37

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا حکم سنانے والا جسٹس مولوی مشتاق ہرگز مولوی نہیں تھا ، اس نے ایک داشتہ رکھی ہوئی تھی اور ایک بار جب پکڑا گیا تو ۔۔۔۔۔۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر نے اپنی ڈائری کے اوراق قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) اصل جنگ ہو رہی ہو تو اول تو غسل خانے کی حاجت نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو غیر منصوبہ جاتی (Un-planned) ہوتی ہے۔ میری ہدائت ہے کہ مشقی ایریا میں غسل خانہ ساتھ لئے پھرنا ایک ایکسٹرا لوڈ ہے، اس سے گریز کیا جائے بس جہاں ضرورت پیش آئے،

پاک فوج کے اعلیٰ ریٹائرڈ افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اِدھر اُدھر دیکھئے،ذرا مجمع سے دور نکل جایئے اور کوئی موزوں جگہ تلاش کرکے فوراً اپنے آپ کو ہل ڈاؤن (Hull Down) پوزیشن میں لا کر معاملہ صاف کر دیجئے۔(ٹینک وار فیئر کی اصطلاح میں ہل ڈاؤن پوزیشن وہ ہے کہ جب ٹینک کی مین گن زمین کی طرف نیچے کی جاتی ہے)…… جنرل صاحب کی ہدایت میں ”گن“ سے کیا مراد تھی اور ہل ڈاؤن والا پوز کیا نقشہ سامنے لاتا ہے اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔ 12نومبر 1978ء آج عیدالاضحی ہے۔ پاک پتن میں ہوں۔ دو دن کی چھٹی لی ہے۔ عیدگاہ میں نماز پڑھی اور قربانی دی۔ والدین کی خدمت میں سلام کے لئے حاضری دی اور شام تک وہیں رہے۔ واپس گھر آئے تو چار یار انتظار میں تھے۔ ہمیں سال میں دو دن ”جواء“ کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ایک دن عیدالفطر کا اور دوسرا عیدالاضحی کا…… پہلے ڈبل رمّی کا دور چلتا ہے اور آخر میں فلاش کی باری آتی ہے۔ میرا ٹریک ریکارڈ بڑا ”شاندار“ ہے۔ رمّی پر ایک آنہ فی پوائنٹ لگتا ہے اور دو گھنٹے میں میری جیب بھر جاتی ہے۔پھر محفل کچھ دیر کو برخاست ہوتی ہے۔ دوست احباب گھر جاتے ہیں اور ازسرِ نو جیب بھاری کرکے لاتے ہیں اور فلاش کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ شائد یہ بھی اتفاق ہے کہ آخر صبح کے تین بجے جب محفل برخاست ہوتی ہے تو میری جیب اور بھر جاتی ہے اور دوست احباب منہ بسور کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ محبوب اور فرید (برادرانِ نسبتی) بھی تہی دامن ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔

صبح ہوتی ہے تو اپنی بہن سے کہتے ہیں: ”بھائی جان نے رات ہمارے ساتھ بڑا ہاتھ کر دیا۔…… ساری عیدی ہتھیالی۔ باجی! کچھ کریں“……اس کے بعد میرا اور اہلیہ کا مکالمہ ہوتا ہے:”جیلانی صاحب! اس دفعہ پھر آپ نے میرے بھائیوں سے عیدی چھین لی ہے“۔”لاحول ولا قوہ…… اول تو میرے اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے۔ ان کا نام کیوں نہیں لیتیں؟آپ کے بھائیوں کو کس نے کہا تھا کہ کھیلو اور ہارو“”چلو اگر بچوں نے غلطی کر ہی لی ہے تو آپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے۔ وَرے دن کا وَرے دن ہے اور آپ نے ان سے یہ سلوک کیا ہے؟…… واپس کریں ان کے پیسے!“”یہ بچے ہیں کیا؟…… میرے جتنے ہیں۔ کئی بار میری جیب بھی خالی ہوئی لیکن فلاش میں ہار جیت تو ہوتی ہے“”لیکن آپ تو ہر عید بقر عید پر ان کو خالی کر دیتے ہیں۔ جلدی کریں۔ میں نے ناشتہ ان کے سامنے رکھا تھا تو وہ کہتے ہیں کہ جب تک بھائی جیلانی ہمارے پیسے واپس نہیں کریں گے، ہم ناشتہ نہیں کریں گے۔“اس کے بعد مجھے ہتھیار ڈالنا پڑتے ہیں!13نومبر 1978ء آج شام پاک پتن سے لالہ موسیٰ پہنچا ہوں۔صبح دفتر حاضری ہے۔ بچے کچھ روز بعد آئیں گے۔ 14نومبر 1978ء صبح 7بجے لالہ موسیٰ سے کھاریاں کے لئے روانہ ہوا۔ رم جھم ہو رہی تھی۔ جونہی ریلوے کراسنگ پار کی، زور دار بارش شروع ہو گئی۔ یہ عجیب منظر ہے۔ لالہ موسیٰ میں بوندا باندی ہوتی ہے لیکن کھاریاں جاتے ہوئے جونہی ریل کا پھاٹک آتا ہے موسلا دھار مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک دو گز کا فرق ہوتو ہو، زیادہ نہیں۔

یہ یہاں کا ایک عجیب موسمی Phenominonہے…… ذرا آگے بڑھے تو دو سٹاروں والی ٹیوٹا جیب پر نظر پڑی جو GT روڈ کے شولڈز پر کھڑی تھی۔ اس کا ہُڈ (Hood) اترا ہوا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ جنرل شاہ رفیع عالم GOC 6آرمرڈ ڈویژن اپنی جیپ کا ایک پنکچر شدہ ٹائر بدل رہے ہیں۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ عید کے دن تھے اور سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں نے جیپ روک لی اور جنرل صاحب کو سلیوٹ کرنے کے بعد کہا: Sir` Kindly allow me to help.……جنرل صاحب نے جواب دیا: No, No, Jilani carry on. میں یہ سن کر کچھ دیر کو رکا تو جنرل صاحب نے دوبارہ ہاتھ کا اشارہ کیا کہ جاؤ، میرے لئے مت رکو۔ دفتر میں آیا تو MTجے سی او کو بلایا اور پوچھا: ”صوبیدار صاحب! کیا GOC کی جیب میں جیک وغیرہ نہیں رکھا ہوتا…… وہ GT روڈ پر جیپ کو خود اٹھا کر ٹائر تبدیل کرا رہے تھے؟“ ”جیک تو تھا۔ شائد جام ہو گیا ہو گا!“صوبیدار صاحب نے جواب دیا۔ 30اپریل 1980ء آج بریگیڈیئر (جیم) کے پاس بیٹھا تھا کہ گفتگو کا رخ سیاست کی طرف مڑ گیا۔ وہ اپنی بِپتا بیان کر رہے تھے کہ: ”مارشل لائی دور میں بعض دفعہ ذہنی کوفت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ میں خود فلاں علاقے کا سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (SMLA) ہوں لیکن بعض احکامات نہ چاہتے ہوئے بھی ماننے پڑتے ہیں“۔میرے ساتھ بریگیڈیئر صاحب کی گپ شپ کافی فری ہوتی ہے۔ وہ میری اس عادت کو پسند کرتے ہیں کہ میں اول تو ان معاملات میں زبان بند رکھتا ہوں

اور کچھ کہتا بھی ہوں تو تجزیہ بڑا متوازن رکھتا ہوں …… اس کے بعد اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر مولوی مشتاق کے کردار پر بحث ہونے لگی۔ بریگیڈیئر صاحب نے بتایا کہ مولوی مشتاق ”برعکس نہند نامِ زنگی کافور“ کے مصداق ہرگز مولوی نہیں۔ زیڈ اے بھٹو کے دور میں انہوں نے ایک Keep رکھی ہوئی تھی۔ جنرل گل حسن کی طرح نامِ خدا کنوارے تھے اور جب ZAB کیس میں ان پر یہ الزام لگا کہ وہ تو خود ایک عدد Keep کے Keeper ہیں تو انہوں نے جھٹ ایک عدد نکاح نامہ بطور شہادت پیش کر دیا کہ موصوفہ میری باقاعدہ منکوحہ اہلیہ ہے۔ واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند ۔۔ آنکہ در خلوت روند، آں کارِ دیگر می کنند ۔۔ پھر ذکر مولانا مفتی محمود تک آ گیا۔ کہنے لگے مولوی مشتاق صاحب کا گھر جو لاہور میں زیرِ تعمیر ہے وہ قابلِ دید بھی۔ اور ایک جج کی جو مالی حیثیت ہوتی ہے اس کے حساب سے تو وہ ساری عمر کی کمائی میں کوئی کوارٹر بھی نہیں بنا سکتا۔ پھر چودھری ظہور الٰہی اور مولوی مشتاق کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے کا قصہ چھڑا اور ناقابلِ یقین راز ہائے سربستہ بے نقاب ہوئے۔ مجید فاروقی کے ہاتھوں چودھری ظہور کی شکست ایک تاریخی واقعہ تھا۔ لیکن رِٹ ہوئی تو تاحال تاریخ نہیں نکلی۔ اس طرح گورنر پنجاب صادق قریشی اور جنرل گل حسن کا یارانہ مشہور تھا۔ صادق قریشی پر کوئی مقدمہ بنا تو اس نے گل حسن کو اپروچ کیا۔ گل نے مولوی مشتاق کو فون کیا: ”اوے مولوی! صادق قریشی کا بال بھی بیکا نہیں ہونا چاہیے“…… اور اب تک وہ لوگ محفوظ و مامون ہیں۔ اس طرح جج صاحبان کی تقرریوں کا ذکر وغیرہ ہوتا رہا کہ وہ کس طرح ریگولیٹ کی جاتی ہیں اور میں سوچتا رہا: رموزِ مملکتِ خویش خسرواں د انند۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں