Wednesday , December 19 2018
ہوم > پاکستان > قدیم زمانے کے عاشق معشوق اور انکے مددگار ایک حجام کا قصہ اور عمران خان کے نادان دوست ۔۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کی ایک معنی خیز تحریر ملاحظہ کیجیے

قدیم زمانے کے عاشق معشوق اور انکے مددگار ایک حجام کا قصہ اور عمران خان کے نادان دوست ۔۔۔۔۔ صف اول کے صحافی کی ایک معنی خیز تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) نادان دوستی کا ذکر آیا ہے تو پہلے داستانِ الف لیلیٰ میں موجود ایک حجام کا قصہ پڑھ لیجئے، تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ بغداد کا ایک نوجوان، جو اپنے امیر کبیر تاجر باپ کی وفات کے بعد وارث بنا تھا، شہر کے قاضی کی دختر کو دل دے بیٹھا۔
نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک دن کسی بڑھیا کے توسط سے ملاقات کی سبیل پیدا ہوئی تو یہی نوجوان ناک نقشہ درست کرانے کے لئے علاقے کے حجام کی دکان پر پہنچا، حجام بڑا چرب زبان اور چالاک تھا، اُس نے باتوں ہی باتوں میں یہ معلوم کرلیا کہ اُس کا کروڑ پتی گاہک محبوبہ سے ملنے جائے گا۔ نوجوان تاجر حجامت سے فارغ ہوا تو اس نے حجام کو معمول سے زیادہ معاوضہ دیا، جس پر حجام بہت متاثر ہوا اور اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ محبوبہ سے ملاقات کے سلسلے میں جس طرح بھی ہو، پس پردہ رہ کر نوجوان کی مدد کرے گا۔ نوجوان تاجر نے پوری تیاری کے بعد اپنی منزل کا راستہ لیا، حجام بھی اُس کا پیچھا کرتا رہا، نوجوان تاجر بغلی دروازے سے قاضی کی حویلی میں داخل ہوا تو حجام بھی نظر بچا کراندر پہنچ گیا۔ قاضی صاحب اس وقت گھر ہی موجود تھے اور کسی بات پر نوکرانی سے خفا ہو کر اسے مار رہے تھے۔ ایک غلام اسے بچانے کے لئے آگے بڑھا تو قاضی نے اسے بھی دھر لیا اور پیٹنے لگے۔ غلام چلانے لگا تو حویلی کی ڈیوڑھی میں
چھپے حجام نے یہ سمجھا کہ نوجوان تاجر قابو آ گیا ہے اور اسے مار پڑ رہی ہے۔ وہ فوراً حویلی سے نکل کر محلے میں آیا اور شور مچا دیا: ’’قاضی صاحب میرے آقا کو پیٹ رہے ہیں‘‘ ۔۔۔ پھر وہ دوڑتا ہوا نوجوان تاجر کے گھر گیا اور اس کے غلاموں اور ملازموں کو بلا لایا۔ جو قاضی صاحب کے مکان پر دستک دے کر زبردستی دروازہ کھلوانے لگے۔ قاضی صاحب نے شور سنا تو حیران ہو کرباہر آئے، جنہیں دیکھتے ہی حجام نے کہا: ’’ہمارے آقا کو بے گناہ کیوں مارتے ہو‘‘۔ قاضی نے پوچھا: ’’تمہارا آقا کون ہے؟ وہ کب اور کیوں آیا اور بھلا اس نے میرا کیا بگاڑا ہے کہ مَیں اسے پیٹوں‘‘۔۔۔ نادان حجام نے جواب میں کہا قاضی تو بڑا دھوکے باز ہے۔ اب مکرتا ہے۔ میرا آقا تیری بیٹی کو پسند کرتا ہے۔ تیری بیٹی نے موقع پا کر آج اسے بلایا، تمہیں اس کی کسی طرح خبر ہو گئی اور تم نے اپنے غلاموں سے میرے تاجر آقا کو قتل کرا دیا۔ اُدھر نوجوان تاجر کمرے میں چھپا یہ سب باتیں سن رہا تھا۔ حجام نے اس کی موجودگی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ اُدھر قاضی صاحب حجام کی باتیں سن کر شرمسار ہو رہے تھے۔ انہوں نے اپنا بھرم رکھنے کے لئے کہا:
’’تمہارا آقا اندر ہے تو جا کر خود ہی لے آؤ‘‘۔۔۔نوجوان تاجر نے یہ سنا تو بدنامی کے خوف سے ایک صندوق میں چھپ گیا۔ حجام یہ سمجھا کہ تاجر کو اگر قتل کیا گیا تو اس کی لاش لازماً صندوق میں چھپائی ہو گی۔ وہ صندوق اُٹھوا کر گلی میں لے آیا۔ تاجر نے موقع غنیمت جانا اور صندوق سے نکل کر بھاگ کھڑا ہوا۔ قاضی کی حویلی کے سامنے جمع ہونے والے بے شمار لوگ اس کے پیچھے بھاگے، تاجر نے لوگوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے جیب سے اشرفیاں نکال کر پھینکنا شروع کر دیں۔ اسی اثناء میں وہ گرا اور ٹانگ پر چوٹ لگی اور وہ لنگڑا کر چلنے لگا۔ ایک گلی میں گھس کر چُھپنے کی کوشش کی تو حجام بھی وہاں پہنچ گیا اور فخریہ انداز میں چلانے لگا : ’’ دیکھا صاحب مَیں نہ کہتا تھا، جلدی شیطان کا کام ہے۔ خدا کا شکر ہے آقا مَیں آپ کی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اگر مَیں موقع پر نہ پہنچتا تو خدانخواستہ آپ کی جان جانے میں کون سی کسر باقی رہ گئی تھی، اب لایئے میرا انعام۔ نوجوان نے آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا اور اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا، اے خدایا، ایسے نادان دوستوں سے دشمنوں کو بھی محفوظ رکھ۔ اس داستان کا سب سے اہم کردار حجام ہے
اور اس کی عادت یہ ہے کہ خواہ مخواہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ نادان دوست کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو عقل کل سمجھ کر ہر معاملے میں دخل دیتا ہے۔ عمران خان کے وزراء ، مشیر، گورنرز بھی اسی عادت میں مبتلا ہیں۔ گورنر چودھری سرور نے تو اپنی اسی عادت کی وجہ سے کچھ دن پہلے پنجاب میں بحران کھڑا کردیا تھا، وہ تو عمران خان کی مداخلت سے فوراً غبار چھٹ گیا، وگرنہ چودھری برادران نے اپنے دوسرے چودھری بھائی کی مداخلت پر پنجاب کو ہلاکر رکھ دینا تھا، نادان دوستی کے کرشمے گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی دکھاتے رہتے ہیں، آتے ہی انہوں نے بلاول ہاؤس کی دیوار گرانے کا نعرہ لگایا تھا، جس پر پیپلز پارٹی آگ بگولا ہوگئی تھی، جس پر گورنر صاحب نے فوراً وضاحت کردی کہ ایسا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کپتان کے جن کھلاڑیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ نادان ہیں، معصوم ہیں، بھولے بھالے ہیں، انہوں نے ابھی تک کپتان کے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کی۔ مثلاً پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا، انہیں ایک ایسا وزیر اعلیٰ قرار دیا جاتا رہا، جسے فائل تک پڑھنا نہیں آتی،
مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کی۔ پنجاب کو بھی اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے یہ مصرع بھی پڑھا :’’ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘۔۔۔ کیا وہ وزراء کی نادانیوں اور ناکامیوں پر پردہ ڈال گئے ہیں، صرف تین وزراء نے اپنے محکموں کی کارکردگی تقریب میں بیان کی، غالباً باقیوں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، چلیں جی یہ تو ایسی کوئی بات نہیں، وزیر کام نہ بھی کرے تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑنا، فرق اسی وقت پڑتا ہے، جب وزیر اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف بولنا شروع کردے، یہ کام چودھری نثار علی خان کرتے تھے، نواز شریف کو دباؤ میں لانے کے لئے انہوں نے یہ حربہ کئی بار استعمال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کی تنقید سے چاہے نہ بچیں، تاہم اُن کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اِردگرد موجود خوشامدیوں، چاپلوسوں، اور نادان دوستوں پر نظر رکھیں، ان کا کام حجام کی طرح مشکل میں پھنسا کر بھی انعام کا تقاضا کرنا ہوتا ہے، ان کا اپنا تو کچھ نہیں جاتا، البتہ اپنے آقا کی عزت گنوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے

یہ بھی دیکھیں

پاکستان آنے والے متحدہ عرب امارات کے شہزادہ سلطان کے ساتھ خوفناک حادثہ ، تصاویر

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات سے پاکستان آئے شہزاہ سلطان ٹریفک حادثے میں شدید …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *