Thursday , May 23 2019
ہوم > انٹرنیشنل > سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ۔۔۔ سعودی فرمانروا نے اب تک کا خطرناک حکم جاری کر دیا

سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ۔۔۔ سعودی فرمانروا نے اب تک کا خطرناک حکم جاری کر دیا

ریاض( نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں اس وقت 26 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کی غرض سے مقیم ہے جو نجی شعبے کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری اداروں میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم سرکاری شعبے میں ملازمت کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ دیگر غیر مُلکیوں کے لیے پریشانی کا

وقت شروع ہو گیا ہے۔ کیونکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے ہے تمام وزارتوں، سرکاری محکموں اور اداروں کے غیر مُلکی سربراہان کوہٹا کر اُن کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کیا جائے۔اس شاہی ہدایت نامہ مےں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں سیکرٹری، ایگزیکٹیو سیکرٹری، ڈیٹا انٹری اور قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات تک رسائی کے لیے کام کرنے والے غیر ملکیوں کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کی جائے بلکہ ان کی جگہ سعودی شہریوں کو تربیت دے کر بھرتی کیا جائے۔صرف انتہائی ناگزیر صورتِ حال میں ہی غیر مُلکیوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔اُردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے یہ حکم گذشتہ ہفتے دی جانے والی ان معلومات کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی سعودائزیشن کی پالیسی کے باوجود متعدد سرکاری اداروں کے علاوہ حکومت کی ملکیت میں رہنے والی کمپنیوں اور سرکاری ٹھیکے لینے والے اداروں میں غیر ملکی نہ صرف اہم عہدوں پر فائز ہیں بلکہ عام اسامیوں پر بھی کام کررہے ہیں جن میں سعودی شہریوں کو آسانی کے ساتھ بھرتی کیا جاسکتا ہے۔اس شاہی ہدایت نامے کے بعد نئی اسامیوں کے لیے مقامی اخبارات میں اشتہارات دیے جائیں گے اور ان ملازمتوں کے لیے سعودی شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔محکمہ سول سروس کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سرکاری اداروں میں 93.98 فیصد سعودی شہری کام کررہے ہیں، غیر ملکیوں کی شرح صرف 6.2فیصد ہے۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی مجموعی تعداد 73186 ہے۔محکمہ کے مطابق صرف صحت کا شعبہ ایسا ہے جس میں سعودی شہروں کی شرح 66.8فیصد ہے جبکہ غیر ملکیوں کی تعداد 33.2 فیصد تک ہے۔گزشتہ سال 2018 کے دوران 60 سال عمر کے 35فیصد غیر ملکیوں کو برطرف کرکے ان کی جگہ سعودی شہریوں کو بھرتی کیا گیا۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں مختلف سرکاری اداروں میں کام کررہی ہے، کئی پاکستانی محکمہ صحت سے وابستہ ہیں۔ شاہی فرمان کے بعد سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک کے شہریوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نریندر مودی یا راہول گاندھی۔۔۔؟؟ بھارت کی وزارت عظمیٰ کون سنبھالے گا؟ صورتحال واضح ہوگئی

نئی دہلی (نیوز ڈیسک ) بی جے پی یا کانگریس؟ بھارتی انتخابات میں کس کی …