٹھ ملین کی آبادی کا شہر ہے۔ انگریزوں نے دنیا پر حکومت کی ہے لیکن اس امیر ملک میں ایک لاکھ ستر ہزار لوگ بے گھر ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے اعلان پرمخیر حضرات کی مدد سے پنجاب حکومت نے شہر کے 5 مقامات پر ٹینٹوں میں عارضی خیمے نصب کر دئے ہیں۔ بے گھر افراد کے لئے عارضی خیموں کا انتظام اچھا اقدام ہے البتہ اس کا میرٹ یا نظام واضح نہیں کیا گیا۔ مستحق افراد کے علاوہ مفت خور اور آوارہ نوجوان بھی ان خیموں اور مفت کی روٹی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد کے لئے بھی یہ خیمے کسی نعمت سے کم نہیں ہوں گے۔ پاکستان کے حالت پر کیا رونا کہ امریکہ مغربی دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جہاں امیر اور غریب کی تقسیم بہت واضح ہے۔ امریکہ میں چار کروڑ افراد غریب اور ایک کروڑ 85 لاکھ انتہائی غریب ہیں جب کہ 50 لاکھ افراد انتہائی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔امریکہ کو ترقی یافتہ دنیا کا سب سے غیر مساوی معاشرہ قرار دیا جاتاہے کہ امریکی پالیسیاں صرف امیروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں جب کہ ملک میں غریبوں کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں کو عمران حکومت سے بھی خاص توقعات نہیں بس گزارش ہے کہ جتنا مرضی فنڈز لے لو مگر پاکستان کے لوگوں کو صاف پانی اور چھت مہیا کر دو

یہ بھی دیکھیں

خواجہ برادران کو بڑا جھٹکا ۔۔۔۔ نیب نے سابق وزیر ریلوے کےانتہائی قریبی عزیز کو شامل تفتش کرنے کا فیصلہ کر لیا

لاہور(ویب ڈیسک) نیب لاہور نے پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی میں گرفتار خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *