4

سانحہ نیوزی لینڈ، شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر اچانک ایسا پیغام چھوڑ دیا کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا

کرائسٹ چرچ(نیوز ڈیسک )نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دہشتگرد وں نے دو مساجد پر اس وقت اندھا دھند فائرنگ کر دی جب جمعہ کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور بڑی تعداد میں نمازی پہنچ رہے تھے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 40 افراد شہید ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق


نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشتگردی کے اس واقعے کی دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان کی جانب سے سخت مذمت کی جارہی ہے تاہم اس موقع پر شیریں مزاری نے بھی ایک ٹویٹ کیا جس پر انہیں شدید تنقیدکا بھی سامنا کرنا پڑا ۔شریں مزاری نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھاکہ کہ ”فی الحال آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والا ایک ایک سفید فام شخص ہے ، بنگلہ دیش کی ٹیم مسجد سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی ، آئی سی سی کو اس کا نوٹس لینا چاہیے بلکہ نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد انٹر نیشنل کرکٹ پر پابندی لگانی چاہیے ۔؟شریں مزاری کے اس ٹویٹ کا سکرین شاٹ فیس بک پر بھی شیئر کیا گیا جہاں لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور شریں مزاری کے ٹویٹ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔عبدالحمید خان نامی صارف نے شیریں مزاری کی اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ ہو اپنے کچھ وزراءکے موبائلز قبضے میں لے لیں ۔نریندر ستیانی نے کہا کہ غصے کی وجہ سے زیادہ غصے کے نتائج تکلیف دے ہوتے ہیں ، رحم والے الفاظ پر کوئی لاگت نہیں آتی ۔زاہد پرویز نے کہا کہ سری

لنکا پر پاکستان میں حملے اور اس واقعے میں فرق ہے ، پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا جبکہ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہواہے جہاں بنگلہ دیش کی ٹیم پہنچنے والی تھی اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ہدف تھی یا نہیں .کنزہ مظہر نے کہا کہ نیوزی لینڈ غیر محفوظ جگہ نہیں ہے ، مجرم آسٹریلوی شہری ہے ، انہیں اپنا نقطہ ثابت کرنے کیلئے سانحہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔شیریں مزاری نے اپنے ٹویٹ اور وقت کی نوعیت کو بھانپتے ہوئے اسے ڈیلیٹ کر دیا اور پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے نیوزی لینڈ کرکٹ اور آئی سی سی کے بارے میں اپنے ٹویٹ کا احسا س ہو گیا ہے جو کہ ٹھیک تھا لیکن وقت درست نہیں تھا اس لیے میں نے انہیں ہٹا دیا ہے ، لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی پولیس ابھی بھی اسے دہشتگرد حملہ قرار نہیں دے رہی ہے بلکہ وہ اسے تشدد کے زمرے میں لے رہی ہے ۔شیریں مزاری کی جانب سے ٹویٹ ڈیلیٹ کیے جانے کے بعد صارفین کا کہناتھا کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں