Thursday , December 13 2018
ہوم > پاکستان > اسلام آباد کے گرد و ونواح میں قائم درجنوں فارم ہاؤسز: مگر ان فارم ہاؤسز پر کاشتکاری یا مویشی بانی نہیں ہوتی بلکہ ۔۔۔۔۔۔ دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

اسلام آباد کے گرد و ونواح میں قائم درجنوں فارم ہاؤسز: مگر ان فارم ہاؤسز پر کاشتکاری یا مویشی بانی نہیں ہوتی بلکہ ۔۔۔۔۔۔ دنگ کر ڈالنے والے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) پیسہ آتا ہے تو بہت سی علتیں بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ آج سے 50برس پہلے تک کسی نے فارم ہائوس کا نام تک نہیں سنا تھا۔لوگ بستیوں میں اپنی اوقات کے مطابق گھر بنا کر رہتے اور چین کی بانسری بجاتے تھے ۔ دیہات میں جگہ کی قلت کی وجہ سے

نامور کالم نگار ریاض احمد سید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بعض زمیندار البتہ اپنی ضرورت کے مطابق گاؤں سے باہر جگہ بنا لیتے تھے۔جہاں ایک آدھ رہائشی کمرہ اور مال مویشی باندھنے کی جگہ ہوتی تھی اور اسے ڈیرہ کہا جاتاتھا۔ اسلام آباد کی آباد کاری شروع ہوئی تو منصوبہ سازوں نے کیپٹل سٹی کے رہائشیوںکو تازہ پھل ، سبزیاں اور پولٹری کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے شہر کے نواح میں 600کے لگ بھگ زرعی فارم بھی تخلیق کئے جو زراعت سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کے قدیمی رہائشیوں کو الاٹ کئے گئے تھے ۔ مگر حریص نو دولتیے روز اول ہی سے انکے پیچھے تھے ۔ انہوں نے اس پرائم لینڈ کا کچھ اور ہی مصرف سوچ رکھا تھا کہ راول جھیل کے نواح میں 5/10ایکڑ کے ان پلاٹس پر جدید محلات تعمیر کرکے اسلام آباد میں رہتے ہوئے جنیوا کا لطف اٹھایا جائے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پر کشش پراپرٹی کاشتکاروں کے ہاتھ سے نکل کر ججوں ، جرنیلوں ، سیاستدانوں ، صنعت کاروں ، کاروباریوں اور بیوروکریسی کے کھڑپینچوں کو منتقل ہوگئی۔ سرکار نے محض گزارے موافق مختصر سی تعمیرات کی اجازت دی تھی۔ مگر مقتدر مالکان کو ڈرکس کا تھا ؟ چنانچہ 15/20ہزار مربع فٹ تک کے محلات تعمیر کر لئے ۔

جہاں گیسٹ ہائوسز اور شادی گھروں کے ساتھ ساتھ دیگر قسم کی کمرشل ایکٹویٹی بھی شروع ہوگئی۔ جو سب خلاف قانون ہے، سپریم کورٹ بھی اس کا نوٹس لے چکی ہے۔چنانچہ حکم ہوا کہ ایک خاص حد تک اضافی کورڈ ایریا والے مکانات کو فیس کے ساتھ ریگولرائز کر دیا جائے کیونکہ اس مملکت خداداد میں یہ استحقاق ہر صاحب حیثیت کو حاصل ہے، جبکہ غریب غرباء کے مکان میں پانچ فٹ کی خلاف ورزی بھی برداشت نہیں ، اور بلڈوزر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ آخر قانون کا بول بالا بھی تو ضرروی ہے۔ یوں فارم ہائوس سٹیٹس سمبل ٹھہرا ، جس کسی نے جس طریقے سے بھی کالا دھن اکٹھا کر لیا، پہلی ترجیح فارم ہائوس ٹھہرا، اور ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک ان ویران مکانوں کا ایک جال بچھ گیا ۔ جن میں مستقل کوئی نہیں رہتا، البتہ آنا جانا لگا رہتا ہے، اور اس آمدروفت کی فریکونسی کیا ہے ؟ بہت سارے یہ بھوت بنگلے تو ایسے ہیں جہاں مالکوں کا برسوں گزر نہیں ہوتا۔ ہر ہفتے جانے والوں کی تعداد بھی کم ہے، کیونکہ دیگر مصروفیات ہی پیچھا نہیں چھوڑتیں ، ایسے میں زیادہ تر کی سالانہ وزٹس کی اوسط سات اور گیارہ کے درمیان بنتی ہے۔اور جب چاہتے بھی ہیں، تو ایجنڈا کا تمام ترزور کھانے پر ہوتا ہے۔

جو بالعموم گھر سے جاتا ہے۔ کچھ کچے پکے کا انتظام وہاں بھی کر لیا جاتا ہے اور پھردن بھر صوفوں ، گدوں، چارپائیوں، حتیٰ کہ گھاس تک کی لتاڑ کر کے اور تھک ٹوٹ کر شام ڈھلے گھر سدھارتے ہیں کسی صحت مند ایک ایکٹیویٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یوں ملک کی لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین ان نام نہاد فارم ہائوسز کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ جہاں خرچے ہی خرچے ہیں اور کمائی دھیلے کی نہیں۔ لامحالہ آپ سوچیں گے کہ اس نامعقول قسم کی ایکٹیویٹی کا آخر مقصد کیا ہے اور لوگ اس پر مرتے کیوں جا رہے ہیں ؟ بڑے شہروں بالخصوص اسلام آباد کے نواح میں واقع فارم ہائوسز شادیوں ، پارٹیوں اور دیگر مشاغل کے لئے میسر ہیں ایک نیا ٹرینڈ بھی چلا رہے ہیں کہ ایسے ٹھکانوں پر ہمارا یوتھ، بالخصوص کھاتے پیتے گھرانوں والے، جنہیں پیسے دھیلے کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ملی جلی پارٹیاں کرتا ہے۔ خوب ہلا گلا ہوتا ہے اور بے وجہ کا جشن جس میں وہ سب کچھ ہوتا ہے، جو وہ اپنے گھروں یا کسی پبلک جگہ پر نہیں کر پاتے۔ پچھلے مہینے لاہور میں ایک پڑھے لکھے اور جہاندیدہ قسم کے دوست کے گھر میں تھا،

جو میرا ہم عمر ہے اور گورنمنٹ کالج میں اکٹھے تھے۔ مگر صحت نے ساتھ چھوڑ دیا، اور چلنے پھرنے میں دشواری ہے۔ گھر والے سب شہر کے نواح میں واقع فارم ہائوس جانے کیلئے پابہ رکاٹ تھے، مجھے بھی آمادہ کر لیا، مگر میرا دوست مسلسل معذرت کئے جا رہا تھا کہ وہ باقی لوگوں کا مزہ بھی کرکرا کر دے گا۔ یوں سب کو بھیج دیا اور ہم گھر میں شادمان، کہ ماضی میں سفر کیلئے وافر وقت مل گیا۔ اس روز بہت باتیں ہوئیں نئی بھی، پرانی بھی گپ شپ بھی اور راز و نیاز بھی اور اس کا یہ جملہ میرے ذہن میں کنداں ہو کر رہ گیا کہ فارم ہائوس بڑے چائو سے بنوایا تھا، بیماری نے جو پورا بھی نہ ہونے دیا، شمار کرتا ہوں تو محض سات وزٹس یاد پڑتے ہیں، جو میں نے اس جگہ کے کئے۔ بچہ لوگ البتہ ویک اینڈ پر جاتے ہیں اور وہاں کیا کرتے ہیں، میں نہیں جانتا، البتہ اتنا ضرورمعلوم ہے کہ میلاد کی محفل تو برپا نہیں کرتے ہونگے اور کاش میں نے یہ پیسہ کسی اور جگہ لگایا ہوتا۔ پھر اس کی آواز بھرا گئی اور آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند اخباری تراشے مجھے تھما دئیے جو سب کے سب مختلف شہروں کے فارم ہائوسز میں ہونے والے کالے کرتوتوں سے متعلق تھے اور نہ جانے پہ خلش کی کون سی قسم تھی کہ میری تمام تر کوشش کے باوجود میرا دوست نارمل نہیں ہو پا رہا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

معاشی بحران ختم ہونے کا وقت آن پہنچا : وزیراعظم عمران خان نے شاندار فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت تیل و …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *