Monday , December 10 2018
ہوم > پاکستان > قبضہ مافیا کے سربراہ منشا بم سے متعلق ایک اور انکشاف ہو گیا

قبضہ مافیا کے سربراہ منشا بم سے متعلق ایک اور انکشاف ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک) قبضہ مافیا منشا بم کی سرکاری اراضی پر قبضے کی ایک اور کہانی سامنے آگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق منشا بم پولیس حراست میں ہیں لیکن ان کا ایک اور سرکاری اراضی پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔ جوہر ٹاؤن سی ون بلاک میں ایل ڈی اے نے بیوہ کوٹہ کے پلاٹس الاٹ کیے لیکن،

منشا بم نے فائلوں کی بندر باٹ کر کے بیوہ کوٹوں کے پانچ پلاٹس پر قبضہ کر لیا۔یہی نہیں بلکہ ان پلاٹوں پر گھر تعمیر کر کے فروخت بھی کر دئے۔ اس دوران ایل ڈی اے انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا کہ منشا بم نے جن پلاٹس پر قبضہ کیا، وہ بیوہ کوٹہ پلاٹ ثمن زار کے مفاد عامہ کے پلاٹوں سے متصل ہیں۔ ایل ڈی اے نے 2007ء میں بیوہ کوٹہ پلاٹس پر قبضوں سے متعلق رپورٹ تیار کی تھی۔منشا بم کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے 11 سال اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی۔ذرائع نے بتایا کہ پلاٹوں کا رقبہ 25 مرلے سے زائد ہے اور اس حوالے سے ایل ڈی اے کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ ۔ یاد رہے کہ قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والا منشاء بم پولیس کے چھاپے کے دوران مزاحمت کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے لاہور میں قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والے منشا بم کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا ۔پولیس حکام کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ منشاء بم کی 3 اکتوبر کی رات بارہ سے ایک بجے کے درمیان اپنے ڈیرے پر آمد متوقع ہے جس کے بعد پولیس نے اپنے دو اہلکاروں کو وہاں ڈیرے پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا۔ ایس پی صدر معاذ ظفر کا کہنا ہے کہ موقع پر تعینات پولیس اہلکاروں نے جب منشاء بم کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ موجود گارڈز نے مزاحمت شروع کر دی اور منشاء بم پولیس ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ہی فرار ہو گیا ۔ البتہ پولیس نے منشاء بم کی گاڑی قبضے میں لے لی تھی۔ جس کے بعد 15 اکتوبر کو منشا بم نے خود ہی سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو کر گرفتاری دے دی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

تلور اور مور کے شکا ر اور گوشت کا جنون : بھارتی صوبہ راجھستان کے اکثر خاندان لاولد کیوں رہ جاتے ہیں ؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق پر مبنی ایک انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کسی زمانہ میں افغانستان بھی تَلَور کے غیر ملکی شکاریوں کا پسندیدہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *