5

تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ملک میں بجلی کی طلب 17 ہزار 304 میگاواٹ دستیاب بجلی 20 ہزار 500 میگاواٹ ہوگئی

اسلام آباد(سی پی پی )ملک میں بجلی کی طلب 17 ہزار 304 میگاواٹ اور دستیاب بجلی 20 ہزار 500 میگاواٹ ہو گئی ہے۔پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح ساڑھے 3 بجے تک ملک میں بجلی کی فراہمی طلب سے 3ہزار196 میگاواٹ زیادہ تھی اور ملک بھر میں 99 فیصد سے زائد فیڈر پر کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی. جبکہ دوسری جانب

پاکستان کی سمندری حدود سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے، سمندر کی گہرائی میں ہائیڈروکاربن کی موجودگی سامنے آئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، ذخائر نکالنے میں 3 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سمندری حدود میں تیل اور گیس کی تلاش میں اہم پیش رفت سامنے آ ئی ہے۔کراچی کے سمندر میں 5450 میٹر کی گہرائی پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی سامنے آئی ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کیکڑا ون بلاک میں ڈرلنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔جس کے بعد سمندر میں میں 5450 میٹر گہرائی پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی سامنے آئی ہیں، جواس بات کی طرف اشارہ کرتی ہےکہ یہاں پر آئل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ہائیڈرو کاربن کی موجودگی کے سیمپل ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا دیے ہیں۔اگلے 72 گھنٹوں میں اس کی رپورٹ سامنے آئے گی۔رپورٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر سے متعلق واضح ہو گا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل و گیس کے ذخائر تقریباً دریافت ہو چکے ہیں، تاہم ذخائر نکالنے میں کافی وقت لگے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر سمندر موجود تیل و گیس کے ذخائر کو نکالنے کیلئے 3 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔زیر سمندر تیل کے ذخائر 2 سال کے اندر نکالے جا سکیں گے، جبکہ گیس کے ذخائر 3 سال کے عرصے کے دوران نکالے جائیں گے۔ واضح رہے ڈرلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دئے گئے تھے۔ جبکہ تیل و گیس کی مقدار کے تعین کے لئے ٹیسٹنگ کا عمل کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 5 ہزار 470 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی۔ ٹیسٹنگ کا عمل 48 سے 72 گھنٹوں میں مکمل ہوگا، تیل و گیس کی مقدار کی مکمل رپورٹ ایک ہفتے میں تیار ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں