12

ایک اور ملک میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانونی قرار دے دی گئی

تائیوان (نیوزڈیسک) تائیوان میں ہم جنس پرستوں کی درمیان شادی قانونی قرار دے دی گئی پے۔،۔جس کے بعد یہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے والا پہلا ایشائی ملک بھی بن گیا ہے۔اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کی پارلیمنٹ نے اٴْس مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے،

جس کے تحت ہم جنس پرست افراد اب آپس میں شادیاں کر سکیں گے۔ اس قانون سازی سے تائیوان براعظم ایشیا کا ایسا پہلا ملک بن گیا ہے، جہاں ہم جنس پرستوں کو قانونی شادی کا حق مل گیا ہے۔ حکومت کے پیش کردہ مسودے میں قدامت پسند اراکین آخری وقت پر تبدیلی چاہتے تھے لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس مسودے کو پارلیمانی اکثریت سے منظور کیا گیا۔ اس قانون سازی کے بعد ہم جنس پرست افراد اپنی شادیوں کا اندراج سرکاری رجسٹریشن آفس میں بھی کروا سکیں گے۔ تائیوان کی عدالت نے مئی 2017 میں کہا تھا کہ قانون ہم جنس پرستوں کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔اور اس کے لیے عداالت پارلیمان کو قانون کی توثیق کے لیے دو سالا کا وقت دیا تھا۔ خیال رہے تائیوان نے ہم جنس پرستوں کی شادی پر ایشیا کا پہلا مسودہ قانون بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہم جنس پرستوں کی شادی بارے مسودہ قانون تائیوانی کابینہ کی طرف سے سامنے لایا گیا تھا جس کے تحت ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی تحفظ فراہم کیاجائیگا ۔ وزیراعظم سوتیسنگ جانگ کا کہنا تھا کہ یہ بل ریفرنڈم نتائج کے احترام میں لایا گیا ہے تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستوں کیلئے علیحدہ قانون امتیازی ہے وزیراعظم سیوکا کا کہنا تھا کہ اس قانون بارے تنازعات جنم لینے کی توقع ہے تاہم امید ہے کہ ہمارے ہم جنس پرست دوست تھوڑا سا مزید انتظارکرینگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں