25

کورٹ سے خلع لینے کے بعد سابقہ خاوند سے دوبارہ نکاح کرنا

دوست کا سوال ہے کہ اگر عورت کورٹ سے خلع لے لے تو کیا وہ اپنے سابقہ خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ جواب: ہمارے ہاں خلع کا طریق کار یہ ہے کہ اگر عورت کسی وجہ سے اپنے خاوند سے علیحدگی چاہتی ہو تو وہ عدالت کی طرف

رجوع کرتی ہے۔ عدالت اس عورت کے خاوند کو بلواتی ہے جو کہ عموما عدالت میں حاضر نہیں ہوتا کیونکہ وہ علیحدگی نہیں چاہتا ہوتا۔ اس صورت میں عدالت ایک مخصوص مدت تک خاوند کا انتظار کرنے کے بعد یک طرفہ طور پر عورت کے حق میں فَسخ نکاح (dissolution of marriage) کا فیصلہ جاری کر دیتی ہے۔اب یہ فسخ نکاح، طلاق نہیں ہے لیکن اس سے نکاح ختم ہو جاتا ہے۔ اب عورت کو اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے سابقہ خاوند سے نکاح کرے اور چاہے تو آگے کہیں اور نکاح کر لے۔ لیکن آگے کسی اور مرد سے نکاح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے عدت گزارے۔ اور عدت کا وقت اس دن سے شروع ہو گا جس دن سے عدالت کا فیصلہ جاری ہوا ہے۔ لیکن ہمارے قانون کے مطابق محض عدالتی فیصلہ سے عورت کو آگے نکاح کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی جب تک کہ وہ اپنے علاقے کی یونین کونسل کہ جہاں اس کا نکاح رجسٹر ہوا تھا، اس کے ذریعے فسخ نکاح کا سرٹیفکیٹ نہ حاصل کر لے۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ خاوند عدالت میں حاضر ہو اور عدالت اسے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے۔ تو خاوند اس صورت میں صرف ایک طلاق دے گا جو کہ بائن ہو گی یعنی اس سے بیوی اس سے جدا ہو جائے گی۔ اب اس بارے

اختلاف ہے کہ خاوند اگر بیوی کے خلع مانگنے پر طلاق دے تو وہ طلاق ہے یا خلع ہے؟ جمہور فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ یہ طلاق ہے یعنی ایک طلاق مانی جائے گی البتہ بائن ہو گی۔ اور اس صورت میں بھی عورت کا اپنے سابقہ خاوند سے نکاح کرنا جائز ہے۔ البتہ بعض فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ خلع مانگنے پر اگر خاوند طلاق دے تو یہ ایک طلاق بھی نہیں ہوتی بلکہ یہ فسخ نکاح ہی ہے۔ لہذا اگر عورت دس بار بھی اپنے خاوند سے خلع لے لے تو دس بار ہی اس سے نکاح بھی کر سکتی ہے۔یہ رائے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔ معاصر علماء کی ایک جماعت بھی اس رائے کی طرف گئی ہے جیسا کہ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ۔ میری رائے میں بھی یہی رائے راجح ہے کہ عورت کے خلع مانگنے پر اگر خاوند طلاق دے تو چاہے طلاق کے الفاظ سے طلاق دے تو بھی طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ فسخ نکاح ہوتا ہے، بھلے دس طلاقیں دے دے۔ تو عورت کا خلع کے بعد اپنے سابقہ خاوند سے نکاح جائز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں