15

اللہ کا قہر یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ چند روز قبل افغانستان میں 15 پولیس اہلکاروں کی ایک ہی واقعہ میں ہلاکت دراصل کیسے ہوئی ؟ خبر آپ کو بھی حیران کر ڈالے گی

کابل(ویب ڈیسک) افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالحکومت میں طالبان سے جھڑپوں کے دوران نیٹو کے فضائی حملے میں غلطی سے 17پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ دوسری جانب صوبہ قندوز میں افغان طالبان نے قائم آرمی بیس پر حملہ کرکے 26سکیورٹی اہلکاروں کو ہلا ک اور 11کو زخمی کر دیا ۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبائی کونسل کے سربراہ عطااللہ افغان نے کہا لشکر گاہ شہر کے باہر حملہ اس وقت کیا گیا جب افغان پولیس اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، حملے میں17پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ، فضائی حملہ ہلمندقندھار ہائی وے کے علاقے نہر سراج میں نیٹو کے ریزولیٹ سپورٹ مشن فورس کی جانب سے کیا گیا ۔ کابل میں موجود امریکی فو ج کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔گورنرہلمند محمد یاسین نے کہا فضائی حملے کی تحقیقات جاری ہیں ،دوسری جانب طالبان کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملہ امریکی فورسز کی جانب سے کیا گیا تھا۔ افغان وزارت داخلہ نے واقعے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعےکی حقیقی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ فضائی حملہ ہلمند- قندھار ہائی وے کے علاقے نہر سراج میں نیٹو کے ریزولیٹ سپورٹ مشن فورس کی جانب سے کیا گیا تھا۔کابل میں موجود امریکی فوج کی جانب سے مذکورہ حملے سے متعلق فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ہلمند کے گورنر محمد یٰسین نے کہا کہ فضائی حملے کی تحقیقات جاری ہیں، دوسری جانب طالبان کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ امریکی فورسز کی جانب سے کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مارچ میں افغانستان کے شمالی شہر قندوز میں طالبان کے حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 62 زخمی ہوئے تھے۔اس سے قبل افغان طالبان نے صوبہ قندوز میں قائم آرمی بیس پر حملہ کرکے 26 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ جنگ کے بعد امریکا اور طالبان امن عمل کے لیے براہ راست مذاکرات کررہے ہیں جس کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندہ خصوصی کے درمیان مذاکرات کا حالیہ دور رواں ماہ کے آغاز میں ہوا تھا۔ خیال رہے مارچ میں افغانستان کے شمالی شہرقندوز میں طالبان کے حملے میں 8افراد جاں بحق اور 62 زخمی ہوئے تھے،اس سے قبل افغان طالبان نے صوبہ قندوز میں قائم آرمی بیس پر حملہ کرکے 26سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور 11کو زخمی کر دیا ۔واضح رہے افغانستان میں 18سالہ جنگ کے بعد امریکہ اور طالبان امن عمل کےلئے براہ راست مذ ا کرات کررہے ہیں جس کےلئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندہ خصوصی کے درمیان مذاکرات کا حالیہ دور رواں ماہ کے آغاز میں ہوا تھا۔اس سے قبل خبر یہ تھی کہ افغانستان میں نیٹو کے فضائی حملے کی زد میں غلطی سے افغان پولیس اہلکار آگئے جس کے نتیجے میں 17 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان جنگجوؤں اور افغان پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ جاری تھی کہ اتحادی افواج نے فضائی حملے میں طالبان کو نشانہ بنانا چاہا لیکن غلطی سے پولیس اہلکار زد میں آگئے۔صوبے کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فضائی حملہ قندھار ہائی وے کے علاقے نہر سراج میں نیٹو ریزولیٹ سپورٹ مشن فورس نے کیا، نیٹو سے مقامی انتظامیہ نے جاری طالبان جھڑپ میں تعاون مانگا تھا، نیٹو کا ہدف طالبان جنگجو تھے لیکن نشانے پر غلطی سے افغان پولیس اہلکار آگئے۔ دوسری جانب ہلمند کے گورنر محمد یاسین نے نیٹو فضائی حملے میں افغان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاہم کمیٹی کے دائرہ کار اور اختیارات کے حوالے سے کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ امریکی فوج نے اس حوالے سے کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں