10

کرائسٹ چرچ حملہ :نیوزی لینڈ کی مسجدمیں نمازیوں پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی تصویر سامنے آ گئی ، دہشتگرد کا نام کیا ہے اور اس نے یہ سب کچھ کس مقصد کے لیے کیا ؟ ناقابل یقین خبر آ گئی

کرائسٹ چرچ (ویب ڈیسک )نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں آج ایک حملہ آور نے نمازیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم ایک حملہ آور نے قتل و غارت کو سوشل میڈیا پر براہ راست دکھانے کی کوشش بھی کی ۔

غیر ملکی ویب سائٹ ” ڈیلی میل “ نے اپنی رپورٹ نے دعویٰ کیاہے کہ ایک دہشتگردی نے النور مسجد کے اندر سے فائرنگ کرتے ہوئے لائیو سٹریمنگ بھی کی ، یہ واقع دوپہر ڈیڑھ بجے پیش آیا جس وقت جمعہ کی نما ز کی ادائیگی کا وقت ہو رہا تھا ۔ایک حملہ نے خود کو ٹویٹر پر ” برینٹن ٹرینٹ “ ظاہر کیا ہے اور اپنا تعلق آک لینڈ کے قریبی علاقے گرفٹن سے بتایا ہے ۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں حملہ آور نے سیمی آٹو میٹک گن کا استعمال کرتے ہوئے نماز کیلئے آنے والے افراد پر فائرنگ کر دی جس کے باعث بڑی تعداد میں شہری شہید ہو گئے ہیں تاہم اس موقع پر لوگوں نے وہاں سے بھاگنے کی بھی کوشش کی لیکن اس درندہ صفت شخص نے ان پر بھی گولیاں چلائیں ۔ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے اور شہادتوں کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیکندا آرڈن بھی میدان میں آگئیں اور دہشتگردی و انتہاء پسندی کی مذمت کرتے ہوئے ایک حملہ آور کی گرفتاری کی تصدیق کی ، ان کاکہناتھاکہ ملزم سے تحقیقات جاری ہیں، فی الحال تفصیل نہیں بتاسکے، نیوزی لینڈ مسلمانوں کا گھر ہے اور ان کی حفاظت لازم ہے ، آج ہمارے ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم آرڈن نے بتایاکہ ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، نیوزی لینڈ میں پرتشدد واقعات کی کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے متاثر ہونیوالے لوگ مہاجر ہوسکتے ہیں جو نیوزی لینڈ آئے ہیں ، وہ یہاں مہاجر ہوسکتے ہیں لیکن وہ ہم ہیں۔دوسری طرف پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں اس قسم کا یہ پہلا واقعہ ہے ، پاکستانی کمیونٹی سے مسلسل رابطے ہیں۔ ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہائی کمیشن کے حکام مسلسل انتظامیہ سے رابطے میں ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں