Wednesday , December 12 2018
ہوم > پاکستان > اسلام آبادہائی کورٹ: حلف اٹھانے کے بعد دوسرے دن ہی چیف جسٹس نے سابق چیف جسٹس کے احکامات معطل کر دیے

اسلام آبادہائی کورٹ: حلف اٹھانے کے بعد دوسرے دن ہی چیف جسٹس نے سابق چیف جسٹس کے احکامات معطل کر دیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک )اسلام آبادہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پیش رو جسٹس ریٹارڈ انور کاسی کی جانب سے ’منظورِ نظر افسران‘ کی ترقی، تبادلے،تعیناتی اور سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کرنے کے احکامات معطل کردیے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے مذکورہ معاملات ہائی کورٹ

کی سینئر ججوں پر مشتمل انتظامی کمیٹی کو تفویض کردیے۔واضح رہے کہ جسٹس انور کاسی مقررہ عمر تک پہنچنے کے بعد 27 نومبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے لیکن ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل انہوں نے سرکاری مسجد کے خطیب محمد شاہد کو گریڈ 10 سے گریڈ 17 میں ترقی دی تھی۔واضح رہے کہ 26 ستمبر 2016 کو سپریم کورٹ کے دیے گئے تاریخی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی 70 سے زائد تعیناتیوں کو غیر قانونی قراردگیا تھا اور سرکاری افسران کی ان تقرریوں اور ناجائز ترقیوں کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔کمیٹی کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے 13 مئی 2014 کو خطیب مسجد کو غلط طور پر گریڈ 17 میں ترقی دی جس کے بعد ان کی واپس ان کے پرانے پے اسکیل بی پی ایس-10پر تنزلی کردی گئی تھی جس پر وہ 2011 میں تعینات ہوئے تھے۔فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ ترقی سروس قوانین کے متعین کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی تھی‘۔فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ ترقی سروس قوانین کے متعین کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی تھی‘۔

اس کے ساتھ جسٹس اطہر من اللہ نے ہائی کورٹ کے گریڈ 18 کے دو افسران، کورٹ ریڈر مدثر ریاض اور اسٹینو گرافر ثنا اللہ کو سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کو بھی روک دیا ، جنہیں غیر قانونی طور پر اسٹیٹ آفس کی جانب سے رہائش گاہیں الاٹ کی گئی تھیں۔علاوہ ازیں انہوں نے 5 افسران کی تقرری اور تبادلے بھی معطل کردیے، جس میں جسٹس انور کاسی کے سیکریٹری، محمد سہیل بھی شامل تھے جنہیں جسٹس انور کاسی نے 26 نومبر کو ڈپٹی رجسٹرار ایڈمنسٹریشن تعینات کیا تھا جو اسلام آبا د ہائی کورٹ میں ایک نہایت اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی نے فیصلے کی روشنی میں محمد سہیل کی بھی گریڈ 20 سےگریڈ 18 پر تنزلی کردی تھی، جو جسٹس انور کاسی کے پرسنل سیکریٹری کی حیثیت سے 2011 سے گریڈ 18 پر ان کے ساتھ کام کررہے تھے۔محمد سہیل کی 2012 میں بی پی ایس 19 میں ترقی کی گئی تھی اور فروری 2013 میں جسٹس انور کاسی کے چیف جسٹس ہائی کورٹ بننے کے بعد انہیں اسی ماہ بی پی ایس 20 میں ترقی دے دی گئی تھی۔جس کے بعد کمیٹی نے ان کی ترقی کا حکم نامہ برطرف کرتے ہوئے انہیں واپس بی پی ایس 18 پر مقرر کردیا تھا۔اس کے علاوہ جن افسران کی ترقی کا حکم نامہ معطل کیا گیا ان میں ڈپٹی رجسٹرار عمر فاروق، محمد سلطان، مرزا عامر بیگ اور سعید اختر شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ہمارے کارکنوں نے مزاحمت کیوں نہیں کی ؟ گرفتاری کے بعد خواجہ سعد رفیق کے لوہے کے چنے اچانک خستہ کیسے ہوگئے ؟ خود بتا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت خارج ہوتے ہی خواجہ سعد رفیق اور انکے بھائی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *