15

’’ پلیز !اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ۔۔۔‘‘ اسد عمر کو وزارت خانہ کا استعفیٰ واپس لینے کی پیشکش کر دی گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے اسد عمر سے دوبارہ کابینہ کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسدعمر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں،تحریک انصاف اور پاکستان

کی اسد عمر سے امیدیں وابستہ ہیں۔ملک کو اسد عمر کی کابینہ میں موجودگی کی اشد ضرورت ہے۔


یاد رہے گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزارت چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا وزیر اعظم کی خواہش ہے کہ میں وزرارت خزانہ چھوڑ کر توانائی کی وزارت لے لوں، میں نے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیا کہ میں کابینہ کا مزید حصہ نہیں رہوں گا. بعد ازاں ایک انٹرویو میں اسد عمر نے کہا تھا ان کے وزارت چھوڑنے سے ملک کی معیشت بہتر ہوتی ہے تو پھر یہ بہترین فیصلہ ہے میں نہ تو مایوس ہوں نہ ہی غصے میں، استعفے کی خبر خود دینا چاہتا تھا.جب کہ دوسری جانب کابینہ ڈویژن نے وفاقی وزیروں، مشیروں اور معاونین کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔فہرست میں اسد عمر تاحال وزیر خزانہ کی فہرست پر موجود ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اسد عمر اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوا چکے ہیں، لیکن وزیراعظم عمران خان نے تاحال اسد عمر کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔ اسد عمر کے استعفے سے متعلق آج شام تک فیصلہ ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری عامر کیانی تاحال وزیر صحت کے عہدے پر براجمان ہیں جبکہ فہرست میں فواد چوہدری کا قلمدان تبدیل کر دیا گیا ہے۔فہرست کے مطابق وزیراعظمعمران خان کے مشیروں کی تعداد چار ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری فہرست میں 25 وزرا، پانچ وزرائے مملکت ،چار مشیر جبکہ سات معاونین خصوصی ہیں۔ اس فہرست میں غلام سرور خان کا محکمہ تبدیل کر یے ایوی ایشن کر دیا گیا ہے۔ مراد سعید وزیر مواصلات،پرویز خٹک وزیر دفاع، شفقت محمود وزیر تعلیم، مخدومشاہ محمود قریشی وزیر خارجہ ہیں جبکہ اس فہرست میں اسد عمر کا نام بدستور وزارت خزانہ کے خانے میں موجود ہے جبکہ طارق بشیر چیمہ کا قلمدان تبدیل کیے جانے کے باوجود فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں