24

افغان امن مذاکرات: طالبان کی مذاکرات کے دوران ہی افغان حکومت پر چڑھائی ۔۔۔ پوری دنیا کو نا قابل یقین سرپرائز دے دیا

کابل(ویب ڈیسک ) طالبان نے قطر میں ہونے والے مذاکرات میں افغان حکومت کی جانب سے 250 افراد پر مشتمل وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شادی یا کسی اور مناسبت سے دعوت اور مہمان نوازی کی تقریب نہیں۔افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکراتی کانفرنس 20 اور 21 اپریل

کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونی ہے جس کے لیے افغان حکومت نے وفد کا اعلان کیا ہے۔افغان حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے 250 افراد پر مشتمل وفد تشکیل دیا گیا ہے جس پر افغان طالبان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل انتظامیہ نے کانفرنس میں 250 افراد کی فہرست شائع کی لیکن کانفرنس کی انتظامیہ صرف کابل سے اتنی تعداد کی شرکت کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومتی وفد کی فہرست میں شامل افراد میں سے محدود افراد ہی کانفرنس میں شرکت کر سکیں گے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ کابل فہرست کو مرتب کرنے والوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ یہ کسی دور خلیجی ملک میں منظم اور پلان شدہ کانفرنس ہے، کابل کے کسی ہوٹل میں شادی یا کسی اور مناسبت سے دعوت کی تقریب نہیں۔ترجمان کے مطابق طویل وفد کی فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت کانفرنس اور امن و امان کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت سے خوفزدہ ہے۔یاد رہے کہ افغان طالبان کا امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے بھی مذاکراتی عمل جاری ہے اور دونوں حکام کے درمیان اب تک مذاکرات کے 5 دور ہو چکے ہیں، یاد رہے کہ خبر یہ ہے کہ مذاکرات میں افغان حکومت کی جانب سے 250 افراد پر مشتمل وفد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شادی یا کسی اور مناسبت سے دعوت اور مہمان نوازی کی تقریب نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں