22

اسد عمر کیا چیز ہیں ۔۔۔۔ عمران خان نے اپنے والد ’ اکرام اللہ نیازی ‘ سے بھی استعفیٰ لے لیا تھا مگر کیوں ؟ ماضی کا ایک ایسا واقعہ جسے پڑھ کر آپ اپنے کپتان کے ایک اور رُخ سے واقف ہوجائیں گے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد ملک کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو وزیر خزانہ کے استعفے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن حال ہی میں وزیراعظم عمران خان

کے ایک پُرانے انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے کارکردگی کی بنیاد پر اپنے والد سے بھی استعفیٰ لے لیا تھا۔انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ میرے والد شوکت خانم بورڈ کے چئیرمین تھے، چونکہ سب کام رضاکارانہ طور پر ہو رہے تھے تو میرے والد نے شوکت خانم بورڈ کی چئیرمین شپ میں اپنا پورا وقت دیا۔ وہ سارا وقت آفس میں بیٹھتے تھے ، راضاکارانہ طور پر کام کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ سارا وقت آفس میں بیٹھنا ہوتا ہے اور مفت کام کرنا ہوتا ہے۔میرے والد کی انجینئیرنگ میں بھی کافی سروسز تھیں، اسی لیے وہ سب کچھ ہینڈل کر رہے تھے۔ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے فیصلے کرنے میں تاخیر کرنا شروع کر دی۔ جب کسی پراجیکٹ سے متعلق فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے تو اس پراجیکٹ پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس پر مجھے اپنے والد صاحب کو کہنا پڑا کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔ میرا یہ فیصلہ میرے لیے ، میرے والد صاحب اور یہاں تک کہ میری بہنوں کے لیے بھی کافی تکلیف دہ تھا لیکن مجھے کہنا پڑا۔عمران خان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر سے وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کا کہنا ہے کہ کارکردگی تسلی بخش نہ ہونے پر عمران خان نے تو اپنے والد کو بھی نہیں بخشا تھا اور اُن سے بھی استعفیٰ لے لیا تھا تو پھر وہ کسی وزیر کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز وفاقی کابینہ میں کافی اُکھاڑ پچھاڑ کی جبکہ کئی وزرا کے قلمدان بھی تبدیل کر دئے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں