Wednesday , January 16 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > غریب کا دستر خوان

غریب کا دستر خوان

جلدی کرو افطاری کا وقت ہونے والا ہے، ساجد صاحب گھڑی دیکھتے ہوئے بولے…شربت بنا لیا بیگم…؟ جی بنا لیا، بیگم نے جواب دیا…اور لسی بنا لی…؟ جی وہ بھی بنالی ہے، بیگم مسکراتے ہوئے بولیں، ہاں دیکھو تو سہی! گرمی کس قدر شدید ہے، لسی کے بغیر تو گزارا ہی نہیں اور پھر
بیگم نے بچوں کے ساتھ ملکر ایک ایک چیز دستر خوان پر سجانا شروع کردی یہ پکوڑے، یہ سموسے، یہ دہی بڑے، یہ کسٹرڈ، یہ چناچاٹ، یہ فروٹ چاٹ… لسی الگ، روح افزا کا دودھ والا شربت الگ اور بچوں کی فرمائش پر کوئس بھی بنایا گیا… ارے بیگم! کھجوریں تو لے کر آؤ… کھجور سے روزہ کھولنا تو سنت ہے بھئی… جی جی لاتی ہوں، دھورہی ہوں، یہ لیجئے کھجوریں بھی آگئیں، دستر خوان انواع و اقسام کے کھانوں سے سج گیا، بڑے چھوٹے سب بیٹھ کر روزہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے، چھوٹا بیٹا اسد کہنے لگا، امی چکن رول تو بنائے نہیں آپ نے…؟ بیٹا اتنا کچھ تو ہے، اب باقی کل بنالیں گے، سب کچھ آج ہی کھانا ہے کیا…؟ اچھا ٹھیک ہے لیکن کل ضرور بنائیے گا امی! اچھا ٹھیک ہے بیٹا…. ماں نے بڑے پیار سے بیٹے کو بہلایا… بیگم ! سالن کیا بنایا ہے، نماز کے بعد میں کھانا کھاؤں گا گھر آکر، ساجد صاحب بیگم سے مخاطب ہوکر بولے، جی جی، سالن بھی بنالیا ہے آپ کی پسند کا، کوفتے پہلے ہی بنا کر فریج میں رکھے ہوئے تھے، بس منٹوں میں سالن بھی تیار ہوگیا ہے، بیگم فخر سے مسکرائیں… واہ جناب، ہماری بیگم کی سلیقہ مندی کے کیا کہنے… ماشاءاللہ اور پھر سب گھر والوں نے دعا کے لئے
ہاتھ اٹھا دیئے… “افطار کے وقت روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس ایک دیوار کا ہی تو فرق تھا، دیوار کے اس پار شکیل کا گھر تھا… اری نیک بخت کچھ ہے روزہ کھولنے کے لئے…؟ تھکا ماندہ شکیل نقاہت زدہ چہرہ لئے اپنی بیوی سے پوچھ رہا تھا، بیوی کچن سے ہی آواز لگا کر بولی ہاں ہاں اللہ کا شکر ہے، سب کچھ ہے، بھوکے نہیں رہیں گےاور پھر شکیل کی بیوی رضیہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ مل کر دستر خوان لگانے لگی، ابلے ہوئے آلوؤں کا سالن اور روٹیاں دستر خوان پر لاکر رکھ دیں، ساتھ میٹھا شربت بھی، یہ میٹھا شربت وہ “شربت” ہوتا ہے جس میں چینی کے سوا اور کچھ نہ ہو، نہ روح افزا، نہ نورس، نہ کوئی اورمشروب، نہ ہی لیموں، صرف سادہ چینی کا میٹھا پانی اور گنتی کی چھ سات سوکھی سی پکوڑیاں، سوکھی اس لئے کہ ان بیچاری پکوڑیوں کے نصیب میں نہ پیاز نہ آلو نہ پالک، نہ بند گوبھی کچھ بھی نہیں…. کھائیں تو روزہ داروں کے حلق میں اٹکنے لگیں مگر کیا کریں مجبوری ہے نا… آخر غریب کا بھی تو دل چاہتا ہے کچھ چٹ پٹا کھانے کو…. * یہ ہے غریب کا دستر
خوان * شکیل کی دونوں بڑی بیٹیاں جو قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھیں، وہ بھی آکر بیٹھ گئیں اور یہ مختصر سا گھرانہ روزہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا.شکیل نے ایک نظر دستر خوان کی طرف دیکھا اور پھر اپنی تینوں معصوم بیٹیوں کی طرف، دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی…… اس عمر میں بچیوں کے کیا کیا شوق ہوتے ہیں ۔ اور میں تو ان معصوموں کو ڈھنگ سے کھلا بھی نہیں پاتا ۔۔۔۔افطار کا وقت، قبولیت دعا کا وقت ہوتا ھے ۔ اور وہ سب دستر خوان کے چاروں طرف بیٹھ کر دعائیں مانگنے لگے۔۔۔۔ شکیل کی آنکھوں میں آنسو آگئے،،،، رب کی بارگاہ میں فریاد کرنے لگا…. اے میرے اللہ! میری معصوم بچیوں کے نصیب اچھے کر… آگے کہیں غربت کی چکی میں پسنے سے بچا لینا، میرے مولٰی انہیں نیک، شریف اور خوشحال رشتے عطا فرما، بچیاں بہت سمجھدار اور صبر والی تھیں مگر سب سے چھوٹا بیٹا احمد، وہ یہ سب برداشت نہیں کرپاتا تھا، ابھی میں اسد کے ساتھ اس کے گھر چلاگیا تھا امی… اس کے گھر میں دستر خوان روزانہ بھرا ہوتا ہے ہر طرح کی چیزوں سے، امی ہمارے گھر میں کیوں نہیں ہوتا یہ سب کچھ…؟ احمد ماں کی طرف دیکھ کر منہ بسورنے لگا…مجھ سے نہیں کھائے جاتے، روز روز
کبھی آلو، کھی ٹنڈے، کبھی دال، کتنی دفعہ سمجھایا ہے بیٹے، صبر کرو، اللہ سب ٹھیک کردےگا، رضیہ اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے بولی، صبر تو کرتا ہوں امی، مگر کبھی ہفتے میں ایک دفعہ تو اچھا کھلا دیا کریں، کبھی اس شربت میں روح افزا تو ڈال دیا کریں، کبھی تو گوشت یا مرغی کا سالن بنالیا کریں، یہ ٹنڈے، توری اور ابلے آلو ہی ہمارے نصیب میں رہ گئے ہیں کیا…؟ چھوٹا احمد نہ جانے کیوں آج ضبط کے بندھن چھوڑ بیٹھا تھا، ہچکیوں سے رو رہا تھا، ماں کا کلیجہ تڑپ اٹھا، بڑھ کے احمد کو سینے سے لگالیا اور خود بھی سسک سسک کر رونے لگی….صبر کر میرے لال، صبر کر! اللہ نے صبر کرنے والوں کے لئے جنت بنائی ہے، وہاں سب کچھ ملے گا بیٹا! صبر کرو…. اور احمد ماں کے سینے سے لگا گھٹ گھٹ کے ہچکیاں بھرتا رہا، ابھی گیارہ، بارہ سال کا ہی تو تھا مگر روزے سب پورے آرہے تھے اس کے، آج نہ جانے کیوں ایسے بکھرا کہ سنبھالنا ہی مشکل ہوگیا…. بچہ ہی تو تھا، اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کو عیش وعشرت میں دیکھ کر اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں نہیں حاصل…؟ بچیاں بھی اندر ہی اندر گھٹ رہی تھیں، حالات کو سمجھتی تھیں، اس لئے کبھی کہتی بھی نہ تھیں
ماں سے کہ امی جان! صرف افطاری ہی کی کیا بات ہے،سحری میں بھی تو سوکھی روٹیاں نہیں کھائی جاتیں، کاش کبھی پراٹھا ہی بناکر کھلا دے ماں… سحری میں دو چمچ دہی ہمیں بھی مل جایا کرے تو کیا ھے…؟ پڑوسن بتارہی تھی، سحری میں دہی کھانے سے پیاس نہیں لگتی، وہ اندر ہی اندر نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھیں اور چھوٹی بیٹی مدیحہ بھی آسمان کی طرف دیکھنے لگی…. پیارے اللہ! تو نے تو اپنی کتاب قرآن مجید میں جگہ جگہ فرمایا ہے :” اللہ کی راہ میں خرچ کرو” ابھی تو میں سورہ بقرہ کا ترجمہ پڑھ رہی تھی…. ترجمہ! جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں پھر نہ تو (جس کو دیا اس پر) احسان جتاتے ہیں اور نہ (کسی اور طرح) اس کو اذیت پہنچاتے ہیں تو ان کے لئے ان کے رب کے پاس اس کا ثواب ہے اور (قیامت کے دن ) نہ تو ان کو کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے… اللہ جی! کیا لوگ قرآن نہیں پڑھتے…؟ کیا قرآن ان کی سمجھ میں نہیں آتا…؟ تو پھر یہ لوگ کیوں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے…؟ یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے غریب کا بھی تو دل ہوتا ہے،
خواہشیں ہوتی ہیں، کبھی کبھی تو ہمارا بھی اچھا کھانے کو دل چاہتا ہے….میرے پیارے اللہ! میں تجھ سے گلہ نہیں کررہی، تو ہمیں جس حال میں بھی رکھے، ہم تجھ سے راضی ہیں…. میں تو بس اپنے دل کی باتیں تجھ سے کر رہی ہوں…. امی سے کہوں گی تو اور دکھی ہوں گی ناں! اسی لئے تجھ سے کہتی ہوں پیارے اللہ، کچھ اچھا کھانا کھانے کو بہت دل چاہ رہا ہے، بہت پیاس لگی ہے میرے اللہ! دودھ والا شربت پینے کو بہت جی چاہ رہا ہے… میرے پیارے اللہ! تو ہمیں اپنے فضل سے دنیا میں بھی کھلا اور آخرت میں بھی ہمیں نعمتوں بھری زندگی عطا فرما اور ہمیں اپنا فرمانبردار بنالے، پیارے اللہ! اپنے خزانوں میں سے ہمیں بہت ساری کھانے کی اچھی اچھی چیزیں عطا فرما… مدیحہ اپنی ہی رو میں اللہ سے باتیں کیے جارہی تھی… گھر کا ہر فرد اللہ کے ساتھ مناجات میں مصروف تھا، افطار سے پہلے کا آدھا گھنٹہ یونہی گزر گیا، اذان ہونے ہی والی تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا… شکیل نے دروازے پر جاکر دیکھا تو ساجد صاحب کھانے کی ایک بڑی سی ٹرے لئے کھڑے تھے، ساتھ میں ان کا بیٹا بھی شربت کا جگ لیے ہوئے کھڑا تھا… شکیل حیران ہی رہ گیا، ساجد صاحب نے آگے بڑھ کر سامان نیچے رکھ دیا اور شکیل کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوگئے… مجھے معاف کرنا دوست، ساتھ رہتے ہوئے بھی میں تمہارے حقوق سے غافل رہا، ابھی اسد کے ضد کرنے پر آئسکریم لینے نکلا، تو گلی سے گزرتے ہوئے احمد کی روتی آواز نے میرے قدم جکڑ لیے، مجھے معاف کرنا میرے بھائی، میں ازحد شرمندہ ہوں، میں پیٹ بھر کے کھاتا رہا اور پڑوس کی خبر بھی نہ لی… اللہ بھی مجھے معاف کرے پھر ایک لفافہ بھی جیب سے نکال کر شکیل کی جیب میں زبردستی ڈال دیا، یہ میری طرف سے تمہارے بچوں کے لئے ہے شکیل! ان کی افطار و سحر کی دعوت اب باقی رمضان میری طرف سے… ساجد صاحب کے پلٹتے ہی اذان شروع ہوگئی اور احمد خوشی خوشی روح افزا والا دودھ کا شربت پینے لگا اور چھوٹی مدیحہ وہ تو اتنی خوش تھی کہ بس نہیں چل رہا تھا اپنے پیارے اللہ پر قربان ہوجائے۔ وہ کتنا قریب ہے دکھی دلوں کے، کوئی اسے سچے دل سے پکارے تو سہی!!

یہ بھی دیکھیں

اسیر

ایک کسان روز اپنے گدھے پر دور سے زرخیز مٹی اپنے کھیتوں کیلئے لے کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *