Thursday , April 25 2019
ہوم > پاکستان > (ن) لیگ میں مٹھائیاں تقسیم ۔۔۔ نواز شریف کی ضمانت کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو بھی بڑی خوشخبری سنا دی

(ن) لیگ میں مٹھائیاں تقسیم ۔۔۔ نواز شریف کی ضمانت کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو بھی بڑی خوشخبری سنا دی

لاہور(ویب ڈیسک )لاہورہائیکورٹ نے شہبازشریف شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیدیا۔تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور صدرن لیگ شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،وکیل شہبازشریف نے کہا کہ نیب میں پیشی کےباجودشہبازشریف کانام ای سی ایل

میں ڈالاگیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیاشہبازشریف کیخلاف اثاثہ جات انکوائری بھی جاری ہے؟وکیل نیب نے کہا کہ 23 اکتوبرکوآمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری شروع کی،شہبازشریف کے اکاو¿نٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنزہوئیں۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیدیا۔واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت کی۔ نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست کیسماعت مکمل ہونے پر عدالت نے ضمانت کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ اب سنا دیا گیا ہے۔عدالت نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کی 6 ہفتے کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ نواز شریف کی 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کر دی گئی ہے۔اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے اضافی دستاویزجمع کرائی ہے؟ جس پروکیل خواجہ حارث نے جواب دیا جی یہ ڈاکٹرلارنس کا خط ہے تو چیف جسٹس نے کہا یہ تو انہوں نے کسی ڈاکٹر عدنا ن کے نام خط لکھا ہے جس پرخواجہ حارث نے بتایا ڈاکٹرعدنان نوازشریف کے ذاتی معالج ہیں. چیف جسٹس نے استفسار کیا میں کیسے معلوم ہوکہ یہ خط کس نے کس کو لکھا؟ یہ تو 2عام لوگوں کے درمیان کی خط و کتابت ہے، یہ آپ نے جمع کرایاتوہم نے اسے پڑھ لیا، جس پر نواز شریف کے وکیل

نے کہا میں اپنے کیس میں اس خط پرانحصار نہیں کر رہا ،گذشتہ سماعت پر 5 مختلف میڈیکل بورڈز کی رپورٹس پیش کی تھیں ، رپورٹس میں واضح ہے نوازشریف کو دل اورگردوں کا عارضہ ہے. خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کودل کی بیماری مزیدبڑھ سکتی ہے، دل کا مرض پیچیدہ ہے، انجیوگرافی کرانے کی ضرورت ہے، شوگر اور ہائپرٹیشن کو مسلسل دیکھنا ضروری ہے، ان کو گردوں کی بیماری بھی اسٹیج تھری کی ہے، چوتھے درجے پر ڈائلسز درکار ہے اور پانچویں پرگردے فیل ہوجاتے ہیں. چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کیا ہم ڈاکٹر لارنس کی بات من وعن تسلیم کرلیا ؟ کیا ڈاکٹرلارنس کے خط کے علاوہ ان کے مرض کا کوئی ثبوت نہیں؟ ڈاکٹر لارنس نے گردوں کے مرض کو اسٹیج 4 کا کہا ہوتا تو کیا اسے بھی قبول کرلیں؟ طبی بنیاد پر کیس بنا رہے ہیں، ہمارے پاس صرف ایک ڈاکٹر لارنس کا خط ہے. نواز شریف کے وکیل نے کہا ہمارے تشکیل بورڈنے بھی گردوں کے مرض کواسٹیج تھری قراردیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 17سال سے نوازشریف کویہ بیماریاں لاحق ہیں، بیماریوں کے باوجود انھوں نے خاصامتحرک معمول زندگی گزارا، ضمانت کے لیے طبی بنیاد تب ہی بنے گی جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو. مسلم لیگ نون کے راہنما سردار ایاز صادق، راجہ ظفر الحق، رانا ثناءاللہ، احسن اقبال، مریم اورنگ زیب اور دیگر رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں. سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کے معالج ڈاکٹر لارنس کے خط کا حوالہ دیا‘جس پر

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط کی قانونی حیثیت کیا ہے؟سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے معاملے میں نیب نےسپریم کورٹ میں جو جواب جمع کروایا ہے اس میں موقف اختیار کیا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کی درخواست میں جان لیوا بیماری کا کوئی مواد نہیں، انہیں کوئی ایسا عارضہ نہیں جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو، کسی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی سرجری کی سفارش نہیں کی،نواز شریف کے ڈاکٹر لارنس کی رپورٹ غیر مصدقہ اور خود ساختہ لگتی ہے.واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے. نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس کی سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپتجیل میں قید ہیں، اس کے علاوہ انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی سزا ہوئی ہے جو کہ عدالتنے معطل کررکھی ہے. جس سے ان کی جان کو خطرہ ہو، کسی میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی سرجری کی سفارش نہیں کی،نواز شریف کے ڈاکٹر لارنس کی رپورٹ غیر مصدقہ اور خود ساختہ لگتی ہے.واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے. نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس کی سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپتجیل میں قید ہیں، اس کے علاوہ انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی سزا ہوئی ہے جو کہ عدالتنے معطل کررکھی ہے.

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ!!اہم اور حساس علاقوں میں پولیس کمانڈوز تعینات کر دئیے گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اہم …