7

صرف فضائیہ نہیں بلکہ بھارتی بحریہ بھی پاکستان کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ۔۔۔ تازہ ترین تفصیلات نے بھارتی عوام کا سر شرم سے جھکا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی بحریہ کی آبدوز نے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے کی جسارت کی لیکن پاک بحریہ نے فوری طور پر اس کا سُراغ لگا لیا۔ اس حوالے سے معروف صحافی مبشر لقمان نے نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں کہا کہ پاکستان میں دراندازی

کرنے والی بھارتی بحریہ ماضی میں خود حادثات کا شکار رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1990ء سے لے کر 2004ء تک ہر پانچ سال میں ایک وار شپ ضائع ہوا۔ 2016ء میں بھارت کا بہت بڑا جنگی جہاز اُلٹ گیا تھا جس میں کچھ لوگ زخمی ہوئے اور کچھ ہلاک بھی ہوئے۔ 2014ء میں بھارتی آبدوز آئی این ایس سندھو رتنہ سمندر میں ٹیسٹ کے دوران حادثے کا شکار ہوئی جس سے کئی لوگ ہلاک بھی ہوئے۔ اس حادثے کے بعد بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈی کی جوشی نے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ جبکہ 7 نیوی افسران کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اگست 2014ء میں بھارت کی آبدوز سندھو رکشہ دھماکے سے پھٹ کر ڈوب گئی۔ اس آبدوز کے جو میزائل تھے حادثے کے بعد جو خود بخود چل گئے جس سے ان کی اپنی آبدوز اور کشتیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس آبدوز پر موجود ہتھیاروں نے اس کے ڈوبنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ حادثہ گذشتہ کئی برسوں میں پیش آنے والے بد ترین حادثات میں سے ایک تھا۔اس سے قبل 2010ء میں اسی آبدوز کی بیٹری میں آگ لگنے سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ 2017ء میں بھارت کی نیوکلئیر آبدوز آئی این ایس چکرہ حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ آبدوز روس سے دس سال کی لیز پر لی گئی تھی۔ 2018ء میں لوک سبھا میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق بھارتی بحریہ میں گذشتہ دس سالوں میں 62 بڑے حادثات ہو چکے ہیں جس میں 180 نیوی افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جا چکا ہے۔ ان تمام تفصیلات کو دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاک بحریہ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابل تعریف اور جنگی صلاحیتوں کی حامل ہے اور ایسے میں پاک بحریہ سے اُلجھنا بھارتی بحریہ کو کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں