10

نہ زمین پھٹی اور نہ ہی آسمان۔۔۔ خاتون ٹیچر نے اپنے ہی شاگرد کو 100 مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا ، یہ واقعہ کہاں پیش آیا؟ جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

لاہور(نیوز ڈیسک) امریکی ریاست مشی گن میں ایک خاتون ٹیچر کیخلاف شاگرد کیساتھ 100 سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کے الزام میں باقاعدہ ٹرائل شروع کردیا گیا ہے، 14سالہ سابق شاگرد نے مقدمے میں الزام عائد کیا کہ خصوصی تعلیم کی ٹیچر پر11سال کی عمر سے جنسی زیادتی کا آغاز کیا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے


ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں ایک چودہ سالہ طالبعلم نے اپنی خاتون ٹیچر پر جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔مقدمے میں مئوقف اپنایا کہ خصوصی تعلیم کی38 سالہ شادی شدہ خاتون ٹیچر ہیتھر ونفیلڈ نے انہیں 100 سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پہلی بار اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ11سال کا تھا۔جس کے بعد مزید3 سال کے دوران الپینا علاقے کے گردونواح میں ہوٹل کے کمروں میں انہیں100 سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔خاتون ٹیچر کیخلاف2016ء میں باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی۔مقدمے میں خاتون ٹیچر پر دو دفعات لگائی گئی ہیں۔ ایک نابالغ لڑکے سے زیادتی دوسری دفعہ مجرمانہ مقاصد کیلئے کمپیوٹر کا استعمال کیا گیا۔ تفتیش میں الزام ثابت ہونے پر

ٹیچر جو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ہیتھر ونفیلڈ نامی ٹیچر الپینا میں تھنڈر بے جونیئر ہائی اسکول میں استاد کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ مبینہ طور پر متاثرہ لڑکے نےعدالت کو بتایا کہ خاتون ٹیچر نے اس دوران اس کو مہنگے ٹینس شوز، بائیکس اور فشنگ کے سامان سمیت دیگرتحائف بھی دیے۔خاتون ٹیچر 2016 میں مجھے اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیوں پر فلوریڈا اور ٹینیسی لے کر گئی، بعدازاں جنسی گمراہ کرنا شروع کردیا۔ لڑکے نے عدالت میں خاتون ہیتھر ونفیلڈ کی عریاں تصاویر اور ایک ویڈیو موجود بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان تصاویر اور ویڈیوزمیں انہیں جنسی عمل سے فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ خاتون ٹیچرپرالزامات اس وقت سامنے آئے جب متاثرہ لڑکے کی سابق گرل فرینڈ نے فون میں فیس بک میسجز پر لڑکے اور ٹیچر کے دوران مبینہ تبادلے کو دیکھا۔دوسری جانب خاتون ٹیچرز ہیتھر ونفیلڈ کے وکیل نے نابالغ لڑکے کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔انہوں نے جج سے کیس کو خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔ لیکن جج نے کیس میں ثبوتو کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ ٹرائل کا حکم دے دیا ہے۔۔ لیکن جج نے کیس میں ثبوتو کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ ٹرائل کا حکم دے دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں