42

ایاک نعبد و ایاک نستعین : عمران خان نے آج سے کئی سال قبل یہ آیت کس مشہور پاکستانی شخصیت کے کہنے پر اپنی تقریروں سے قبل پڑھنا شروع کی ؟ ڈاکٹر اجمل نیازی کا شاندار انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ محبوب کی جدائی میں وزن کم ہو جاتا ہے۔ ایک آدمی زندگی میں 70 لٹر سے زیادہ آنسو بہاتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں روتے کہ لوگ بزدل کہیں گے۔ مگر دل کھول کر رونے سے ذہن کا دبائو کم ہو جاتا ہے‘ لیکن یہ بھی لوگ سوچتے ہیں کہ

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس عمر میں کون محبت کرے۔ محبوب بنائے پھر اس کی جدائی میں آنسو بہائے۔ کہتے ہیں کہ رونا اچھا ہوتا ہے۔اسے معصومیت بھی کہتے ہیں۔ بچے اور عورت رونے کے لئے بہت آسان ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود میں نے کم کم لوگوں کو روتے دیکھا ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان پتلی ہو گئی ہیں۔ عمران نے اسے معاون خصوصی بنایا۔ وزیر کیوں نہ بنایا۔ وزیر مملکت ہی بنا دیتے۔ کیا وزیر شذیر سے مشاورت نہیں کی جاتی۔ عمران کو کسی نے تو اسد قیصر کے سپیکر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ کوئی ایاز صادق جیسا آدمی تحریک انصاف میں نہ تھا۔ کسی نے فردوس عاشق کو فردوس باجی کہہ دیا۔ یہ خواہ مخواہ کا مذاق ہے۔ جس نے کہا وہ باجی نہیں اس کی چھوٹی بہن ہے۔ فردوس نے بھی بلاول کو مشورہ دیا ہے۔ وہ تنقید کی بجائے سندھ میں ایڈز کو کنٹرول کریں۔ ایڈز کا شکار ڈاکٹر گندے انجکشن لگا کے لوگوں کو موت سے زیادہ بھیانک زندگی دے رہے ہیں۔ اس کے خلاف سندھ حکومت کارروائی کرے۔ میرے محبوب رسول کریمؐ نے فرمایا ’’لوگو رویا کرو‘ رو نہیں سکتے تو روتے ہوئے لوگوں جیسی شکل بنا لو۔ریاست مدینہ کی بات کیلئے عمران کو مذاق بنا دیا گیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے رسول کریمؐ کی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضور کریمؐ سے بڑا حکمران کبھی پیدا نہیں ہوگا۔ عمران ان کا امتی حکمران بن کے دکھائے۔ بہت دانشور سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان ان کی مدد کریں۔ انہیں بتائیں کہ حکومت کس طرح کی جاتی ہے۔ اسے سیاست کرنا آگیا ہے کہ

اس نے شریف برادران کوشکست دی ہے مگر ابھی حکومت کرنا نہیں آیا۔ جبکہ وہ اپنی شخصیت اور فطرت میں ایک حکمران ہے۔ اس تقریب میں جو آیات پڑھی گئیں‘ ان میں اللہ رسول کریمؐ سے کہتے ہیں ہم نے آپؐ کا سینہ کھول دیا۔ آپ کے سر سے وہ بوجھ ہلکا کر دیا جس نے آپؐ کی کمر کو دوہرا کر دیا تھا۔ ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیا۔ بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیلئے امید کی بات کی ہے۔ عمران نے ہاتھ میں تسبیح پکڑ رکھی تھی۔ اچھی بات ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ ہر دفعہ اپنی تقریر سے پہلے عمران یہ آیت مبارکہ ضرور پڑھتا ہے۔ سنا ہے یہ آیت جاوید میاں داد نے عمران کو پڑھنے کیلئے کہی تھی۔ ایاک نعبدو ایاک نستعین۔ اے اللہ ہم تمہاری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ پنڈی‘ اسلام آباد میں نیشنل بک فائونڈیشن کی تقریبات میں عائشہ مسعود کے کشمیر سیمینار میں ہم پہنچے۔ وہاں برادر مقصود جعفری بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ میرے شاگرد ہیں۔ آرمی چیف نے کیا تخلیقی بات کی ہے کہ آزادی مانگنے سے نہیں ملتی۔ یہ بھی کہا کہ ہماری بیورو کریسی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتی۔ آرمی چیف کی خدمت میں عرض ہے کہ ہماری بیوروکریسی داخلہ امور میں بھی دلچسپی نہیں لیتی۔ افسران کو اپنی فکر ہوتی ہے، پروٹوکول اور شان و شوکت کی۔ میرے قارئین بھی میرے اس انداز کو پسند کرتے ہیں۔ میں بیورو کریسی کو مذاق مذاق میں برا کریسی کہتا ہوں۔ چنگا نہ کریسی برا کریسی۔ شاہ محمود قریشی کے والد نے اپنی گورنری کے دوران سائلین کے ساتھ یہ انداز اپنایا تھا۔ اللہ کریسی تیرا کم تھی ویسی۔ لوگ برا کریسی سے پریشان تھے۔ اب انہیں اللہ کریسی سے بھی واسطہ پڑا رہا تھا۔ وہ اسے حکمرانوں اور افسروں سے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے۔ حکام امیدیں کیوں لگاتے ہیںجبکہ عوام کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں