Wednesday , December 19 2018
ہوم > کالم > مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغیاں اورکٹوں کاحکومتی منصوبہ۔۔نون لیگ بھی شریک گناہ ہے۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

مرغی پہلے آئی یا انڈا، یہ ایک جانا پہچانا مخمصہ ہے اور بارہا مباحث میں محاورتاً اس لیے بولا جاتا ہے جب کسی مؤثر نتیجے پر پہنچنا ناممکن نظر نہ آئے لیکن میرا آج موضوع مرغی اورانڈے کا پہلے یابعدمیں وجودمیں آنا نہیں بلکہ سیاسی بیان بازی میں مرغی اورانڈے کے الفاظ کی مسلسل ہوتی بارش ہے جس میں کہیں نہ کہٰیں کم آمدن خاندانوں اورغربت سے متاثرہ افرادکامذاق بھی ہے۔
اسلام آبادمیں ہونے والی ایک تقریب میں مجھے اس وقت حیرانی ہوئی جب عمران خان نے دیہی غریب خاندانوں کوسپورٹ کرنے کیلئے مرغیاں اورانڈے دینے کی بات کی توکئی ایلیٹ کلاس کے مردوخواتین قہقہے لگانے لگے گویاکہ وہ کہہ رہے ہوں کہ یہ کیا بات ہوئی؟؟ اورمجھے ان کے اس رویے پرانتہائی افسوس ہواجو دیسی مرغی کھانا ضرور پسند کرتے ہیں مگریہ مرغی پالی کیسے جاتی ہے انہیں شایدعلم نہیں،وہ دیسی انڈہ کھانا توپسند کرتے ہیں مگریہ انڈے ان تک کیسے پہنچتے ہیں شاید وہ لاعلم ہیں۔۔دیہات میں لوگوں کے مسائل کیاہیں،بڑے شہروں کے مہنگے گھروں میں رہنے والےاکثر امیرزادوں کومیرانہیں خیال کہ علم ہوگا،ہاں کچھ لوگ درد دل رکھنے والے ضرور ہیں جنہیں میں ذاتی طور پرجانتاہوں۔۔پرندے اورجانوردیہات میں رہنے والے لوگوں کو کیاکیافائدے دیتے ہیں جنہیں نہیں معلوم ایک بار ذرا دیہات میں جاکردیکھیں کہ لوگوں کے گھرکیسے چل رہے ہیں؟۔۔گائے اوربھینس دیہاتیوں کو کس طرح مالی فائدے دیتی ہیں اس میں اہل علم کوبخوبی پتہ ہے۔زیادہ دودھ دینے والی گائے یا بھینس ایک چھوٹے خاندان کے روزانہ کے اخراجات بآسانی پورے کرسکتی ہیں ۔اس کے دودھ سے گھی تیارکرکے بیچا بھی جاسکتاہے اوردودھ بیچ کربھی لوگ روزانہ کے اخراجات پورے کرتے ہیں،دودھ پینے کیلئے الگ استعمال ہوتاہے اورمہمانوں کو چائے پیش کرنے کیلئے الگ اوراگریہی بھینسیں یاگائیں آپ کے پاس زیادہ مقدارمیں ہوں توکثیرمالی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جیسا کہ سینکڑوں کمپنیاں ایساکررہی ہیں۔اسی طرح کسی اکلوتی مرغی کی ذات پرہی مزاحیہ جملے کسنے کی بجائے زیادہ تعدادمیں مرغیوں کے فائدے پرغورکریں اوران لوگوں کے کاروبار کودیکھیں جنہوں نے مرغیاں پال کرپیسہ کمایا اورابھی تک کمارہے ہیں حتی کہ حمزہ شہبازکو کون نہیں جانتاجن کے بارے میں یہی مشہورتھا کہ چکن کا ریٹ ہی ان کی مرضی سے طے ہوتارہا کیوں کہ انہوں نے اس صنعت میں خاصی دلچسپی لی۔
مجھے حیرت ان سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پربھی ہوتی ہے جن کاتعلق مسلم لیگ نون سے ہے کہ تھوڑا عرصہ پہلے ہی نون لیگ کے دورحکومت میں وزیراعلیٰ کے منصوبے کو بھول گئے جس میں انہوں نے دیہی خواتین کو پانچ مرغیاں اور ایک مرغا رعایتی قیمت پردے کر اس پرکروڑوں روپے کی تشہیربھی کی تھی پھرپولٹری کی صنعت کی طرف راغب کرنے کیلئے خاصی تشہیرکی گئی جس میں لوگوں کو انڈے کھانے اورچکن استعمال کے فائدے بتائے گئے۔۔آج وزیراعظم کے غربت مکاؤ منصوبوں پرقہقہے لگانے والے اورلطیفے بنانے والے کیاپچھلی حکومت کے وقت کسی اوردنیا میں رہتے تھے؟؟ کیاایسے لوگ عمران خان کیساتھ ساتھ غربت کامذاق نہیں اڑا رہے اورمجھے ان افرادپربھی حیرت ہوتی ہے جو فیس بک پرتوحکومت پرتنقید کے نشترچلارہے ہیں مگرایک شخص مجھ سے پوچھ رہاتھا کہ یار ویسے مرغیوں اور کٹوں کا کاروبار گھاٹے کاسودا نہیں ،،،کرلینا چاہیے ۔۔۔یہ ایسا کاروبار ہے جس میں آپ کم سے کم سرمائے سے شروع کرسکتے ہیں۔۔سینئرصحافی حامدمیر نے بھی اسی معاملے پرایک کالم لکھاجس میں وہ لکھتے ہیں کہ
میں جناح کنونشن ہال میں تقریب میں شریک تھا اورا س دوران میری ایک وفاقی وزیر سے گفتگو جاری تھی اور مجھے لاہور سے ایک بیورو کریٹ نے واٹس ایپ پر کال کی اور بتایا کہ آج وزیراعظم عمران خان نے مرغیاں اور کٹے پالنے کے جس وژن کا اعلان کیا ہے یہ دراصل شہباز شریف کا وژن ہے۔ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے مویشی اور مرغیاں پالنے کے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے تھے اور عمران خان نے شہباز شریف کے ان منصوبوں کو پیش کیا ہے۔

شہباز شریف نے مرغیاں پالنے کی اسکیم کا آغاز 2016ءمیں کیا تھا، اس سکیم کے تحت پنجاب کے سرکاری گرلز اسکولوں کی بچیوں کو چار مرغیاں اور ایک مرغا دینے کا اعلان کیا گیا ساتھ میں ایک ڈربہ بنانے اور مرغیوں کی فیڈ کیلئے ماہانہ رقم بھی دی گئی۔ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب کے ایک ہزار گرلز اسکولوں میں اس سکیم کا آغاز کیا۔
مجھے یہاں صرف یہ بتائیں کہ عمران خان غریبوں کو مرغیاں دے رہا ہےیا پھر ان سے لے رہاہے؟؟؟ اگرکچھ دے ہی رہاہے تواس میں اتنا طوفان کھڑا کرنے کی کیا ضرورت ہے اورویسے بھی یہ نون لیگ کی حکومت میں بھی تو ہوا،نون لیگ کوتوخوش ہوناچاہیے کہ ان کے منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔مجھے تواب ڈرہے کہ مرغی پہلے آئی یا انڈہ کی طرح کہیں یہ بھی ایک نہ حل ہونے والا معاملہ ہی نہ بن جائے کہ مرغیاں دینے کامنصوبہ نون لیگ کاہے یاپھرتحریک انصاف کا؟؟۔۔منصوبہ بحرحال جس کابھی ہو،یہ برا نہیں بہت اچھا منصوبہ ہے۔۔عمران خان کواس پرگھبرانے کی ضرورت نہیں وہ اس پرفوری عملدرآمد کریں اوردیہات میں زیادہ سے زیادہ مرغیاں اورانڈے تقسیم کریں جب کہ مویشی پال حضرات کوبھی مکمل سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے اوراگرسونے کاچمچا منہ میں لے کرپیدا ہونے والے اس کامذاق اڑابھی لیں توپریشان نہ ہوں کیوں کہ یہ منصوبہ صرف موجودہ حکومت کاہی نہیں،نون لیگ بھی اس میں برابرکی شریک گناہ ہے۔۔اتنابرا ہوتاتووہ خود بھی نہ کرتے۔۔

نوٹ:محمدمناظرعلی مختلف اخبارات اورویب سائٹس کیلئے لکھتے ہیں اورایک ٹی وی چینل سےبھی وابستہ ہیں،ان سے اس فیس بک لنک پرکلک کرکے رابطہ کیاجاسکتاہے۔
https://www.facebook.com/munazer.ali?ref=bookmarks

یہ بھی دیکھیں

بھارت کامکروہ چہرہ ایک بارپھربے نقاب۔۔۔۔تحریر:محمدمناظرعلی

ہمسایہ ملک کوپاکستان کاوجودشروع دن سے ہی کھٹکتاآرہاہے حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اچھے ہمسائے کاثبوت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *