Wednesday , January 16 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > بادشاہ کی حکمتیں

بادشاہ کی حکمتیں

یہ ایک بادشاہ کی کہانی ہے، بہت عادل اور منصف مزاج تھا، عوام پر بہت شفیق تھا، مجرموں کو قرار واقعی سزا دلواتا جس کی وجہ سے سلطنت میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ لوگ خوشحال تھے اور ہر طرف سکون ہی سکون تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک ایسا مجرم پیش
کیا گیا جس کے لیے موت کی سزا تجویزکی جاچکی تھی۔۔۔۔۔۔بادشاہ کا اسلوب تھا کہ قتل کے مجرم سے اکیلے میں بات کیا کرتا تھا، اس کے جرم کی مکمل تفصیل حاصل کرتا اور اس کے جرم کے محرکات نفسیاتی طور پر جانچا کرتا تھا، یہ ایسا معاملہ تھا جس کی بادشاہ اور مجرم کےعلاوہ کسی کو خبر نہیں ہو پاتی تھی اور مجرم بھی اس گفتگو کو بطور راز رکھنے کا پابند تھا۔۔۔۔۔۔جب بادشاہ کی اس مجرم سے گفتگو مکمل ہوگئی تو بادشاہ نے دربار میں آکر ایک منفرد حکمنامہ جاری کیا اور وہ حکم یہ تھا کہ مجرم کو فی الفور رہا کردیا جائے اور مقتول کے لواحقین کو خون بہا سرکاری خزانے میں سے اداکردیا جائے، یہ حکم بادشاہ کے پچھلے تمام احکامات سے مختلف تھا لیکن سب خاموش تھے۔۔۔۔۔۔۔۔مجرم کو رہا کردیا گیا اورمقتول کے گھر والوں کو خون بہا ادا کردیا گیا۔۔۔۔۔یہ خبر پوری سلطنت میں پھیلتی پھیلتی دوردراز کے ایک دیہات میں بھی پہنچ گئی، ایک نوجوان جو عرصہ سے اپنے سگے چچا کو قتل کرنے کا سوچ رہا تھا،اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب یہ کرگزرے گا اور بعد میں بادشاہ اسے معاف کردے گا۔۔۔۔۔۔اس کے دوستوں نے اسے سمجھایا کہ بادشاہ کی حکمتیں تم نہیں سمجھ سکتے ،بادشاہ نے اس سے پہلے کسی
قاتل کو معاف نہیں کیا اور اس معاملے کے بعد بھی چار قاتلوں کو موت کی سزا دی گئی۔۔۔۔۔لیکن نوجوان بضد تھا کہ بادشاہ معاف کردے گا،وہ بہت رحمدل ہے اور اس نے اپنے سگے چچا کو قتل کردیا،ساتھ ہی گرفتاری دے دی، بادشاہ نے بھی اس کی موت کی سزا کی توثیق کردی۔۔۔۔۔وہ نوجوان بہت چلایا لیکن اس کی شنوائی نہ ہوئی اور اسے موت کی سزا دے دی گئی۔۔۔۔۔۔وہ بادشاہ کی حکمتوں کو اپنے لیے ایک قانون سمجھ بیٹھا اور قتل کا مرتکب ہوا اور یہ بھول گیا کہ بادشاہ رحمدل ضرور ہے لیکن اس کی یہ رحمدلی اپنی حکمتوں سے مزین ہے نہ کہ نوجوان کے بد فعل سے مشروط ہے۔۔۔۔۔۔۔اور جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، مالک الملک ہے، حکیم ہے، صمد یعنی بے نیاز ہے، بیشک وہ کسی گناہ گار کو معاف کردے ، کسی بہت بڑے مجرم کو بخش دے لیکن یہ دلیل نہیں کہ اس نوجوان کی طرح انسان گناہ شروع کردے،جری ہوجائے اور اپنی ڈھٹائی اور بے پروائی کو اللہ کی غفاریت سے مشروط کردے ۔۔۔۔۔۔۔ایسا انسان اس نوجوان کی طرح اپنے نفس اور اپنی مرضی کا غلام ہے جو بادشاہ کی کسی کے حق میں دی جانے والی حکمت سے بھرپورمعافی کو اپنے لیے بھی استشنٰی اور عذاب سے خلاصی کی دلیل سمجھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اللہ بیشک غفور ہے، غافر ہے، غفار ہے لیکن اس کی یہ صفات اس کی منشا کے تابع ہیں نہ کہ ہماری منشا کے۔۔۔۔۔۔اس لئے گناہوں پر جری نہ ہوں اور اس طرزِ زندگی پر آجائیں جو اللہ نے ہمارے لیے تجویز کی ہے۔۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

اسیر

ایک کسان روز اپنے گدھے پر دور سے زرخیز مٹی اپنے کھیتوں کیلئے لے کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *