5

فحش پارٹیوں کی عینی گواہ معروف ماڈل کے قتل کیس میں بڑی پیش رفت ۔۔۔۔۔ناقابل یقین حقائق سامنے آ گئے

اٹلی (ویب ڈیسک ) اٹلی کے سابق وزیراعظم 82 سالہ سلویو برلسکونی کی جانب سے مہمانوں کے لیے منعقدہ فحش پارٹیوں میں شامل رہنے والی مراکشی نژاد 34 سالہ ماڈل ایمان فدیل کے قتل سے متعلق ہونے والی تحقیق کے ابتدائی نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ان کے قتل سے متعلق اطلاعات تھیں

کہ انہیں خطرناک زہریلا مادہ دے کر قتل کیا گیا،نئی رپورٹ کے نتائج نے ایسے دعووں کو مسترد کردیا۔ایمان فدیل رواں ماہ کے آغاز میں اٹلی کے ایک ہسپتال میں چل بسی تھیں،انہیں انتقال سے کئی دن قبل تشویش ناک حالت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔وہ اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی جانب سے میلان کے قریب ہونے والی فحش پارٹیوں میں شریک ہوتی رہی تھیں اور ان ہی پارٹیوں میں کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کرانے کے کیسز میں عدالت میں پیش ہوچکی تھیں۔رپورٹس کے مطابق فحش پارٹیاں اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی جانب سے2012سے قبل مہمانوں کے لیے منعقد کی جاتی تھیں،جنہیں بُنگا بُنگا پارٹیاں بھی کہا جاتا تھا،ان پارٹیوں میں ایمان فدیل بھی شریک ہوئی تھیں۔سلویو برلسکونی پر ان پارٹیوں کے ذریعے کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے سمیت ان کا استحصال کے الزامات ہیں۔سا بق اطالوی وزیراعظم پر ان پارٹیوں میں درجنوں کم عمر لڑکیوں سے جسم فروشی کروانے کے الزامات پر مختلف عدالتوں میں مقدمات بھی چل رہے ہیں لیکن انہیں ایسے مقدمات میں مجرم قرار نہیں دیا جا سکا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی مقدمے میں کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آ سکے ہیں۔ سلویو برلسکونی کے خلاف ان مقدمات میں ایمان فدیل عینی گواہ کے طور پر عدالت میں بھی پیش ہوچکی تھیں اور وہ اس ہائی پروفائیل کیس کی اب تک کی واحد چشم دید گواہ تھیں۔ایمان فدیل نے ہسپتال میں دوران علاج اپنے بھائی اور وکیل کو بتایا تھا کہ انہیں خطرناک زہریلے مادے سے

تیار زہر دیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر ماڈل کے جگر اور معدے سے حاصل کردہ نمونوں سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایمان فدیل کو انتہائی زہریلے مادوں سے تیار خطرناک زہر دیا گیا تھا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے جسم میں متعدد زہریلے کیمیکلز سے تیار خطرناک قسم کا زہر دیا گیا تھا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ماڈل کے پورے جسم میں ارتعاش پیدا کیا۔ماڈل کو ابتدائی طور پر 29 جنوری 2019 کو شدید قسم کے پیٹ درد کے باعث ہسپتال لایا گیا تھا اور وہ مارچ کے آغاز میں چل بسی تھیں۔تاہم اب ایمان فدیل سے حاصل کیے گئے نمونوں کی تازہ رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماڈل کو انتہائی اعلیٰ درجے کے زہریلے کیمیکلز سے تیار زہر نہیں دیا گیا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایمان فدیل کو زہریلے کیمیکلز سے تیار زہر دیے جانے کے حوالے سے کی جانے والے معائنے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر کہا گیا ہے کہ ایمان فدیل کی موت کیمیکلز سے تیار انتہائی درجے کی خطرناک زہر سے نہیں ہوئی۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایمان فدیل کو کس درجے کا زہر دیا گیا۔پہلے کہا گیا تھا کہ ایمان فدیل کے جسم سے حاصل نمونوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماڈل کے جسم میں خطرناک زہریلے مادوں کا ارتعاش پایا گیا، ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ ان کے جسم میں’ ہیوی میٹل، کیڈمیئم، کرومیم، کوبالٹ اور اینٹمنی‘ کی مقدار پائی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں