Thursday , December 13 2018
ہوم > پاکستان > سن 536 کو تاریخ کا بدترین سال کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟ اس سال میں کیا واقعات پیش آئے تھے ؟ جانیے

سن 536 کو تاریخ کا بدترین سال کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟ اس سال میں کیا واقعات پیش آئے تھے ؟ جانیے

لندن (ویب ڈیسک) ہارورڈ یونیوسٹی کے ایک تاریخ دان اور آثار قدیمہ کے ماہر مائیکل مک کارمک دنیا کی تاریخ کے بدترین سال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں ’دنیا کے ایک بڑے حصے میں 536 کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ مائیکل مک کارمک نے ایک مشہور جریدے میں اس حوالے سے لکھا ہے

’یورپ میں پراسرار سی دھند پھیل گئی، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے چند حصے 18 ماہ تک مسلسل اندھیرے میں ڈوب گئے۔ سال 536 کے موسم گرما میں درجہ حرارت 1.2 سیلسیئس سے لے کر 2.5 سیلسیئس تک گر گیا۔ یہ گذشتہ 2300 سالوں میں سب سے سرد عشرہ تھا۔ اس موسم گرما میں چین میں برف باری ہوئی، فصلیں تباہ ہو گئیں، اور لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ آئرلینڈ کی تاریخ کی کتابوں میں پتہ چلتا ہے کہ سال 536-539 میں ’روٹی ملنا ناممکن‘ بن گیا تھا۔ پھر سال 541 میں مصر کے ساحلی شہر الفَرَما میں گِلٹی دار طاعُون پھیل گیا مک کارمک کہتے ہیں کہ اسے ’طاعون جسٹینین‘ کہا جانے لگا جو تیزی سے پھیلا اور اس کے نتیجے میں رومن سلطنت کی آدھی سے لے کر ایک تہائی تک کی آبادی شکار ہو گئی اور یہی سلطنت کے ٹوٹنے کی وجہ بھی بنی۔ لیکن آخر ان تباہ کن سلسلہ وار واقعات کی وجہ کیا تھی؟ اب آخرہارورڈ یونیورسٹی انیشی ایٹیو فار دی سائنس آف دی ہیومن پاسٹ کے محققین کو سوئس گلیشیئر سے حاصل کردہ برف کے ٹکڑے کے باریک بینی سے کیے گئے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ سال 536 کی بہار میں پڑنے والی برف میں

آتش فشانی شیشے کے دو انتہائی چھوٹے ذرات پائے گئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آئس لینڈ یا شاید شمالی امریکہ میں آتش فشاں پھٹا تھا، جس کی وجہ سے نصف شمالی کرۂ ارض پر راکھ پھیل گئی تھی۔محققین کے خیال میں دھند نما راکھ سرد موسم کے ہمراہ ہواؤں کے ساتھ یورپ اور بعد میں ایشیا میں پھیل گئی۔ اس کے بعد 540 اور 547 میں دو مزید بڑھے آتش فشاں پھٹے۔ محققین کو شواہد ملے ہیں کہ فضا میں موجود سیسہ گلیشیئرز میں منجمد ہو گیا، جس کی وجہ سے چھٹی صدی میں چاندی کی کان کنی میں جو تنزلی آئی وہ دوبارہ سے بہتر ہو گئی۔ اسی طرح سے سیسے کی پیداوار میں دوبارہ 660 میں بہتری آئی، اور قرونِ وسطیٰ کی ابھرتی معیشت میں چاندی شامل ہو گئی۔ قرونِ وسطیٰ اور رومن تاریخ دان کائل ہارپر کا کہنا ہے کہ ماضی کے ان بڑے واقعات آتش فشاں پھٹنے اور قدرتی آفات اور برف میں منجمد انسانی آلودگی سے ’ہمیں انسانوں اور قدرتی آفات کے درمیان ایسا ربط ملتا ہے جس سے رومن سلطنت کی تنزلی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور نئی قرون وسطیٰ کی معیشت کے ابتدائی آثار بھی ملتے ہیں۔(

یہ بھی دیکھیں

معاشی بحران ختم ہونے کا وقت آن پہنچا : وزیراعظم عمران خان نے شاندار فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت تیل و …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *