Monday , December 10 2018
ہوم > پاکستان > صرف تمہاری وجہ سے پوری قوم اور عدلیہ محصور ہے۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ بات کسے اور کیوں کہی؟

صرف تمہاری وجہ سے پوری قوم اور عدلیہ محصور ہے۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ بات کسے اور کیوں کہی؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو احتساب عدالت میں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں 17دسمبر تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا بحث کا وقت ہوتا ہے الف لیلی کی کہانی تو بیان نہیں کرنا ہوتی ،

آپ نے ساری قوم اور عدلیہ کو محصور بنا کر رکھا ہے ، یہ ہے آپ کی وکالت،معاملہ کیوں لٹکا رہے ہیں؟ کیسے بڑے وکیل ہیں آپ؟ مقدمات کی سماعت کو غیر معینہ مدت تک لٹکایا نہیں جا سکتا، احتساب عدالت 24 دسمبر تک فیصلہ سنائے ، سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے ٹرائل کی مدت میں آٹھویں بار توسیع کے لئے درخواست کی جسے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فوری سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کو طلب کرلیا،سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریفرنسز نمٹانے کے لئے بار بار توسیع کی درخواست پر برہمی کا اظہار کیا اور خواجہ حارث سے کہا آپ وقت پر کام مکمل نہیں کرسکتے تو کیس لیا ہی نہ کریں،خواجہ حارث نے کہا بڑا وکیل ہوں نہ کبھی دعویٰ کیا لیکن بحث مکمل کرنے کیلئے 10 روز چاہئیں ،کیا عدالت کو شکایت آئی ہے کہ کیس لمبا کررہا ہوں؟ آپ کو ایسا لگتا ہے تو کیس چھوڑدیتا ہوں لیکن یہ بالکل مناسب نہیں کہ میں کیس کھینچ رہاہوں ،چیف جسٹس نے کہا آپ ہمیشہ عدالت پر غصہ کر جاتے ہیں، شکایت کسی نے نہیں کی لیکن ایسا تاثر ضرور دیا جا رہا ہے ،آپ کو پتا ہے میں کیسے کام کرتاہوں؟خواجہ حارث نے کہا میری توانائی آپ جیسی ہے نہ آپ کی طرح کام کرسکتا ہوں ،

چیف جسٹس نے کہا کیس چھوڑنے نہیں دیں گے ، آپ کا رویہ ہی ایسا ہے ، ہر بات پر ناراض ہو کر بائیکاٹ کر دیتے ہیں، آ پ کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو آپ کی مرضی کے خلاف ہو ،آپ کو کہا ہفتہ اور اتوار کو بھی کیس کی پیروی کریں لیکن آپ کو اس پر بھی اعتراض تھا، آپ کو کام کرنے کا پتا ہے ؟ اب کیس چھوڑنے کی بات کررہے ہیں یہ بھی تو تاخیری حربہ ہے ،خواجہ حارث نے کہا میں نے کبھی وقت نہیں مانگا ،چیف جسٹس نے کہا مقدمات کو لمبا کراکر پوری عدلیہ کو ملوث کیا ہوا ہے لیکن ادارے کو تباہ نہیں ہونے دیں گے ، ہمیں تاریخ دیں آپ کس دن اور کتنے بج کر کتنے منٹ تک بحث مکمل کریں گے ؟خواجہ حارث نے کہا 17 دسمبر شام 4 بجے تک بحث مکمل کرلوں گا،چیف جسٹس نے کہا 17 دسمبر تک دلائل مکمل کرلیں، اس کے بعد نیب پراسیکیوٹر جواب الجواب دیں اور احتساب عدالت کو فیصلہ لکھنے کے لئے 4 دن دے رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا خواجہ صاحب آپ غصہ بہت جلدی کر جاتے ہیں ،خواجہ حارث نے کہا پہلے بھی کہہ چکا ہوں یہ تاثر غلط ہے ،میں تو چاہتا ہوں تمام معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائیں ،چیف جسٹس نے کہا خواجہ صاحب ہم نے آپ کی بات مان لی، اب آپ بھی مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں،تمام لوگوں کی نظر ان مقدمات پر ہے ،آپ اپنی اور قوم کی زندگی آسان بنائیں جس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی .

یہ بھی دیکھیں

تلور اور مور کے شکا ر اور گوشت کا جنون : بھارتی صوبہ راجھستان کے اکثر خاندان لاولد کیوں رہ جاتے ہیں ؟ دنگ کر ڈالنے والے حقائق پر مبنی ایک انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) کسی زمانہ میں افغانستان بھی تَلَور کے غیر ملکی شکاریوں کا پسندیدہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *