Thursday , April 25 2019
ہوم > پاکستان > ساہیوال میں سی ٹی ڈی حکام کا نشانہ بننے والے دہشتگرد کن گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث تھےاور کن اہم کیسز میں مطلوب تھے؟ معاملے سے جڑے اہم حقائق منظر عام پر آ گئے

ساہیوال میں سی ٹی ڈی حکام کا نشانہ بننے والے دہشتگرد کن گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث تھےاور کن اہم کیسز میں مطلوب تھے؟ معاملے سے جڑے اہم حقائق منظر عام پر آ گئے

لاہور)ویب ڈیسک) سی ٹی ڈی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہلاک دہشتگرد یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغواء میں بھی ملوث تھے، دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے تھا، دہشتگرد امریکی شہری وارن اسٹائن کے خلاف کاروائی میں بھی ملوث تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ آئی جی پنجاب امجد سلیمی کوبھجوا دی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساہیوال واقعے میں ہلاک دہشتگردوں کا نام ریڈ بک میں شامل ہے۔ حساس ادارے دہشتگردوں کو ٹریس کررہے تھے۔تاہم ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب حساس ادارے نے روکنے کی کوشش کی توفائرنگ کردی گئی۔ سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ دہشتگرد خود کومحفوظ رکھنے کیلئے خواتین کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ہلاک دہشتگردوں میں ایک دہشتگرد کی شناخت ذیشان ولد جاوید اخترسے ہوئی ہے۔جبکہ فیصل آباد میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ایک دہشتگردعدیل حفیظ ہلاک ہوا تھا۔ ملزمان نے حساس ادارے کے 3 افسر جبکہ فیصل آباد میں ایک افسر کوشہید کیا۔ شاہد جبار، عبدالرحمن ، اور نامعلوم دہشتگردموٹرسائیکل پرفرار ہوگئے۔ آپریشن 16جنوری کو فیصل آباد میں ہونے والے آپریشن کا تسلسل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہی دہشتگرد یوسف رضا گیلانی کے اغواء میں بھی ملوث تھے۔ مارے گئے افراد کا تعلق لاہور سے تھا۔ بچے اور گاڑی سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہے۔ دوسری جانب عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی۔ جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 12 برس کے لگ بھگ تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی، جن میں سے ایک بچہ فائرنگ سے معمولی زخمی ہوا۔ اسی طرح ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی کی تحویل میں لیے گئے بچوں کا جب بیان قلمبند کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد ان کے والد، والدہ، خالہ اور ڈرائیور ہیں۔ وہ لوگ لاہور سے بورے والا جارہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان سٹاک مار کیٹ بند ہو گئی

کراچی(نیوز ڈیسک )پاکستان سٹاک ایکس چینج میں ٹیکنیکل خرابی کے باعث کاروبار اچانک رک گیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *