30

بریکنگ نیوز : اوپر تلے کئی وار ،بھارتیوں کی پاکستان میں انوکھی سرجیکل سٹرائیک ۔۔۔۔۔ پاکستان کے ایک دو نہیں کئی اداروں میں ہلچل مچ گئی

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے سارا الزام پاکستان پر دھر دیا اور انتقام کی گ میں جلنے لگا، جب بھارت سے کچھ نہ بن پاایا اور پاکستان کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو بھارت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھاری ہیکروں نے اپنی

اانوعیت کا انوکھا حملہ کرتے ہوئے پاکستانی کی معتبر خبر رساں اداروں کو نشان بنایا ہے، جن میں ڈیلی پاکستان، نئی بات ، نوائے وقت شامل ہیں، ان کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اگر دیکھا جائے تو بھارتی جھنڈا دکھائی دے رہا ہے جبکہ بھارتی ہیکروں نے اعلی علان کہا ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے ہیک کیا گئیں ہیں۔ خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے مسلسل جاری ہیں اور دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر سائبر حملے کیے جا رہے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ہیکرز کی جانب سے پاکستانی دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر سائبر حملے کیے گئے جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں ویب سائٹ نہ کھلنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ برطانیہ، تھائی لینڈ، ناروے اور امریکا میں وزارت خارجہ کی ویب سائٹ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے اور دفتر خارجہ کی ویب سائٹ سے وزیراعظم عمران خان کا پروفائل بھی اڑایا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو میں بھارتی ہیکرز کی جانب سے سائبر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں دفتر خارجہ کی ویب سائٹ ڈاؤن ہونے کی شکایات موصول ہوئیں جس پر فوراً ایکشن لیا گیا۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت گھبراہٹ کا شکار ہے اور ہمیں اندازہ تھا کہ بھارت گھبراہٹ میں کسی بھی قسم کی حرکت کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھبراہٹ میں بھارت کی جانب سے کبھی ایک جانب سے اور کبھی دوسری جانب سے حملے ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بھی دو ہفتے قبل ہیک کرنے کی کوشش کی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ سائبر حملے معلومات تک رسائی روکنے کی کوشش ہے کیونکہ وزارت خارجہ کی ویب سائٹ ہی آفیشل معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان پاکستان آ رہے ہیں، اور مقبوضہ کشمیر میں جو ہو ر ہا ہے، اس کی تمام تر معلومات ، پریس ریلیز اور ویڈیوز کے لیے دنیا بھر سے لوگ موفا کی ویب سائٹ پر جاتے ہیں، ان حملوں کا مقصد صحیح معلومات تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں