Friday , March 22 2019
ہوم > دلچسپ و عجیب > طب کی دنیا میں انقلاب :اب شوگر ٹیسٹ کرنے کے لیے سوئی چبھونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ۔۔۔ ذیابیطس کے کروڑوں مریضوں کا دل خوش کردینے والی خبر

طب کی دنیا میں انقلاب :اب شوگر ٹیسٹ کرنے کے لیے سوئی چبھونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ۔۔۔ ذیابیطس کے کروڑوں مریضوں کا دل خوش کردینے والی خبر

ریاض( ویب ڈیسک) سعودی عرب کے ماہرین نے انک جیٹ پرنٹر سے کاغذ پر چھاپے جانے والا سینسر تیار کیا ہے جو تھوک کی مدد سے خون کے اندر شکر کی مقدار بتاسکتا ہے۔ اس طرح بار بار انگلی میں نوک چبھو کر ذیابیطس کے اتار چڑھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے
گی۔ فلیکسیبل الیکٹرونکس‘ نامی جریدے میں شائع رپورٹ کی معلومات کے مطابق کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حیاتیاتی ماہر ساہیکا عنال، انجینئر خالد سلامہ اور مٹیریل کے ماہر دریا باران نے مشترکہ طور پر یہ اہم شے ایجاد کی ہے۔سب سے پہلے انہوں نے اِنک جیٹ پرنٹر کی عام روشنائی (انک) میں ایسے پالیمر شامل کیے جن سے بجلی گزرسکتی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے چمکیلے کاغذ کی پٹیوں پر خردبینی برقیرے (الیکٹروڈ) چھاپے۔ اس کے بعد ہر الیکٹروڈ کے اوپر ایک خامرہ (اینزائم) لگایا جس کا نام گلوکوز آکسیڈیز ہے اور اس کے بعد پوری سطح کو نیفیون پالیمر کی جھلی سے ڈھانپ دیا گیا اس طرح انقلابی کاغذی سینسر تیار ہوگیا۔ اب اس پر مریض کا تھوک لگایا گیا تو اس نے گلوکوز آکسیڈیز کے ساتھ ملتے ہی ایک برقی سگنل خارج کیا جو برقیروں تک گیا۔ اسے الگ سے کسی دستی آلے (مثلاً فون) پر بھی وصول کیا جاسکتا ہے۔ اس سگنل کی شدت بتاتی ہے کہ خون میں شکر کی مقدار کس درجے پر ہے۔ماہرین کے مطابق تھوک میں موجود اسکاربک ایسڈ پالیمر سے تعامل کرتا ہے جس سے خون میں شکر کی مقدار پتا کی جاسکتی ہے تاہم خامرے جلدی ختم ہوجاتے ہیں لیکن اسے ایک پیکٹ میں بند کرکے ایک ماہ تک کارآمد رکھا جاسکتا ہے۔ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ سفر جاری رہے گا اور اسے جسمانی مائعات میں دیگر بیماریوں کی شناخت کے قابل بھی بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شادی کیوں کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی شادی نہیں ہوئی تو ضرور پڑھیں

لوگ بزنس پارٹنر شپ کیوں کرتے ہیں؟ کیا رات سونے کے دوران کوئی خواب آتا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *