44

دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والے چوہدری نثار کیسے اس گڑھے میں خود گر گئے ؟ جاوید ہاشمی اور چکری کے چوہدری کی دیرینہ مخالفت کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) آثار تو یہی بتا رہے ہیں کہ شریف خاندان پاکستانی سیاسی اُفق سے غائب ہونے جا رہا ہے۔ نواز شریف تاحیات نااہل ہو چکے ہیں، باہر جانے کے لئے پَر تول رہے ہیں، شہباز شریف لندن جا چکے ہیں اور واپسی کے امکانات معدوم ہیں، مریم نواز سیاست نہیں کر سکتیں،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک سزا سے بَری نہ ہو جائیں، حمزہ شہباز پوری طرح نیب کے ریڈار پر ہیں اور آج نہیں تو کل انہیں نیب کی حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہباز شریف پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی سے دستبردار ہو گئے ہیں،حالانکہ انہوں نے یہ منصب بہت لڑ جھگڑ کر لیا تھا۔ پارلیمانی لیڈر بھی نہیں رہے اور شنید ہے کہ اپوزیشن لیڈر بھی کوئی دوسرا بن جائے گا۔ پھر شاید یہ نوبت بھی آئے کہ مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر بھی کسی کو بنانا پڑے، تو یہ ساری صورتِ حال1999ءکی یاد دِلا رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کو ایک بار پھر شریف خاندان کے بغیر زندہ رکھنے کی نوبت آ گئی ہے۔ ان کے بغیر پہلے اجلاس ہی میں اختلافات اُبھر کر سامنے آ گئے اور نواز شریف کے بیانیہ کو چھوڑنے پر سعد رفیق اور جاوید لطیف نے کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔آگے چل کر کیا ہوتا ہے، اس کے آثار کچھ اچھے نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) کے اندر کوئی ایسی شخصیت ہے جو اس دورِ ابتلا میں پارٹی کو متحد اور زندہ رکھ سکے۔ کیا خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر حسین، احسن اقبال یا دوسرے رہنماﺅں میں اتنی جان ہے کہ کارکنوں اور ارکانِ اسمبلی کو حوصلہ دے سکیں…. کیا یہ سیاسی لوگ ہیں یا صرف اقتدار کی وجہ سے سیاسی بنے ہیں؟ یہ بات مَیں اس تناظر میں کہہ رہا ہوں جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا اور شریف خاندان کو معاہدہ کر کے جلا وطن ہونا پڑا

تو پیچھے ایک سیاسی بندہ موجود تھا، میری مراد جاوید ہاشمی سے ہے، جاوید ہاشمی نے مشکل حالات میں مسلم لیگ(ن) کو زندہ رکھا اور اُن کی وجہ سے وہ سیاسی میدان میں ایک قوت کے طور پر موجود رہی، دو ایسی شخصیات تھیں جو مسلم لیگ(ن) کے لئے اُس زمانے میں امرت دھارا ثابت ہوئیں، بیگم کلثوم نواز اور جاوید ہاشمی۔ اب یہ دونوں نہیں ہیں، بیگم کلثوم نواز دُنیا سے رخصت ہو گئیں اور جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) کے کارروائی گروپ نے کارنر کر دیا ہے۔ نواز شریف کو کئی بار موقع ملا کہ جاوید ہاشمی کو پارٹی میں بڑا عہد دے کر واپس لے آئیں،مگر اُن کے اردگرد موجود خوشامدیوں نے یہ ممکن نہ ہونے دیا۔ ذرا غور فرمائیں کہ اس وقت مسلم لیگ(ن) کے جو لوگ آگے آ رہے ہیں، وہ سب نیب زدہ ہیں۔خواجہ آصف ہوں یا شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال یا خواجہ سعد رفیق، سب کے خلاف انکوائری چل رہی ہیں یا ریفرنس دائر ہونے والے ہیں۔ ایسے رہنماﺅں سے کسی بڑے کام کی امیدیں وابستہ کرنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں،پوری مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایسا سیاسی بندہ نظر نہیں آتا، جو اسے لیڈ کر سکے۔مَیں نے سیاسی بندے کی بات جان بوجھ کر کی ہے۔ ایسا سیاسی آدمی جس نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہوں،جس کی شخصیت کے بارے میں یہ تاثر موجود ہو کہ مشکل حالات میں ڈٹ جانے والی ہے،جسے بیرون ملک بھاگنے کی حاجت نہ ہو،جس نے اقامے نہ لئے ہوں اور جیل جانے سے نہ ڈرتا ہو،ایسا کون ہے اِس وقت مسلم لیگ (ن) میں؟

اب میاں برادران کو جاوید ہاشمی کی یاد آئے گی،جو آمر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے اور جیل میں بیٹھ کر بھی پارٹی چلائی،جنہوں نے مشکل حالات میں کبھی بیرون ملک جانے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔سیاسی جماعتیں چُوری کھانے والوں کے ذریعے نہیں چلتیں۔ ایک تو خود شریف برادران دورِ ابتلا کا مقابلہ بہادری سے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، جیل کی کوٹھری اُن کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں،خود نواز شریف یہ درخواست دے چکے ہیں کہ جیل کا ماحول اُن کے دِل پر اثر انداز ہوتا ہے۔شہباز شریف نے نیب کی حراست سے بچنے کے لئے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ اپوزیشن لیڈر، پھر چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بن کر اجلاس پر اجلاس رکھوائے تاکہ نیب سے بچا جا سکے۔ اب چونکہ وہ نیب کی حراست میں نہیں،اِس لئے عہدے بھی چھوڑ دیئے اور اسمبلی یا پی اے سی کے اجلاسوں سے بھی انہیں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ آج نواز شریف جب تنہائی میں بیٹھتے ہوں گے تو نجانے کیسی کیسی فلمیں اُن کے ذہن میں چلتی ہوں گی،انہیں اپنے سیاسی فیصلوں پر کس قدر غصہ آتا ہو گا،جس چودھری نثار علی خان کے کہنے پر انہوں نے جاوید ہاشمی کو اُس زمانے میں اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا تھا ،پھر جن کی مخالفت کے باعث وہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) میں واپسی کا پروانہ نہیں دے سکے تھے، آج وہ چودھری نثار علی خان کہاں ہے؟جاوید ہاشمی تو آج بھی ملتان میں بیٹھ کر نواز شریف کی حمایت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔انہوں نے نواز شریف کے

اُس بیانیہ کی مکمل حمایت کی جو انہوں نے ججوں یا جرنیلوں کی وجہ سے منتخب وزیراعظم کو بیک جنبش ِ قلم گھر بھیجنے کے خلاف اختیار کیا۔ وہ آج بھی اس بیانیہ کے مبلغ ہیں،لیکن باقی سب مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہیں۔مَیں جب تصور کرتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ(ن) کا صدر بنا دیا گیا ہے تو مجھے سارا سیاسی منظر بدلا ہوا لگتا ہے۔وہ موثر آواز جو اِس وقت مسلم لیگ(ن) کو منجدھار سے نکال سکتی ہے، صرف جاوید ہاشمی کے پاس ہے،جن پرنہ تو نیب کا کوئی کیس ہے اور نہ جنہیں انتقامی کارروائی کا کوئی خوف ہے، لیکن اُس کی کوئی گنجائش موجود نہیں، ایک ایسی جماعت میں جو شدید بحران سے دوچار ہے، آنے والے دِنوں میں جس کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہماری سیاسی قیادتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے بعد کسی کو سیاست دان سمجھتے ہی نہیں،انہیںجی حضوری کرنے والے چاہئے ہوتے ہیں،مگر ایسے لوگ نظریاتی ہر گز نہیں ہو سکتے۔ مسلم لیگ(ن) ایک نظریاتی جماعت نہیں ہے، ہاں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُس کا ایک بیانیہ ضرور ہے، جو نواز شریف نے دیا، جس میں ووٹ کو عزت دو اور منتخب وزیراعظم کی توقیر کرو، جیسے نکات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر نواز شریف کو صرف انہی دو باتوں کی وجہ سے نکالا گیا ہوتا تو وہ واقعی آج پاکستان میں ایک نظریے کی علامت ہوتے،مگر وہ تو کرپشن اور حقائق چھپانے پر نااہل ہوئے ہیں،دو بار سزا ہو چکی،

دونوں ریفرنسوں میں خود کو بے گناہ ثابت کرنے میں ناکام رہے۔نظریاتی آدمی کے ہاتھ بھی صاف ہونے چاہئیں، وہ اگر نہیں ہیں تو نااہلی کے بعد جمہوریت کی پاداش میں انتقامی کارروائی کا پروپیگنڈہ تو کیا جا سکتا ہے، شواہد سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لئے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے،اُن کی بیماری بھی اب سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔اُن کی جماعت اجنبی بن کر اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں لگتا ہے سب بُرے وقت میں اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں، ایسے مواقع پر صرف نظریاتی کارکن ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،بدقسمتی سے نظریاتی لوگ مسلم لیگ(ن) میں ہمیشہ ناپسندیدہ قرار پاتے رہے ہیں۔ سب سے بڑی مثال جاوید ہاشمی ہیں۔ پارٹی کو آمریت کے دور میں زندہ رکھنے والے کے خلاف اچھے دِنوں میں جو سلوک روا رکھا گیا، وہ اسے جسمانی معذور بنا گیا، پھر بے دِلی کے ساتھ پارٹی چھوڑی اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو ایک پل دِل نہ لگا۔ پھر نواز شریف کی محبت میں مسلم لیگ(ن) کی طرف رجوع کیا، مگر در وا نہ ہو سکا۔ اب شریف خاندان پھر مشکلات میں گِھر چکا ہے۔ پارٹی ایسے لوگوں کو سونپی جا رہی ہے جو اقتدار کے ساتھی ہیں، جن پر مشکل وقت آیا تو کچھ وعدہ معاف گواہ بن جائیں گے۔ آج پھر مسلم لیگ(ن) کو جاوید ہاشمی جیسے کارکن کی ضرورت ہے،مگر اُن کے لئے کوئی جگہ نہیں،پارٹی اُن لوگوں کے نرغے میں ہے، جنہوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہمیشہ نواز شریف کو نرغے میں لئے رکھا اور اب پارٹی پر قبضے کی سکیمیں بنا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں