43

لڑکی کی حفاظت کرتا فرشتہ

یہ ایک لڑکی کی سچی کہانی ہے۔ ایک جوان لڑکی بہت بیمار تھی اور اسے ہسپتال میں آتے جاتے تین سے چار ماہ گزر چکے تھے۔ اس کو ہسپتال کے اتنے چکر لگانے پڑے کہ اس کو پورا عملہ پہچانتاتھا۔ یہ ایک امریکی لڑکی تھی اور پچھلے ایک ماہ سے اس کی طبیعت اتنی ناساز ہو گئی

تھی کہ اس کو آئی سی یو میں لائف سپورٹ پر زندہ رکھا ہوا تھا۔ ایک ماہ گزر جانے کے بعد ڈاکٹرز اس کی رپورٹیں دیکھ کر سمجھ چکے تھے کہ اس کی صحت کے بازیاب ہونے کا کوئی طریقہ ممکن نہ تھا۔ انہوں نے لڑکی کی ماں سے بات کیاور اجازت طلب کر لی کہ اس کی بیٹی کو ہفتے کے دن لائف سپورٹ سے اتار دیا جائے۔ اس کی ماں جانتی تھی کہ ڈاکٹر وں نے پوری جان لگا لی تھی اور وہ اب مزید کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس نے خدا کی رضا سمجھ کر صبر کیا اور اجازت دے دی۔ ڈاکٹروں نے اس کو ہفتے کے دن لائف سپورٹ سے اتار دیا۔ سب لوگ حیران رہ گئے جب وہ اگلے ہفتے بدھ کے دن تک زندہ بچی رہی۔ پرائیویٹ ہسپتال تھا، انہوں نے جگہ جگہ کیمرے نصب کر رکھے تھے۔ بدھ کے دن ایک نرس جب آئی سی یو کے کیمرے کو مانیٹر کر رہی تھی تو اس کی نظر لڑکی کے کمرے میں داخل ہونے والے دروازے پر نصب کیمرے کی وڈیو پر پڑی تو اس نے ادھر ایک لمبا سا آدمی دیکھا۔ وہ بہت حیران ہوئی اور جلدی سے ہال وے میں پہنچ گئی۔ جا کر دیکھا تو اصل میں ادھر کوئی آدمی نہیں تھا۔ اس نے ایک دفعہ پھر کیمرے کی وڈیو میں دیکھا تو پھر اسے وہ آدمی نظر آیا۔ اس نے سوچا کہ شاید مجھے

ہی وہم ہو رہاہے۔ اس نے اپنی دو ساتھی نرسوں کو بلا کر سکرین دکھائی۔ انہوں نے بھی آدمی کو دیکھا۔ پھر ان میں سے ایک اس ہال وے میں گئی تو کوئی بندہ نہ بندے کی ذات۔ وہ لوگ پریشان ہو گئے ۔ انہوں نے سارے سٹاف کو بلایا۔ ڈاکٹر، نرسیں، ایڈمن۔۔۔سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کے دروازے پر ایک آدمی کا ہالہ کھڑا تھا۔ اسی آدمی کی تصویر آپ اس کہانی کے اوپر دیکھ سکتے ہیں۔ سب نے سوچا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے جو اس کی حفاظت کر رہا ہے، وہ سب عیسائی تھے اور گاڈ پر یقین رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ نے سوچا کہ اس معجزے کی وڈیو بنائی جائے تاکہ فیس بک یا یو ٹیوب پر لگا کر ساری دنیا کو مطلع کیا جائے۔ لیکن جس جس نے بھی کوشش کی اس کے موبائل کے کیمرے میں سکرین پر آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ سارے سٹاف کی وڈیو روم مین موجودگی کے دوران ہی ایک دم اس آدمی کا وجود مکمل طور پر ایک نور بن گیا۔ پورا ہال وے اتنا روشن ہو گیا کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ آدمی بغیر دروازہ کھولے لڑکی کے کمرے میں داخل ہو گیا اور اس کا پورا کمرہ بھی نور سے بھر گیا۔ اس ہفتے کے اتوار والے دن وہ لڑکی ہوش میں آگئی اور ایک ہفتے میں بازیاب ہو گئی۔ اس کے گھر والے

اگلے ہفتے کی اتوار کو اس کو واپس گھر لے گئے۔ سب لوگ حیران تھے کہ یہ کیسے ہوا لیکن انہوں نے یہی خیال کیا کہ اس لڑکی کی ماں کی دعاؤں کا اثر تھا جو دن رات چرچ اور ہسپتال کے چکر لگاتی رہتی تھی۔ اس واقعے کے جس وڈیو کی سکرین ریکارڈنگ اس وقت ہوئی، اس میں وہ نور کا ہالہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ایک فریم کو ایک تصویر کی صورت نکال کر ہسپتال نے اپنی اوفیشل ویب سائٹ پر جاری کر دیا اور وہی تصویر یہاں بھی استعمال ہوئی ہے۔ کچھ لوگ دین کو مانتے ہیں اور کچھ اس کو کمزور لوگوں کی سوچ کی بیساکھی گمان کرتے ہیں۔ سچ کوئی نہیں جانتا لیکن جو لوگ یقین رکھتے ہیں ، توکل کرتے ہیں، اصلی زندگی میں بھی وہ اس طرح کے معجزے دیکھتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو ہم سوچتے ہیں ہمیں وہی دکھائی دیتا ہے۔ ہم وہی بن جاتے ہیں۔ جب بھی بہت سے دینی مسلمان ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہوتے ہیں تو مل کر دعائیں کرتے ہیں اور اسلام کہتا ہے کہ مشترکہ دعا کی محفل کے اوپر فرشتے آکر بیٹھتے ہیں اور اچھی باتیں سنتے ہیں اور ہر دعا پر آمین بولتے ہیں۔ایسے میں دعا کی قبولیت کے چانسز بہت بڑھ جاتے ہیں۔ شاید وہ تمام کرسچن ہسپتال کا عملہ ذہنی طور پر کمزور تھا اس لیے ان کا دین پر اعتقاد تھا اور اتنے ڈھیر سارے لوگوں کو ایک وقت پر ایک ایسا ہالہ سکرین پرنظر آرہا تھا۔ مگر مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ رب کہتا ہے کہ میں تمہاری حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر دیتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں