23

عمران خان کے کھلاڑی ’ عبد الحفیظ شیخ ‘ نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا ۔۔۔!! آئی ایم ایف کی پکی چھٹی ، غیر ملکی بینک نے پاکستان کو قرضہ دینے کی منظوری دے دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو قرضہ دینے کی منظوری دے دی، اے ڈی بی بینک کی جانب سے پاکستان کو 1 ارب ڈالرز تک کا قرضہ دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کیلئے

قرض کی فراہمی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو 1 ارب ڈالرز کا قرض دینے کیلئے راضی ہوگیا ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کو بجٹ اسپورٹ فنڈ کی مد میں 1 ارب ڈالرز ادا کرے گا۔ بجٹ سپورٹ کی درخواست پاکستان کی طرف سے دی گئی تھی۔ اس پیکج سے بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوسکے گا۔ مزید برآں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اخراجات کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محاصل میں اضافے کیلئے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درآمدات اور برآمدات میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی ملک نے تنہا ترقی نہیں کی، دستیاب وسائل سے بھرپور استفادے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات جاری ہیں معاملات جلد طے پا جائینگے ۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق اقتصادی ترقی کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت محروم طبقات کو آگے لایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالا بجٹ میکرو اکنامک فریم ورک وضع کریگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں اخراجات اور آمدنی کے فرق کو کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا گزشتہ 13 سال میں کسی کمپنی کی نجکاری نہیں ہوئی ،میرے دور میں 34 کمپنیوں کی نجکاری کی، حکومت پر عزم ہے کہ بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھائے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک اکیلے ترقی نہیں کرسکتا، مل کر ساتھ چلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت سمیت دیگر ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے راستے نکالے، باہمی شراکت داری کیے بغیر ملکوں کی اقتصادی ترقی ممکن نہیں، حکومت اکیلے اقتصادی ترقی نہیں کرسکتی، ہمیں کامیاب ممالک کو دیکھنا ہو گا کہ انہوں نے کیسے ترقی کی، لوگوں کو ترقی دیے بغیر ہم اقتصادی ترقی نہیں کرسکتے۔عبد الحفیظ شیخ نے کہاکہ حکومت آئی تو ایکس چینج ریٹ زیادہ ہونے کے باعث برآمدات کم تھی، درآمدات میں کمی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریونیو کا شعبہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق لانا ہوگا، گزشتہ 13 سالوں میں کسی کمپنی کی نج کاری نہیں کی گئی۔ مشیر خزانہ نے ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک مسئلہ ہے جس پر حکومت پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، معاشرے میں پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سوشل پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت میں تبدیلی لائے ہیں، وزیراعظم عمران خان چین کیصدر کے ساتھ معاہدہ کر بھی لیں تونجی شعبے کے تعاون کے بغیر مؤثر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں