Tuesday , March 26 2019
ہوم > اسپشیل اسٹوریز > ایک شخص اپنی ماں کو گالیاں دیا کرتا تھا ، اسے حضرت عمر ؓنے کیا سزا دی ؟

ایک شخص اپنی ماں کو گالیاں دیا کرتا تھا ، اسے حضرت عمر ؓنے کیا سزا دی ؟

ایک شخص کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ماں کو گالیاں دیتا ہے، امیرالمؤمنین عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو بلوایا اور حکم دیا کہ پانی سے بھری ہوئی مشک لائی جائے، پھر وہ مشک اس کے پیٹ پر خوب کس کر بندھوا دی اور اس کو کہا کہ اسے

اسی مشک کے ساتھ چلنا پھرنا بھی ہے اور کھانا پینا بھی ہے اور سونا جاگنا بھی ہے۔ایک دن گزرا تو وہ بندہ بلبلاتا ہوا حاضر ہوا کہ اس کو معاف کر دیا جائے وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا. آپؓ نے پانی آدھا کر دیا مگر مشک بدستور اس کے پیٹ پر بندهی رہنے دی. مزید ایک دن کے بعد وہ بندہ ماں کو بھی سفارشی بنا کر ساتھ لے آیا کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور اس مشک کو ہٹا دیا جائے وہ دو دن سے نہ تو سو سکا ہے اور نہ ہی ٹھیک سے کچھ کھا سکا ہے. آپ نے اس کی ماں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس نے تجھے پیٹ کے باہر نہیں بلکہ پیٹ کے اندر اتنے ہی وزن کے ساتھ 9 ماہ اٹھا کر رکھا ہے. نہ وہ ٹھیک سے سو سکتی تھی اور نہ ٹھیک سے کھا سکتی تھی، پھر تو اسے موت کی سی اذیت دے کر پیدا ہوا اور 2 سال اس کا خون پیتا رہا ، اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا یوا تو اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے لئے تیرے منہ سے گالیاں نکلتی ہیں اگر آئندہ یہ شکایت موصول ہوئی تو تجھے نشانِ عبرت بنا دونگا۔ انسان ہونے کے ناطے ہم سب سے گناہ سرزد ہوتے ہیں لیکن کچھ گناہ ایسے سنگین ہوتے ہیں جو ہماری نیکیوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے آگ خشک تنکوں کو جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والے لوگ اگرچہ روز محشر اتنی نیکیوں کے ساتھ آئیں جو پہاڑ کے برابر ہوں لیکن ان کے کبیرہ گناہوں کے سبب یہ نیکیاں راکھ کے ذروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوں گی۔ علماءکرائم ان کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ خالق کی مقررکردہ حدود سے سرکشی کرنا بڑی بڑی نیکیوں کو بھی ضائع کرنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ اسی طرح جو لوگ سرعام گناہ کرتے ہیں یا اپنے گناہ کی تشہیر کرتے ہیں ان کی نیکیاں بھی ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہوں پر پردہ پڑا تھا لیکن انہوں نے خود ہی یہ پردہ اُٹھا کر اپنے گناہوں کو دنیا کے سامنے فاش کردیا۔ اسی طرح خدا کا شریک ٹھہرانے والوں سے بڑھ کر خسارے میں کوئی نہیں۔ خد اکے علاوہ کسی کی عبادت کرنے والوں یا کسی کو معبود قرار دینے والوں کے نیک عمل بھی روز محشر ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ بلاشبہ خدا بڑا معاف کرنے والا ہے، یعنی ہمیں چاہیے کہ جونہی دل میں احساس گناہ بیدار ہو تو اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کریں اور معافی کے طلبگار ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

فیصل آباد کے شہری انسان کم اورمراثی زیادہ کیوں ہیں ؟ حیرت انگیز افسانہ

اگرچہ موبائل پر نیوی گیشن کے ذریعے ایڈریس معلوم کیا جاسکتا تھا‘ پھر بھی میں …