20

اپنے ہی جیسے مردوں اور عورتوں کی کشش ۔۔۔۔۔ کیا یہ رجحان ایک مرض ہے ؟ ہم جنس پرستی پر بی بی سی کی ایک خصوصی معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) سائنس ایک عرصے تک اس خیال کو ترک کرتی رہی ہے کہ کسی انسان کے جنسی رجحانات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔بہت سے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جو چیز بیماری نہیں اس کا ’علاج‘ بھی ممکن نہیں۔ سنہ 1973 میں امریکہ نے ہم جنس پرستی کو دماغی بیماری کے زمرے سے باہر نکال دیا تھا۔

نامور صحافی پابلواچوا بی بی سی کے لیے اپنی ایک اسپیشل رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت نے سنہ 1990 میں ایسا کیا۔دوسری طرف ہوموفوبیا تب سے بہت سے محققین کی توجہ حاصل کر رہا ہے تاکہ اس کی مختلف وجوہات کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے۔سنہ 1960 میں ہوموفوبیا کی اصطلاح لانے والے امریکی ماہر نفسیات جارج وین برگ کے مطابق ہوموفوبیا ’ہم جنس پرستوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا خوف ہے۔‘یونانی لفظ ’فوبیا‘ کا مطلب ’کسی چیز کاغیر منطقی خوف‘ ہے۔سنہ 1972 میں اپنی کتاب ’سوسائٹی اینڈ دا ہیلتھی ہومو سیکشوئیل‘ میں ڈاکٹر وین برگ نے لکھا ’ میں کبھی بھی مریض کو صحت مند تصور نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ ہم جنس پرستی کے خلاف اپنے فوبیا پر قابو نہ پا لے۔‘یونیورسٹی آف روم ٹارویرگاٹا میں جنسی طبیعات کے شعبے سے منسلک ایمینوئیل اے جاننی بحث کرتے ہیں کہ ہوموفوبیا اس مسئلے کا صرف ایک سرا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ بعض شخصی خصوصیات سے منسلک ہے اور اسے تشدد کے ساتھ ملا کر نفسیاتی بیماری کے طور پر تشخیص کیا جا سکتا ہے۔سنہ 2015 میں جرنل آف سیکشوئیل میڈیسن میں چھپنے والی ڈاکٹر جاننی کی ایک تحقیق نے تنازعہ پیدا کر دیا جن میں انھوں نے ہوموفوبیا کو شدید نفسیاتی مرض، ناپختہ دفاعی طریقہ کار اور والدین سے خوفناک وابستگی سے منسلک کیا۔اس تحقیق کو ناقدین نے ایل جی بی ٹی کی حمایت میں تیار کے جانے والے کوڑا کرکٹ کے طور پر لیا۔لیکن بی بی سی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جاننی نے اپنی تحقیق کا دفاع کیا اور ہوموفوبیا کا شکار شخصیت کو کمزور بیان کیا۔

انھوں نے کہا ’ یہ سائنسی اصلاحات نہیں ہیں لیکن میں اس کی بہتر سمجھ بوجھ کے لیے اس کا استعمال کر رہا ہوں۔‘انھوں نےاپنی تحقیق میں نام نہاد ہوموفوبیا کی درجہ بندی کا دیگر نفسیاتی رجحانات کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے اطالوی یونیورسٹی کے 551 طلبا سے رائے لی اور ان کے خیالات کی بنا پر اس کو جانچا۔انھوں نے اپنی تحقیق سے اخذ کیا کہ وہ افراد جو ہوموفوبیا کے طرف شدت سے راغب تھے ان کی شخصیت میں ذہنی انتشار اور غیر پختہ دفاع تھا جبکہ وہ افراد جو والدین کے ساتھ لگاؤ رکھتے تھے ان میں ہوموفوبیا کا رحجان کم تھا۔انھوں نے کہا ’یہ سب دماغی مسائل ہیں جن کا تھراپی کے ذریعے علاج ممکن ہے۔‘ڈاکٹر جاننی کہتے ہیں ’شاید آپ کو ہم جنس پرست رویے پسند نہ ہوں لیکن آپ کو یہ بھی نہیں کہتے رہنا چاہیے کہ میں ہم جنس پرست نہیں، مجھے ہم جنس پرستوں سے نفرت ہے، میں نہیں چاہتا کہ ہم جنس پرست میرے گھر آئیں، مجھے سکول میں ہم جنس پرست استاد نہیں چاہیے۔‘’صدیوں اس بارے میں بات کر کے کہ کیا ہم جنس پرستی ایک بیماری ہے ہم پہلی بار یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اصل مرض ہوموفوبیا ہے۔‘ڈاکٹر جاننی اور ان کی ٹیم کی جانب سے کی گئی ایک اور تحقیق میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ افراد کی شخصیت کے بننے میں ارد گرد کا ماحول اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی جانا کہ ہومو فوبیا رحجانات کو کیسے معاشرہ ان میں بے جا مردانیت کے احساسات، عورت سے نفرت اور اخلاق پرستانہ رویے سے منسلک کرتا ہے۔

سنہ 2017 میں انھوں نے تین مخلتف ممالک جن میں کیھتولک ملک اٹلی، مسلمان ملک البانیہ اور قدامت پسند ملک یوکرائن کے 1048 طلبا کے نتائج کا موازنہ کیا۔ڈاکٹر جاننی کہتے ہیں ’ دلچسپ بات یہ تھی کہ مذہب کا بذات خود ہوموفوبیا سے کوئی تعلق نہیں۔ تینوں مذاہب میں یہ بنیاد پرست مذہبی عقائد تھے جنھوں نے ہوموفوبیا کو کسی حد تک متاثر کیا۔‘اعتدال پسند مذہبی آوازیں آپ کو بتائیں گی کہ مذہب ہوموفوبیا کی پشت پناہی نہیں کرتا۔روس کی آرتھو ڈاکس چرچ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’ہم گناہ سے نفرت کرتے ہیں لیکن ان سے نہیں جو گناہ کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ چرچ اس بارے میں ترمیم نہیں کر سکتا کہ ہم جنس پرستی گناہ ہے کیونکہ یہ عقیدہ خدا کی جانب سے آتا ہے، چرچ کی جانب سے نہیں۔‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرست تعلقات رکھنے والے اپنے گناہوں کا شکار ہوتے ہیں اور انھیں روحانی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔‘تاہم کچھ لوگوں کے اس بارے میں سخت خیالات ہیں۔سنہ 2012 میں ماسکو میں ایک ہم جنس پرست کلب پر مسلح افراد کے حملے کے بعد روس کے ایک پادری سرجائی ریبکو نے انٹرویو میں کہا ’ مقدس صحیفے میں ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ غیر روایتی رجحانات رکھنے والوں پر پتھر برسائے جائیں۔‘’میں مکمل طور پر ان لوگوں سے متفق ہوں جو ہمارے ملک سے اس قسم کے لوگوں کا صفایا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘لیکن مسٹر کپزہائیڈ کا کہنا ہے ’عہد نامہ جدید میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں جو گناہ گاروں پر پتھر برسانے کی حمایت کرے۔‘انھوں نے کہا ’ بالکل اسی طرح جیسے زنا کا گناہ مجرمانہ نہیں ہے،

چرچ ہم جنس تعلقات کو مجرمانہ قرار دینے کی وکالت نہیں کرتی۔‘آئرلینڈ میں کیتھولک چرچ میں ایل جی بی ٹی افراد کی وکالت کرنے والے ٹائرنن بریڈی کا کہنا ہے ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے چرچ رہنماؤں کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ایل جی بی ٹی کمیونٹی یعنی ہم جنس پرستوں کے خلاف خوف اور غصہ پیدا کرتی ہے۔‘وہ ایل بی جی ٹی کمیونٹی کے حق میں چلائی جانے والی مساوی مستقبل نامی مہم کے ڈائریکٹر ہیں جس کا آغاز گذشتہ برس اگست میں پوپ فراسس کے دورہ ڈبلن کے دوران کیا گیا تھا۔’سارا ہوموفوبیا سکھایا جاتا ہے۔ ہم ہوموفوبیا کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے، ہم ہوموفوبیا کو کہیں اور سے جذب کرتے ہیں۔‘دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی افراد کی جانب رویے بدل رہے ہیں۔ جنوبی اور مرکزی امریکہ، جنوبی ایشیا، مشرقی یورپ، انڈیا اور چین لیکن وہ صدیوں استعمال ہونے والی منحرف زبان کو ایک رات میں نہیں بدل سکتے۔’لیکن چرچ لوگوں کی زندگیوں کا صرف ایک حصہ ہے لیکن اور بھی جگہیں ہیں جہاں سے ہم ہوموفوبیا سیکھ رہے ہیں، کھیل، سیاست اور معاشرہ۔ لہذا قدامت پسند ممالک کا کلچر مذہب کے سخت پہلوؤں کو نافذ کر سکتا ہے۔‘’وہ ممالک جہاں ہمیں ہوموفوبیا زیادہ نظر آتا ہے وہاں ایل جی بی ٹی افراد زیادہ پوشیدہ رہتے ہیں کیونکہ وہاں خوف اور بدگمانی پیدا کرنا آسان ہوتا ہے۔‘پیٹرک آرگرزآنکا یونیورسٹی آف ٹینیسی میں شعبہ نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جرنل آف کاؤنسلنگ سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ان کی تحقیق کے مطابق ہوموفوبیا کی ایک اور وجہ بھی ہے:

بے بنیاد خیالات۔سنہ 2016 میں انھوں نے امریکی کالجز میں زیر تعلیم 645 طلبا کا ایک نمونہ لیا اور ہوموفوبیا کی سطح دیکھنے کے لیے ان کا معائنہ کیا۔پھران کو چار عقائد پر نمبر دیے گئے:1) کسی جنسی اقلیت میں پیدا ہونے والے افراد ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں۔2) ایک جنسی گروپ سے تعلق رکھنے والے سب افراد ایک جیسے ہوتے ہیں۔3) ایک فرد کا صرف ایک ہی جنسی رجحان یا پسند ہو سکتی ہے۔4) جب آپ ایک گروپ سے مل لیں تو آپ پورے گروپ کو جان لیتے ہیں۔غیر متوقع طور پر محققین کو امریکی کالجز کے طلبا میں اس جنسی اقلیت کے ایسے ہی پیدا ہونے والے افراد کے حوالے سے کافی حد تک رضامندی پائی گئی۔محقیقین کو غیر متوقع طور پر امریکی کالجوں کے طلبا میں بڑے پیمانے میں یہ رائے ملی کہ کسی جنسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ رائے ہم جنسوں کے علاوہ دیگر طلبا میں بھی مقبول تھی۔ڈاکٹر گرزانکا کے لیے یہ لوگوں کے دماغ میں موجود ’مضمر تعصب‘ ہے جو کچھ خاص تعصبات کی طرف راغب کرتا ہے۔وہ یقین رکھتے ہیں کہ ہوفوبیا کو کم کرنے کے لیے لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دینا ہو گی۔وہ کہتے ہیں ’ہمیں تعلیم اور عوامی معلومات کی مہمیں چلانا ہوں گی اور ان عقائد کے گرد موجود ہوموفوبیا مخالف پالیسیوں کو ترتیب دینا ہو گا کہ ہم جنس پرست سب ایک جیسے ہیں اور ان کا جنسی رجحان تبدیل نہیں ہوتا۔‘وہ کہتے ہیں: ’جنسی اقلیتوں میں غیر معقول خوف جبلتاً نہیں آتا۔ انسانی تاریخ میں ایسے وقت آئے ہیں جب ہم جنس پرست رویوں کو قبول کیا گیا، انھیں قانونی اختیارات دیے گئے اور حتیٰ کہ عزت دی گئی۔‘یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان افراد کے بڑے پیمانے پر سامنے آنے سے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ہم جنس پرستوں کے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔گیلپ سروے کے مطابق سنہ 1999 میں تقریباً دو تہائی امریکیوں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کی مخالفت کی تھی جبکہ صرف ایک تہائی افراد نے اس کو جائز قرار دیا تھا۔لیکن 20 برسوں بعد اس رجحان میں تبدیلی آ چکی ہے۔ اب دو تہائی اس کی حمایت جبکہ ایک تہائی ہم جنس پرستوں کے شادی کی مخالفت کرتے ہیں۔محققین کے مطابق ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے 10 فیصد سے زیادہ بالغ اب اپنے ہم جنس ساتھی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں اور ان کے سامنے آنے سے ہوموفوبیا سے منسلک رویوں پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ کیا ہوموفوبیا کا ’علاج` ممکن بھی ہے یا نہیں، لیکن محققین کو یقین ہے کہ وہ اسے سمجھنے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں