10

چوہدری نثار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جارہا ہے یا نہیں ؟ نعیم بخاری نے اندر کی خبر بریک کرکے ملکی سیاست میں زلزلہ پیدا کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں تبدیلی کی اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ یوں وفاقی کابینہ کے بعد پنجاب کابینہ میں بھی رد و بدل کا تاثر دیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی رخصتی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں،

نامور صحافی چوہدری خادم حسین اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حالانکہ وزیراعظم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خصوصی اجلاس کے دوران سردار عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہا رکیا، لیکن سیاست بوجوہ افواہوں کا حصہ بن گئی ہے اور اسی لئے یہ کہا جانے لگا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اسی ہفتے پنجاب اسمبلی میں رکنیت کا حلف اٹھا لیں گے اور وہ متبادل وزیراعلیٰ کے لئے بہترین انتخاب ہیں۔ اس سلسلے میں کہانیاں بھی چلائی گئیں۔ تاہم چودھری نثار کے قریب ذرائع نے سختی سے تردید کی کہ چودھری نثار حلف اٹھا رہے ہیں، ان ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ تو چودھری نثار کی کسی سے فون پر بات ہوئی اور نہ ہی وہ وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں، اس کے باوجود ’’سازشی تھیوری‘‘پر کام جاری ہے، تاہم چودھری نثار کے معتمد ذرائع کا بیان بھی یہی ہے کہ وہ حلف نہیں اٹھا رہے۔ لہٰذا ان کی طرف سے سپیکر پنجاب اسمبلی کو فون کرکے حلف کی بات بھی غلط ہے وہ تو لوگوں سے مل بھی نہیں رہے، اس کے باوجود وزیراعلیٰ کی تبدیلی بات ہو رہی ہے اور وہ اپنا کام کرتے چلے جا رہے ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سابق وزیراعلیٰ قائد حزب اختلاف شہبازشریف سے ملے ہیں۔ اس کی تردید مسلم لیگ (ن) کی طرف سے کی گئی ہے۔اس عرصہ میں ایک نئی بات سامنے آئی جو گورنر پنجاب محمد سرور کے حوالے سے ہے۔ امکانی طور پر اس کی بھی تردید ممکن ہے لیکن پرانے اختلافات کے تناظر میں بعید از قیاس بھی نہیں۔

گورنر محمد سرور سے منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کیا اور بعض افواہوں کے جواب میں کہا ’’مجھے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو میں مستعفی ہو جاؤں گا‘‘۔ اس کے ساتھ ہی ان سے یہ الفاظ بھی منسوب کئے گئے ہیں، اگر سارے کام جہانگیر ترین ہی نے کرنا ہیں تو ہم یہاں آلو چھولے بیچنے آئے ہیں، اس سلسلے میں تردید بھی ہو گئی تو بھی یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی کہ تحریک انصاف میں سب اچھا نہیں اور وزیراعلیٰ بزدار مخالف لابی مسلسل ان کو نااہل ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے جبکہ حقیقی معنوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور وہ کام کر رہے ہیں بلکہ اب تو انہوں نے متحرک ہو کر ’’گورننگ‘‘ کا تاثر بھی پیدا کرنا شروع کر دیا ہے ادھر ممتاز قانون دان نعیم بخاری نے تو کھل کر کہا چودھری نثار اسمبلی کا حلف اٹھا کر وزیراعلیٰ بننے جا رہے ہیں جبکہ وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی کھل کر کہا چودھری نثار کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں ان کو کیسے وزیراعلیٰ بنایا جا سکتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ ان ’’ ہوائی خبروں‘‘ ہی کے دور میں یہ بھی بتایا گیا کہ لندن میں چودھری شجاعت حسین نے محمد شہبازشریف سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا، اس خبر کے حوالے سے چودھری برادران کو لاہور سے تردید جاری کرنا پڑی کہ چودھری شجاعت حسین نہ تو ملے اور نہ ہی ان کو ملنے کا شوق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں